Chapter 13

Page 1 of 2 50% Completed ~4 min read

Chapter 13 "السلام علیکم" ایک بہت ہی سریلی اور با وقار آواز سید زادے کی سماعت سے ٹکرائی دل میں اک دم سکون اتر گیا"وعلیکم اسلام ،کیسی ہو سدرہ، تمہاری طبیعت کیسی ہے؟" سید زادے نے پوچھا "سر میں بلکل ٹھیک ٹھاک ہوں" سدرہ نے کہا پھر پوچھا "آپ کیسے ہو یہ بتاؤ؟" "میں بھی ٹھیک ہوں" سید زادے نے کہا اور پوچھا "ناشتہ کیا تم نے اور تمہیں نیند تو اچھی سے آئی ہے نا۔""جی سر مینے ناشتہ کیا ہے۔ اور وہ بھی آپ کے شیر مال اور کباب سے" سدرہ نے کہا "ہاہاہاہا" سید زادے نے ہنستے ہوئے کہا "واؤ ویسے مجھے بھی بہت پسند ہیں شیرمال"سدرہ نے پوچھا "آپ نے ناشتہ کیا سر؟" لہجے میں فکر تھی"نہیں ابھی تو آنکھ کھلی ہے۔ تو میں آفس جا کر کرلوں گا" سید زادے نے کہا "لازمی کیجئے گا پلیز" اب کی بار سدرہ کے الفاظ میں فکر کے ساتھ التجا بھی تھی "اب تو کھانے کا وقت ہو رہا ہے۔ تو لنچ کروں گا" سید زادے نے کہا "نہیں سر پلیز، آپ کچھ ہلکا سا کھا لینا، وہ کیا ہے نا کہ انسان کو سو کر اٹھنے کے بعد ناشتہ کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایک اچھے اور صحت مند جسم اور دماغ کے لئے" سدرہ نے فکرمندی سے کہا "اچھا ٹھیک ہے کھا لوں گا کچھ۔" سید زادے نے سدرہ کی بات مانتے ہوئے کہا پھر کہا "او کے کال بند کرتا ہوں تم اپنا خیال رکھنا اور کسی چیز کی ضرورت ہو تو کال کروا لینا""ٹھیک ہے سر ،آپ بھی اپنا خیال رکھیئے گا پلیز" سدرہ نے کہا "او کے اللہ حافظ" سید زادے نے کہا "اللہ حافظ سر۔" سدرہ نے کہا اور فون بند کردیا کچھ تو خاص ہے اِس لڑکی میں یہ کیا ہو رہا ہے سید زادے کو وہ اِتنا اُس کے بارے میں کیوں سوچ رہا ہے سدرہ سے بات کر کے جہاں اس کا دل بہت پرسکون ہو گیا تھا وہی طبیعت پر اداسی بھی چھا گئی تھی۔آفس جانے کا دل نہیں کر رہا تھا اس لئے باس کو طبیعت خرابی کا میسج کر کے پھر سو گیا۔ لگاتار دو دن کی چھٹی کے بعد سید زادہ آفس آیا تو کام کا انبار لگا ہوا تھا اگلے تین دن سدرہ سے بات کرنے کے لئے بھی وقت نہیں ملا جب گھر آتا تو بیگم کی کال آ جاتی اور پھر بات کرتے کرتے سو جاتا۔یہ سوچ کر کہ 'سدرہ سے صبح اٹھ کر کال کروں گا' لیکن جب سید زادہ صبح دیری اٹھتا ہے تو یہی مسئلہ ہوتا ہے کہ 'آفس کے لئے لیٹ ہو رہی ہے ناشتہ کر لوں یہ کر لوں وہ کر لوں پھر کال کرتا ہوں' اسی چیز میں تین دن گزر گئے۔مگر ان تین دنوں میں، سدرہ سید زادے کے دل و دماغ سے، ایک بار بھی سکپ نہیں ہوئی صبح سنڈے تھا اس نے سوچا کہ 'کل اسے سی ویو پر لیکر جاؤں گا وہ کچھ بہتر فیل کرے گی۔'سید زادے کو آفس ورکر کے ساتھ یہ بڑا مسئلہ ہوتا ہے۔ پورا ویک بندے کی صبح جلدی آنکھیں نہیں کھلتیں ہے۔ اور سنڈے کو ایسے جلدی آنکھ کھل جاتی ہے جیسے کسی کے گھر لڑکی دیکھنے جانا ہو۔سید زادے کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا تھا لیکن آج آنکھیں کچھ زیادہ ہی جلدی کھل گئی تھیں شاید اِس کی وجہ یہ تھی کہ 'سدرہ کو کہا تھا کہ میں سنڈے کو آؤں گا۔'لیکن ابھی تو صرف آٹھ بج رہے تھے اس لئے سید زادہ دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگا لیکن نیند نہیں آئی۔ پھر اس نے لیپ ٹاپ آن کیا اور ویسے ہی ویپ سائٹ وزٹ کرنے لگا۔کچھ دیر ایسے ہی دنیا کی سیر کرنے کے بعد کچھ سوچ کر سید زادے نے اپنی بیگم کا نمبر ملایا دیا۔ اور سوچا کہ 'سدرہ کے بارے میں ابھی مونیبہ سے بات کرنا بیوقوفی ہے' کیوں کہ مونیبہ نے فوراً کہنا تھا کہ 'میری بات کروائیں سدرہ سے' اور وہ ابھی یہ نہیں چاہتا کہ فلحال مونیبہ سدرہ سے بات کرے۔ہو سکتا ہے مونیبہ کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جاتی جو سدرہ ڈسہارٹ کرتی۔ جس کنڈیشن میں سدرہ تھی یہی بہتر تھا کے اُسے وقت دیا جاتا۔لیکن مونیبہ کو بتانا بھی ضروری تھا کیونکہ اس طرح چھپانا مونیبہ کا بھروسہ توڑنے والی بات تھی۔ اور اگر

CONTINUE READING
12
Next Page