Chapter 15

Page 1 of 2 50% Completed ~4 min read

Chapter 15 شام کے چار بج رہے تھے ان دنوں سردیوں کے ایام تھے اور چار بجے سے سردی محسوس ہونا شروع ہو جاتی تھی اور پھر سورج بھی اب جان چھڑوانے کے چکر میں ہوتا ہے۔ سید زادہ خادم حسین کے گھر پہنچا تو خادم حسین نے دروازہ کھول کر کہا "ارے صاحب جی ،آپ آئیں آئیں" اس نے اسے کو گھر کے اندر جانے کے لئے رستہ دیا۔"کیسے ہو خادم حسین" سید زادے نے پوچھا "مولا تعالیٰ کا شکر ہے صاحب جی" خادم حسین نے کہا تب تک اس کی بیوی بھی روم سے باہر نکل آئی ان سے سلام دعا کے بعد کہا "بھابھی میں اوپر جا رہا ہوں چائے تو بھجوائیں سید زادہ یہ کہتے ہوئے سیڑھیاں چڑنے لگا۔تبھی آواز آئی "بھائی رکھیں" یہ خادم حسین کی بیوی کی آواز تھی "ابھی آپ اوپر مت جائیں۔" اس نے کہا یہ بات سنتے ہی ایک دم سے سید زادے کا دل دہل گیا اور پریشانی میں پوچھا "اوپر کیوں نہ جاؤں سب خیر تو ہے۔ اور سدرہ کدھر ہے۔" اب اس کی آواز میں غصہ اور فکر دونوں تھی تبھی خادم حسین آگے آیا اور اس نے کہا "صاحب جی فکر کی کوئی بات نہیں ہے ابھی بی بی جی اوپر ہی ہیں اور بلکل ٹھیک ٹھاک ہیں رضیہ نے آپ کو اس لئے منع کیا کہ بی بی جی کے پاس محلے کی کچھ لڑکیا پڑھنے کے لئے آئی ہوئی ہیں اور بچیاں بڑی عمر کی ہیں اس لئے۔خادم حسین کی اس بات پر سید زادے کو ایک خوش گوار حیرت ہوئی اور اس نے سوچا کہ 'یہ سدرہ کے فیوچر کے لئے ایک اچھا سائن تھا'"او یہ تو بہت اچھا ہے۔ لیکن یہ سب اتنی جلدی کیسے ہو گیا" سید زادے نے خادم حسین سے سوال پوچھا  لیکن جواب اس کی بیوی نے دیتے ہوئے کہا۔ "بھائی آپ پہلے اندر بیٹھیں پھر میں آپ کو سب کچھ بتاتی ہوں" اور سید زادہ اُن دونوں میاں بیوی کے ساتھ روم میں آگیا۔ "صاحب جی" رضیہ نے کہا "یہ جو ہمارے سامنے میمن رہتے ہیں وہ اچھے کھاتے پیتے گھر کے لوگ ہیں ایک دن ان کی عورت ہمارے گھر آئی تو سدرہ میرے پاس ہی بیٹھی ہوئی تھی باتوں ہی باتوں میں اس نے کہاں کہ 'دو بچیاں جوان ہیں۔ اور کوئی قابل اعتماد ٹیوشن پڑھانے والا نہیں ملتا' تبھی بی بی جی نے کہا کہ 'بچیاں کس کلاس میں پڑھتیں ہیں' میری پڑوسن نے بتایا کہ 'ایف اے کا پہلا سال ہے' بی بی جی نے کہا کہ 'اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں پڑھا دوں گی' اس نے مجھ سے پوچھا کہ 'یہ کون ہے؟' تو میں نے بول دیا کہ 'میری بھانجی ہے۔' پھر وہ عورت بچیاں لے کے آئی اور بی بی جی کو کہا کہ 'زرہ میرے سامنے کچھ پڑھائیں' تو بی بی جی نے بہت اچھا پڑھایا۔ میری پڑوسن بہت خوش ہوئی تو اس نے کہا کہ 'آپ ہمارے گھر آ کر پڑھا دیا کرنا' لیکن بی بی جی نے سختی سے جواب دیا کہ 'بھلے آپ مجھے فیس دیں یا نہ دیں میں گھر سے باہر نہیں جاؤں گی' پھر دوسرے دن میری پڑوسن اپنی دو بیٹیاں اور اپنے بھائی کی دو لڑکیوں کو بھی لیکر آئی ان سب کو بی بی جی پڑھا رہی ہے۔"خادم حسین کی بیوی نے سید زادے کو پوری تفصیل بتا دی پھر اس کے منہ سے بے اختیار نکلا "ماشاء الله" لیکن ساتھ ہی ایف اے کی بچیوں کو پڑھانے والی بات نے اسے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ کہ 'اگر ایک لڑکی ایف اے کی سٹوڈنٹ کو پڑھا سکتی ہے تو  اس کا مطلب ہے کہ اس کی کوائلیفکیشن کافی زیادہ ہے۔'اب سید زادے کا دماغ بہت الجھ چکا تھا کہ 'اگر سدرہ اتنی پڑھی لکھی ہے تو جسم فروشی جیسے گندھے دھندے کی طرف کیسے آئی آخر کیا مجبوری تھی کہ اُس کو یہ سب کرنا پڑا آخر وہ بچوں کو پڑھا کے بھی تو اپنا پیٹ پال سکتی تھی کسی سکول میں جاب بھی تو کر سکتی تھی اور آخر اس کے ماں باپ کدھر ہیں۔ وہ ان حالات تک کیسے پہنچی' سید زادہ جیسے جیسے سدرہ کے بارے میں سوچ رہا تھا ویسے ویسے دماغ بہت الجھتا جا رہا تھا۔اس اثناء میں سید زادے کو سدرہ کی آواز نے خیالات سے

CONTINUE READING
12
Next Page