چیپٹر 4: شک کا سایہ
باب 4: شک کا سایہ لاہور پولیس ہیڈ کوارٹر کا کمرہ نمبر 102 دھوئیں اور فائلوں سے بھرا ہوا تھا۔ انسپکٹر جنید کی آنکھوں میں سرخی تھی، جو پچھلی کئی راتوں کی بے خوابی کا پتہ دے رہی تھی۔ اس کی میز پر وہ چھوٹی سی رسیڈ پڑی تھی— ہائی کورٹ کینٹین کی ایک عام سی پرچی، لیکن جنید کے لیے یہ کسی بم کے دھماکے سے کم نہیں تھی۔ "ہائی کورٹ کینٹین۔۔۔" جنید نے دانتوں تلے ہونٹ دباتے ہوئے سوچا۔ "قاتل کوئی عام مجرم نہیں ہے۔ وہ قانون کی کتابیں پڑھتا ہے، وہ کالی قمیض اور سفید شلوار کے پیچھے چھپے بھیڑیوں کو جانتا ہے۔" اس نے اپنے سپاہی کو حکم دیا کہ پچھلے تین دنوں میں اس کینٹین سے کھانا لینے والے تمام وکلاء اور کلرکوں کا ریکارڈ نکالا جائے۔ اسے یقین تھا کہ 'منصف' نامی یہ بلا وہیں کہیں چھپی ہوئی ہے۔ اسی دوپہر، مال روڈ کے ایک پرانے چائے کے ڈھابے پر، زریاب خان اطمینان سے بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ذرہ برابر بھی شکنج نہ تھی، لیکن جیسے ہی اس نے جنید کو اپنی طرف آتے دیکھا، اس کی چھٹی حس بیدار ہوگئی۔ "زریاب! تمہارے چہرے پر یہ سکون دیکھ کر کبھی کبھی مجھے حسد ہوتا ہے،" جنید نے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز میں ایک عجیب سی کاٹ تھی۔ زریاب نے اخبار تہہ کیا اور مسکراتے ہوئے چائے کا گھونٹ بھرا۔ "جس کا ضمیر صاف ہو جنید، اسے سکون کے لیے نیند کی گولیوں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خیر سناؤ، چوہدری رفیق کے کیس کا کیا بنا؟" جنید نے غور سے زریاب کی آنکھوں میں دیکھا، جیسے وہ اس کی روح کے اندر جھانکنا چاہتا ہو۔ "کیس تو بند ہو گیا زریاب، لیکن ایک نئی فائل کھل گئی ہے۔ قاتل نے ایک غلطی کی ہے۔ اس نے جائے وقوعہ پر ایک سراغ چھوڑا ہے۔۔۔ ہائی کورٹ کینٹین کی ایک رسیڈ۔" زریاب کا دل ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بھول گیا، لیکن اس نے اپنی تربیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذرہ برابر بھی ردِعمل ظاہر نہ کیا۔ "رسیڈ؟ تو اس کا مطلب ہے کہ تم کسی وکیل کو ڈھونڈ رہے ہو؟ جنید، عدالت میں ہزاروں لوگ آتے ہیں، کسی ایک پرچی کی بنیاد پر تم پورے قانونی نظام کو مشکوک نہیں بنا سکتے۔" "میں پورے نظام کی بات نہیں کر رہا،" جنید نے میز پر جھکتے ہوئے سرگوشی کی۔ "میں اس کی بات کر رہا ہوں جو قانون کے نام پر قتل کر رہا ہے۔ زریاب، اگر وہ میرا دوست بھی ہوا، تب بھی میں اسے PPC کی دفعہ 302 کے تحت پھانسی کے پھندے تک پہنچاؤں گا۔" زریاب نے ایک ہلکی سی ہنسی ہنسی۔ "قانون کی یہی تو خوبصورتی ہے جنید۔ یہ جذبات پر نہیں، ثبوتوں پر چلتا ہے۔ اور ثبوت تمہارے پاس صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے۔" جب زریاب وہاں سے نکلا تو اس کے ماتھے پر پسینہ تھا۔ اسے یاد آیا کہ رفیق کے گودام میں لڑائی کے دوران اس کی جیب سے کچھ گرا تھا۔ وہ اس کی زندگی کی پہلی اور شاید سب سے بڑی غلطی تھی۔ گھر پہنچ کر اس نے اپنے خفیہ بیسمنٹ کا دروازہ کھولا۔ سامنے لگی دیوار پر اب ایک نئی تصویر لگی تھی— سیٹھ داؤد۔ وہ لاہور کے زیرِ زمین سنڈیکیٹ کا بے تاج بادشاہ تھا، جو دفعہ 120-بی (مجرمانہ سازش) کا ماہر تھا اور پولیس کے اعلیٰ افسران اس کی جیب میں تھے۔ زریاب نے اپنے لیپ ٹاپ پر جنید کے کمپیوٹر کو ہیک کرنے کی کوشش شروع کی۔ اسے دیکھنا تھا کہ جنید کے پاس اس کے خلاف اور کیا کیا ہے۔ اچانک، بیسمنٹ کے اندھیرے میں اس کے فون کی سکرین روشن ہوئی۔ ایک گمنام نمبر سے میسج آیا تھا: "آپ کا لوگو (Logo) بہت خوبصورت ہے، مقتول کی چھاتی پر جچتا بہت ہے۔ لیکن یاد رہے زریاب خان، شکاری کا بھی ایک شکار ہوتا ہے۔" زریاب کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ اسے کسی نے پہچان لیا تھا؟ یا یہ محض ایک جال تھا؟ اس نے اپنا پستول چیک کیا اور ماسک اٹھایا۔ اب یہ جنگ صرف قانون اور انصاف کی نہیں رہی تھی، بلکہ بقا کی جنگ بن چکی تھی Chapter 1 Chapter 2 Chapter 3 Chapter 4 [Novaflix.sbs]