Chapter 4

Page 1 of 1 100% Completed ~3 min read

Chapter 4 میرے دل میں اچانک روشنی پھیلی کہ 'یار اس کی مدد کرنی چایئے آگے اِس کی مرضی۔' یہ سوچتے ہوئے سید زادے نے گاڑی سٹارٹ کی اور بیک کر کے جس طرف وہ جا رہی تھی ادھر موڑ دی ایک منٹ سے بھی پہلے وہ اس کے برابر پہنچ گیا۔گاڑی روک کر سید زادے نے ہاتھ کے اشارے سے اپنی گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔ اس نے ایک نظر میرے چہرے کو غور سے دیکھا اور پھر دوسرے ہی لمحے اس کے چہرے پر بلا کا سکون تھا۔اس نے فرنٹ دوڑ کھولا اور میرے برابر میں آ کر بیٹھ گئی۔ گاڑی کو گیئر میں ڈالتے ہوئے نجانے کیوں سید زادے کو اپنے اندر ایک سکون محسوس ہو رہا تھا۔ گاڑی چلتے ہی اس نے آنکھیں موند لی اور سر سیٹ سے ٹکا لیا اور نیند کی وادیوں میں گم ہو گئی سید زادے نے ایک نظر غیر ارادی طور پر اس کے چہرے کو دیکھا جہاں اب سکون ہی سکون تھا۔ وہ اب سوچ میں پڑ گیا کہ 'اس کی مدد کا ارادہ کر تو لیا ہے لیکن اس کی مدد کروں گا کیسے۔ اگر میری وائف میرے پاس ہوتی یا بچے ہوتے تو اس کو اپنے گھر میں رکھ لیتا لیکن میں اکیلا رہتا تھا۔ اس لئے ایسا کرنا بہت خطرناک تھا۔ پہلے سوچا ماموں سے بات کرتا ہوں لیکن پھر خود ہی اپنی بات کی نفی کر دی۔ کیونکہ کہ ماموں نے کہنا تھا ٫پیسے دے دو کچھ اور چلتا کرو۔، لیکن مجھے پتہ تھا اس مسئلے کا حل پیسا نہیں تھا میں اسے پیسے دے دیتا جتنے بھی لیکن وہ ان پیسوں سے خود کو اس گندگی سے باہر نکال نہیں سکتی تھی' یہی سب سوچتے ہوئے سید زادے نے ایک مال کی پارکنگ میں اپنی گاڑی پارک کی اور اتر کر باہر آ گیا وہ گہری نیند میں سو گئی تھی سید زادے نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ کچھ دیر سو لے۔ اس نے اپنے ہیڈ کو کال کر کے کہا کہ "سر آج میں آفس نہیں آ سکوں گا۔ اچانک کچھ زاتی کام آ گیا ہے۔دوسری کال اپنے آفس میں کولیگ کو کی اور کہا کہ "آج پی. اے کو کہہ دو میں کوئی میٹنگ اٹینڈ نہیں کر سکوں گا کسی کلائنٹ کو ٹائم نہ دے۔" کال سے فری ہوا تو آ جا کہ پھر سوئی وہیں اٹک گئی کہ اس کو رکھیں کہاں۔پہلے سوچا کہ 'میں پہلے اپنے دوستوں سے بات کرتا ہوں' سید زادے کے صرف دو دوست تھے اور وہ بھی شادی شدہ ایک کی بیوی تو بہت شکی مزاج کی تھی اور دوسرا تو ویسے کافی رنگین میزاج کا آدمی تھا' سو یہ والا پلان بھی خود ہی کینسل کر دیا۔پھر سوچا کہ 'کوئی مکان رینٹ پر لیکر دیتا ہوں' کافی جاننے والوں کو کال کی مگر سب نے پہلے پوچھا کہ "کیا کرنا ہے رینٹ پر مکان لے کر اپنا مکان ہے ہمارا گھر ہے نا آ جاؤ رینٹ پر لینے کی کیا ضرورت ہے۔"آخر تنگ آ کے دو تین پرا پرٹی والوں سے بات کی لیکن وہ مکان بہت بڑے اور ہیوی رینٹ والے تھے۔ اسی سوچ و بیچار میں پتہ ہی نہیں چلا کہ ہمیں یہاں رکیں دو گھنٹیں سے زیادہ کا وقت ہو گیا ہے۔(اب کیا ہوگا سید زادہ اس جسم فروش عورت کو کہاں پر رکھے گا جانے کے لئے اگلی قسط پڑھے)قسط چھوٹی ہونے پر معازرت خواں ہوںرائٹر :- سید مصطفی شاہترمیم :- عرفان پنجاری عرفی

Next Ep