Chapter 17
Chapter 17آگے پوچھا۔ "اچھا یہ نہیں پوچھو گی کہ ہم کدھر جا رہے؟""نہیں سر ٫ کیوں کہ مجھے پتہ ہے کہ آپ کوئی غلط جگہ نہیں جا سکتے" سدرہ نے پختہ یقینی کے ساتھ جواب دیا"یہ جیولری جو آپ نے پہنی ہوئی ہے اُسی دن خریدی تھی۔" سید زادے نے ایک نظر اُس کے کانوں میں جھولتی آرٹیفشل بالیوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔"جی سر اُس دن ڈریس لینے کے بعد جب آپ نے کہا تھا کہ شیمپوں کریم وغیرہ جو لینا ہے لے لو تو میری نظر اس پڑی یہ مجھے بہت اچھی لگی تو لے لیا۔" سدرہ نے کہا "بہت اچھا کیا جو تم نے لے لیا یہ مجھے بہت اچھی لگی۔" سید زادے نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا "اچھا سر سوری" سدرہ نے معافی مانگتے ہوئے کہا "تم کس لئے سوری کہہ رہی ہو" سید نے حیرانگی سے پوچھا"وہ گھر کے اندر مینے بھائی اور بھابھی کے سامنے میں نے آپ سے کچھ زرہ فری ہو کے بات کی تھی اس لیے" سدرہ نے کہا "کون سا فری، مجھے تو نہیں لگا کہ تم مجھ سے فری ہو کر بات کی ہے۔" سید زادے نے کہا "سر مینے جو آپ کو 'شاہ اور شاہ جی' کہا اور ایسا اس لئے کیا کہ ان کو کسی قسم کا شک نہ ہو کہ میں آپ کو سر کیوں کہ رہی ہوں۔" سدرہ نے اپنی طرف سے وضاحت پیش کی "ہاہاہاہاہاہاہا" سید زادے نے ہنستے ہوئے کہا "تو تم اسے فری ہونا کہتی ہو۔ مجھے بہت اچھا لگے گا اگر تم نے مجھے اسی طرح بلایا تو اور ہاں میں یہی چاہتا ہوں کہ تم مجھے ایسے ہی بلایا کرو اسی طرح سے تم مجھ سے اور زیادہ فری ہوتی رہو گی" سید زادے نے سمجھا تے ہوئے کہا۔"ٹھیک ہے سر" سدرہ نے معصومیت سے کہا"پھر سر" سید زادے نے مصنوحی غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا "سوری شاہ سر۔" سدرہ نے کہا اور اس بار دونوں ہنس پڑے۔ باتوں ہی باتوں میں پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کب 'سی ویو' آ گئے ہمیشہ کی طرح سید زادے نے اتر کے دوسری سائیڈ جاکر سدرہ کے لئے دروازہ کھولنے کے بعد کہا "تم ادھر ہی رکوں میں گاڑی پارک کر کے آتا ہوں"جب سید زادہ اپنی گاڑی کو پارک کر کے آیا تو پتہ نہیں سدرہ کن خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ "ہاں جی چلیں۔" سید زادے نے سدرہ کے پاس آتے ہوئے کہا "مجھے سمندر کی ریت پر ٹہلتے ہوئے آئسکریم کھانا بہت پسند ہے-" پھر اس نے سدرہ سے پوچھا "کیا خیال ہے؟""شاہ سر، آپ کو ایسے پیارے خیال کیسے آ جاتے ہیں؟" سدرہ نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔"بس جی وہ کیا ہے نا کہ پیارے لوگوں کو پیارے ہی خیال آتے ہیں-" سید زادے نے ہاتھ سے ✌ وکٹری کا سائن دیتے ہوئے کہا سدرہ،سید زادے کی اس بات پر کھلکھلا کر ہنس پڑی "ویسے اگر تم چاہوں تو کچھ اور بھی لے سکتی ہو۔" سید زادے نے کہا "نہیں سر میں بھی آئسکریم ہی کھاؤں گی۔" سدرہ نے کہا پھر دونوں آئسکریم کے دو لارج کپ لے کر ساحل پہ آ گئے اس وقت سدرہ بلکل سید زادے کے ساتھ چل رہی تھی اس دوران اس کے اندر کوئی بہت محسور کن احساس قدم جما رہا تھا وہ خود بھی اس کفیت پر بہت حیران تھا۔شام کے چھے بجے کا وقت ہو رہا تھا اور ساحل پر اس وقت رش بہت کم ہو گیا تھا۔ اب وہاں پر زیادہ تر محبت کرنے والے ہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے ساحل کی ریت کو اڑا رہے تھے "سر" سدرہ نے چلتے ہوئے کہا "کیا سوچ رہے ہیں؟" کافی دیر کی خاموشی کے بعد اس نے پوچھا"کچھ نہیں، بس ایسے ہی، اچھا یہ بتاؤ! کہ تم یہاں کراچی میں، کس کے پاس رہتی تھی؟" سید زادے نے راز معلوم کرنے کی گرز سے چلتے چلتے ہی پوچھا (سدرہ اس کام میں کیسے آئی کون سی مجبوری تھی کیا وجہ تھی کیا سدرہ سید زادے کو سب کچھ بتا دے گی پھر کیا ہوگا کیا سید زادہ اس کا ساتھ دیگا جننے کے لئے پڑھتے رہے اگلی قسط)