Chapter 8

Page 1 of 1 100% Completed ~4 min read

Chapter 8 سدرہ اپنی پورانی یادیں ظاہر کرتے ہوئے کہا "بس سر، مجھے اپنے پاپا کی یاد آ گئی تھی، وہ جب بھی میرے لیے کچھ لاتے تو میں ان سے لڑتی تھی کہ آپ نے میرے لیے پنک کلر میں کیوں نہیں لائے اور ان سے ناراض ہو جاتی پھر دوسرے دن پاپا وہی چیز میرے لیے چینج کروا کر پنک کلر میں لاتے تھے۔" وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا "اور سر آپ کو پتہ ہے۔ مجھے کبھی کبھی تو لگتا تھا کہ پاپا جان بوجھ کر دوسرے کلر میں چیزیں لاتے تھے تانکہ میں ان سے لڑائی کروں" وہ بچوں کی طرح خوش ہو کر بتا رہی تھی۔اور نا چاہتے ہوئے بھی سید زادے کی آنکھیں بھیگتی جا رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ نوٹ کرتی اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور پارکنگ سے نکال لگا۔ جب ٹاٸم دیکھا تو دو دو بج رہے تھے سید زادے نے صبح بہت ٹائم سے ناشتہ کیا تھا اور اب اسے بھوک لگ رہی تھی اس نے سدرہ سے پوچھا "سدرہ کیا تمہیں بھوک نہیں لگی؟" "اتنی تو بھوک نہیں لگی ہے سر" سدرہ نے کہا "مطلب کہ تمہیں بھوک لگی ہے۔ اچھا تو ایسا کرتے ہیں۔ کہ شیر مال لیتے ہیں اور ساتھ میں کباب" سید زادے نے اتنا کہنے کے بعد پوچھا "کیا خیال۔"سدرہ خوش ہوتے ہوئے کہا "سر ، الله کرے آپ کو روز ایسے خیال آتے رہیں"سدرہ کی اس بات پر سید زادے کو ہنسی آ گئی اب وہ بلکل ایک گھریلو اور شرارتی لڑکی کی طرح باتیں کر رہی تھی۔سید زادے کی ہنسی کو دیکھ کر سدرہ نے کہا "ماشاء الله ،سر آپ ہنستے بھی ہیں۔ مجھے تو لگا تھا کے آپ کھڑوس" اتنا کہہ کر وہ خاموش ہوگئی سدرہ کو خاموش دیکھ کر کہا"بولو بولو، مجھے کافی لوگ ایسے ہی بولتے ہیں" اس نے ہنستے ہوئے کہا اب وہ دونوں کچی آبادی جو کہ ندی اور فیکٹری ایریا کے درمیان تھی اس طرف جا رہے تھے کہ راستے میں ایک ہوٹل سے سید زادے نے پانچ شیر مال اور آٹھ کباب پارسل کروا لئے۔ پھر گاڑی کو خادم حسین کے مکان کی طرف بڑھا لیا پھر کچھ ہی دیر میں گاڑی خادم حسین کے دروازے پر  روکی ہی تھی کہ دروازہ کھل گیا جیسے کہ وہ لوگ ہمارا ہی ویٹ کر رہے تھے۔سید زادے نے سدرہ کے کان میں کہا "سدرہ دوپٹہ سر پر لے لو" اس کے بعد وارننگ دیتے ہوئے کہا "اور ہاں آئندہ کبھی بھی سر سے نہ اترے اور نہ کسی کے سامنے"سید زادے کی اس بات پر سدرہ نے کہا "سوری سر، اب کبھی بھی سر سے نہیں اترے گا۔ اور یہ جینز پینٹ آئندہ کبھی بھی نہیں پہنوں گی سر"تبھی خادم حسین کا دس سالہ بیٹا جو شاید ابھی ابھی سکول سے آیا تھا اور یونفارم بھی اتاری نہیں تھا اس نے گاڑی کے پاس آ کر کہا "السلام علیکم چاچوں""وعليكم السلام کیسے ہو حمزہ" سید زادے نے پوچھا "چاچوں بلکل فٹ" حمزہ نے جواب دیکر پوچھا "آپ سناؤ چاچو؟" "میں بھی ٹھیک ہوں پتر۔" سید زادے نے حمزہ سے کہا "شادی وادی تو نہیں کر لی چاچو؟" حمزہ نے خوش ہوتے ہوئے پوچھا "بدتمیز کزن ہے میری" سید زادے نے حمزہ کو ڈانٹا پھر سوچا 'کراچی کے بچوں سے اتنی امید تو رکھا جا سکتا ہے۔'"سوری چاچو" حمزہ نے معزرت چاہتے ہوئے کہا ایسا لگتا تھا کہ خادم حسین کی بیوی اور بچے سید زادے کو اچھی طرح سے جانتے تھے کیونکہ اکثر وہ عید وغیرہ پر خادم حسین اور اس کے بچے ملنے آتے رہتے تھے اور خادم حسین کے گھر عید کے دن قربانی کا بکرا بھی ذبح کیا کرتا تھا خادم حسین ذات کا بلوچ تھا جو انتہائی شریف اور اچھا انسان تھا (آپ کو کیا لگتا ہے سدرہ اچھے ماحول میں رہ کر اچھی ہوپائی گی یا اسی دلدل میں واپس چلی جائے گی جاننے کے لیے پڑھتے رہئے اگلی قسط)

Next Ep