Chapter 14
Chapter 14 سید زادہ یہی سب سوچتے ہوئے کال پہ کرنے کا انتظار کرتا رہا پر کافی دیر تک بیل جاتی رہی لیکن مونیبہ نے کال پک نہیں کیا پھر یاد اسے آیا کہ رات کو لڑائی ہوئی تھی اس لئے اب تو میڈم زرہ نکھرے کرے گی ویسے بھی ہر روز رات کو ان دونوں کی بات کا اینڈ لڑائی پر ہی ہوتا تھا وہ پڑھے لکھے پاگل تھےجب دوسری بار سید زادے نے کال کی تو ایک بیل کے جاتے ہی فوراً کال رسیو کر لی گئی ان کا ایک اصول تھا کہ لڑائی کے بعد جب کال پر بات ہوتی تھی تو وہ دونوں سلام دعا نہیں کرتے تھے ڈریکٹ پوچھتے تھے "حکم کریں کال خیر سے کی"سید زادے نے من ہی من میں سوچا 'الله پاک کا شکر ہے ہم دونوں رخصتی سے پہلے ہی میاں بیوی والی فلنگ میں اچھے خاصے ایکسپرٹ ہو چکے تھے'ابھی بھی یہی کچھ ہوا کال پک کرتے ہی سید زادے کی بیگم نے کہا "جی فرمائیں صبح صبح کیسے یاد کیا۔""تم ملکہ برطانیہ ہو نا ایک فائل پر تمہاری سائن لینے تھے" سید زادے نے تنزیہ اندر میں کہا "کیسے یاد کیا" سید زادے نے اپنے اسی انداز میں کہا "وڈی آئی لیڈی ڈیانا"سید زادے نے چڑ کر جواب دیا۔"اگر یہ ہو گیا ہے تو بتائیں آپ نے کال کیوں کی میں نے ابھی مشین لگانی ہے۔" سید زادے کی بیگم نے کہا موبینہ کی اس بات پر سید زادے نے ایک زور کا قہقہ لگایا ہاہاہاہاہا اور کہا "تم تو کہتی تھی میں کبھی بھی کام نہیں کرتی اب مشین لگانی ہے ہاہاہاہا""احمد تنگ نہ کرو بس" موبینہ کی کمزور سی آواز آئی "ہم کچھ دیر تک بات کرتے ہیں اصل میں مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنا ہے۔ اس لئے اب دو منٹ آرام سے میری بات سنو۔" سید زادے نے کہا سید زادے کا ایک دم سے سیریس لہجہ سن کر مونیبہ بھی سیریس ہو گئی "کیا ہوا مصطفی خیریت تو ہے؟" مونیبہ نے فکر مند ہوتے پوچھا "ہاں خیریت ہے۔ بس دو باتیں ہیں اور وہ یہ کہ تمہیں یاد تو ہوگا کہ تم نے ایک بار مجھ سے ایک بہت بڑا جھوٹ بولا تھا"سید زادے نے مونیبہ کو یاد کروا تے ہوئے کہا "ہاں یاد ہے۔" موبینہ نے کہا آگے کی بات جاری رکھتے ہوئے کہا "اور اس جھوٹ پر میں نے تمہیں ایک بات کہی تھی وہ بات یاد ہے۔""جی مجھے بہت اچھی طرح سے یاد ہے اور آپ نے کہا تھا کہ 'مینے آج تمہاری بہت بڑی مس ٹیک معاف کر رہا ہوں۔ اگر زندگی میں کبھی مجھ سے مس ٹیک ہو گئی تو تم بھی دل بڑا کر کے مجھے معاف کر دینا۔'" مونیبہ نے حرف بہ حرف سید زادے کی بات کو دہرائی "گڈ تو ایسا ہے سویٹ ہارٹ کہ میں ایک کام کر رہا ہوں جو میں تمہیں ابھی بتانا نہیں چاہتا۔ اگر کل کو اُس کام کے نتاٸج کچھ غلطی نکلتے ہیں تو تم بھی مجھے معاف کرو گی۔ سیم میری طرح لیکن ساتھ ہی ایک بات کی گارنٹی بھی دیتا ہوں کہ تمہیں دھوکہ نہیں دوں گا اور نا کبھی تمہارا ٹرسٹ توڑوں گا۔ اور ہاں تب تک تم مجھ سے کوئی بھی سوال نہیں کروں گی۔"سید زادے کا لہجہ سنجیدہ اور سخت ہو گیا تھا۔"کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مونیبہ کی آواز آئی مجھے آپ پر پورا بھروسہ ہے اس لئے جب آپ مناسب سمجھو بتا دیجیے گا۔" موبینہ کی بات پر سید زادہ ایک دم سے ریلیکس ہو گیا "اچھا ٹھیک ہے اب تم اپنا کام کر لو مجھے ابھی ایک کام ہے شام کو بات کرتے ہیں۔" سید زادے نے کہا "ٹھیک ہے آپ فری ہو کر بات کریں گے۔ الله حافظ" موبینہ نے کہا "الله حافظ" سید زادے نے کہا اور کال بند کر دیا (موبینہ نے تو کہہ دیا کہ میں تم بھروسہ کروں گی کیا سچ میں وہ سید زادے پر بھروسہ کرپائیں گی یا سید زادہ خد کی اس کا بھروسہ توڑ دیگا کیا ہوگے ان سب کے سوال جاننے کے لیے پڑھتے رہے اگلی قسط)