Chapter 18

Page 1 of 1 100% Completed ~3 min read

Chapter 18 سدرہ کچھ دیر خاموش رہی پھر جب وہ بولی تو اُس کی آواز  میں ازیت جہلک رہی تھی۔ "سر کیا ہم کہیں بیٹھ سکتے ہیں۔" سید زادے نے محسوس کیا کہ اس کی آواز میں لرزش بھی تھی۔ "کیوں نہیں چلو اُس بینچ پر چلکر بیٹھتے ہیں۔" سید زادے نے قریب کے ہی ایک بینچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا سرد ہواؤں کی آمد ہورہی تھی اور اسی وجہ سے ساحل پر چلنے والی ہوا نے کافی ٹھنڈا ماحول بنا دیا تھا۔ سید زادے نے جیکٹ پہن رکھی تھی اس وجہ سے اسے تو محسوس نہیں ہو رہا تھا لیکن جیسے ہی دونوں اس بینچ پر بیٹھے تو سید زادے کو محسوس ہوا کہ سدرہ کا جسم بہت زیادہ کانپ رہا ہے۔"کیا ہوا، تمہیں ٹھنڈ لگ رہی ہے؟" سید زادے نے پوچھا "جی بس تھوڑی سی۔" سدرہ نے جواب دیا "چلو اٹھو ہم واپس چلتے ہیں۔" سید زادے نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا "نہیں سر اب مجھے ٹھیک محسوس ہورہا ہے اور مجھے آپ کو کچھ بتانا بھی تو ہے۔ میرے دل میں بہت بڑا بوجھ ہے۔" سدرہ نے سیریس انداز میں کہا سید زادہ نا چاہتے ہوئے بھی بینچ پر بیٹھ گیا۔ "او کے ٹھیک ہے لیکن میری ایک شرط ہے۔" سید زادے نے کہا "کیا سر؟" سدرہ نے گردن اٹھا کر سید زادے کو دیکھتے ہوئے پوچھا "وہ شرط یہ کہ تم یہ جیکٹ پہنوں گی" سید زادے نے اپنی جیکٹ اتارتے ہوئے کہا "لیکن سر آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی" سدرہ نے فکر مندی سے کہا "اگر تمہاری خراب ہو گئی تو" سید زادے نے خفگی سے پوچھا "سر میری خیر ہے" سدرہ نے کہا "چپ چاپ یہ جیکٹ ابھی اسی وقت پہنوں" یہ کہتے ہی سید زادے نے جیکٹ سدرہ کی طرف بڑھا دیا اور سدرہ نے چپ چاپ پہن لیا۔کچھ دیر کی خاموشی کے بعد سدرہ نے ایک لمبی سی سانس لی پھر کہنا شروع کیا "سر یہاں پر میں ایک عورت کے گھر میں رہتی تھی۔ جس کا نام بلقیس تھا جو خود بھی جسم فروش ہے میں اُس کے گھر دو ماہ سے رہ رہی ہوں اور میں دو ماہ پہلے ہی کراچی میں آئی تھی۔ پہلے میں لاہور میں تھی وہاں پر میری ملاقات بلقیس سے ایک جسم فروشی کے اڈے پر ہوئی تھی میں اس سے باتیں کرتی تھی اور باتوں ہی باتوں میں اُس نے کہا کہ 'میں تو مجبوری میں یہ کام کر رہی ہوں۔ مجھے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ اگر کوئی اور وسیلہ ہوتا تو میں یہ کام نہیں کرتی۔' بلقیس نے آگے کہا 'اور میرا میاں بھی بہت نشہ کرتا ہے' اور وہ رو پڑی سدرہ نے آگے کہا میں اِس کام میں بلکل نیو تھی مجھے معلوم نہیں تھا کہ ایسی مکاریاں بھی ہوتی ہے اس دھندے میں۔ مجھے تو یہی لگتا تھا کہ جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی عورتیں اچھی ہوتی ہیں وہ کسی کو دھوکہ نہیں دیتی کسی کی فیلنگ کے ساتھ نہیں کھیلتی لیکن میں غلط تھی ایسا بلکل بھی نہیں تھا۔(کیا دھوکہ ملا تھا سدرہ کو بلقیس سے کون سی پریشانیاں اٹھائی گئی سدرہ بلقیس سے کیا سچ میں بلقیس ایک مجبور عورت تھی اور کسی مجبوری میں جسم فروشی کرتی تھی جاننے کے لیے پڑھتے رہے اگلی قسط)

Next