Chapter 10

Page 1 of 1 100% Completed ~3 min read

Chapter 10 تبھی سید زادے کو سیڑھیاں چڑھنے کی آواز آئی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اس کا خیال تھا کہ بھابھی چائے لے کر آئی ہوں گی۔مگر سید زادے کا خیال غلط نکلا چائے سدرہ لے کر آئی تھی ایک پل کو تو وہ آنکھ چھپکنا ہی بھول گیا کہ یہ وہی لڑکی ہے جو جسم فروسی جیسے گندھے دھندے سے وابستہ تھی۔ سدرہ کی ہائٹ بھی اچھی تھی اور اس وقت اس نے وہی ڈریس پہنا تھا جو سید زادے نے کہا تھا یہ بھی لے لو۔ وہ بے بی پنک کلر کا شفون کا فراک تھا ساتھ چوڑی دار پاجامہ سلیقے سے سر پہ ڈوپٹہ لئے وہ بہت ہی پیاری لگ رہی تھی۔ سید زادے کو ایسے گھورتے دیکھ کے شاید وہ بھی پزل ہو گئی تھی "سر کیا ہوا" سدرہ کی آواز نے اسے واپس ہوش میں لے آئی اس طرح کی حرکت کرنے سے اسے کافی شرمندگی فیل ہوئی لیکن اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت۔"کچھ نہیں" سید زادے نے بات کو ڈالتے ہوئے کہا "تم نے چینج کب کیا؟" اس نے چائے کا کپ لیتے ہوئے پوچھا۔ "سر آپ لوگ جب سامان شفٹ کر رہے تھے اسی وقت چینج کر لیا تھا" سدرہ نے جواب دیا "گڈ تم نے اچھا کیا، جو چیج کر لیا۔" سید زادے نے اتنا کہنے کے بعد کہا "اچھا اب میں گھر چلا جاؤں گا۔" پھر اس نے سدرہ کو سمجھاتے ہوئے کہا "اگر تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بھابھی کے نمبر سے مجھے کال کر لینا" اس نے جیب سے وزٹنگ کارڈ سدرہ کو دیتے ہوئے کہا۔سید زادے کو سدرہ کی مدد کر کے دل بہت خوش تھا ایک عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا ایسا لگ رہا تھا کہ دنیا جہاں کی کامیابی مل گئی ہو۔خادم حسین کے محلے سے نکل کر سید زادے نے سیدھے اپنے گھر کا رخ کیا اس کی حالت بہت خراب ہو رہی تھی۔اس لیے کہ اس نے کل شام آفس سے آ کر اس نے ٹی شرٹ اور ٹروزر ابھی تک وہی پہنا ہوا تھا۔کیونکہ رات جب ہاسپٹل گیا تھا تو اس کے بعد سدرہ کو لفٹ دی اور پھر یہ سب ہوا جس کی وجہ سے ابھی تک گھر نہیں جا سکا تھا۔ اور پھر اب ماموں کے گھر جانا تھا اس لئے چینج کرنا ضروری تھا۔سید زادے نے چینچ کرنے کے لئے بلیک پینٹ اور وائٹ شرٹ کا انتخاب کیا اور جیسے ہی وہ چینج کر کے گھر سے نکلا ہی تھا کہ ماموں کی کال آ گئی۔"شاہ صاحب ابھی تک آپ پہنچے نہیں تسی ساڑھے چھے ہو گئے ہیں" اس کے ماموں نے کہا "بس ماموں بیس منٹ میں آیا۔" سید زادے نے کہا "جلدی آ پتر۔" اس کے ماموں نے بیچینی سے کہا اور کال کاٹ دی'الله خیر کرے ماموں کی ایک دن میں بارہ کالز آگئی کہیں کوئی مسئلہ تو نہیں ہو گیا' سید زادے نے اپنے خیالات میں کہا (کیا مسئلہ تھا سید زادے کے ماموں کا کیا سدرہ کو پنا دینے کا معلوم تو نہیں ہوگیا انہیں معلوم ہوگا ہے یہ خبر دی کسنے جاننے کے لیے پڑھتے رہے اگلی قسط)

Next Ep