Chapter 16 Ishq tha ya nahin
Chapter 16 "السلام علیکم شاہ جی" سدرہ نے مسکراہٹ کو ہونٹوں میں دباتے ہوئے سلام کیا "وعلیکم السلام مس ٹیچر" سید زادے نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا۔سدرہ نے اس وقت پستہ کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا جس کے دامن پر بہت نفیس کام ہوا تھا اور ساتھ ہی یہ کلر اس پر جچ بھی رہا تھا۔سدرہ سید زادے کے سامنے سوفے پر بیٹھ گئی کہ تبھی سید زادے نے کہا "اچھا سدرہ تم بیٹھو نہیں تیار ہو کر آؤ ہمیں ماموں کے گھر جانا ہے۔"سدرہ نے حیرانگی سے سید زادے کی طرف دیکھا تو اس نے کہا "تیار ہو کر آٶ اور اگر تمہیں چینچ کرنا ہے تو کر لوں۔""او کے میں دس منٹ میں آئی" یہ کہہ کر سدرہ ایڑیوں سے اوپر چلی گئی خادم حسین اور اس کی بیوی باہر ہی تھے اس لئے سید زادے نے ماموں کے گھر جانے کا بہنا بنایا تھا۔سدرہ کے اوپر جاتے ہی رضیہ روم میں چایے ، بسکٹ لے کر آ گئی اور خادم حسین بھی سید زادے کے پاس آکر بیٹھ گیا اور ہم سب چائے پیتے ہوئے اِدھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔کچھ دیر بعد رضیہ نے بتایا کہ بھائی بی بی جی کہہ رہیں ہیں "چلیں۔"میں گاڑی کی چابی اور موبائل ٹیبل سے اٹھاتا ہوا باہر آگیا جیسے ہی سدرہ پر سید زادے کی نظر پڑی ایک پل کو تو اس کو اپنی سانس رکتی محسوس ہوئی۔ وہ بہت پیاری لگ رہی تھی اسی لیے تو اسے اپنے دل کی تیز ہوتی ڈھرکن صاف سنائی دے رہی تھیبلیک کلر ہمیشہ ہی سے سید زادے کی کمزوری رہی ہے اور اِس وقت سدرہ نے بلیک کلر کا ڈریس پہن رکھا تھا۔ اور ساتھ میں اس نے لائٹ سا میک اپ اور ساتھ میں میچنگ جیولری بھی سید زادہ ، سدرہ کو جب کچھ سیکنڈ بنا پلک چھپکائے دیکھتا رہا تو اس کے ہونٹوں پر بڑی دل آویز مسکان آگئی کہ تبھی آواز آئی "چلیں شاہ جی میں تیار ہوں" سدرہ کی آواز نے سید زادے کو اس کے سحر سے باہر لے آئی "جی جی چلیں۔" سید زادے نے کہا باہر نکلتے ہی سید زادے نے سدرہ کے لئے گاڑی گا دروازہ کھولا جو کہ کسی سے نہیں کھلتا تھا سید زادے کے دوسری طرف آنے تک وہ باہر ہی کھڑی رہی "بیٹھو! بیٹھ کیوں نہیں رہی؟" سید زادے نے حیرانگی سے پوچھا"پہلے آپ بیٹھیں پھر میں بیٹھتی ہوں" سدرہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا "اچھا جی تو اِس میں کونسا سائنس ہے؟" سید زادے نے پوچھا "کوئی سائنس نہیں سر، بس یہ آپ کا احترام ہے۔" سدرہ نے کہا "او اچھا چلو ٹھیک ہے۔ میں بیٹھ جاتا ہوں" سید زادے نے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوئے کہا اور اس کے بیٹھتے ہی وہ بھی اس کے برابر بیٹھ گئی سید زادے نے گاڑی سٹارٹ کی اور نیو دھوراجی سے ہوتا ہوا اللہ دین پارک والے روڈ پر آ گیا۔ اور اب گاڑی میں مونٹال پیرس پرفیوم کی آتی ہوئی مہک پورے ماحول کو سحر زرہ بنا رہی تھی۔"بڑا اچھا پرفیوم لگایا ہوا ہے سدرہ" سید زادے نے کہا "جی سر یہ پرفیوم مجھے بہت پسند ہے۔ اس کو میرے چاچو نے قطر سے لائیں ہیں اور وہ وہی رہتے ہیں اور میں اپنے گھر سے بس صرف یہ ایک واحد چیز گھر سے لے کر آئی تھی سدرہ نے جیسے ہی گھر کا نام لیا تو اس کے چہرے اور آواز میں ایک کرب سا آ گیا۔ "مونٹال پیرس واقعی بہت اعلی پرفیوم ہے۔" سید زادے نے پرفیوم کی تعریف کرتے ہوئے کہا (کون ہے سدرہ کا چچا اور کونسا کام کرتا ہے قطر میں کس جلد بازی میں سدرہ اپنے گھر سے باہر نکلی اور کیا راز ہے سدرہ کے جاننے کے لیے پڑھتے رہے اگلی قسط)Urdu novel Ashq the ya NAHI Ishq tha ya nahin chapter 16 عشق تھا یا نہیں اردو ناول