chapter 5 شکاری اور شکار
شکاری اور شکار زریاب کے بیسمنٹ میں پھیلی ہوئی خاموشی اب اسے کاٹنے کو دوڑ رہی تھی۔ موبائل کی سکرین پر چمکتا ہوا وہ گمنام میسج کسی زہریلے سانپ کی طرح تھا، جس کا ڈسنا ابھی باقی تھا۔ اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں کو قابو میں کیا اور لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلانا شروع کیں۔ اسے اس آئی پی ایڈریس (IP Address) کو ٹریس کرنا تھا جہاں سے یہ پیغام بھیجا گیا تھا۔ "مجھے پہچاننے والا کوئی عام آدمی نہیں ہو سکتا،" زریاب نے اپنے آپ سے کلام کیا۔ "یہ وہی ہے جو عدالت کی بھول بھلیوں کو مجھ سے بہتر جانتا ہے۔" اس کی سکرین پر کوڈز کی لائنیں تیزی سے گزر رہی تھیں۔ آخر کار، لوکیشن لاہور کے شاہ عالم مارکیٹ کے ایک پرانے انٹرنیٹ کیفے کی نکلی۔ زریاب جانتا تھا کہ وہاں سے کسی کو ڈھونڈنا ناممکن ہے، لیکن اسے یہ اشارہ مل گیا تھا کہ دشمن اسے قریب سے دیکھ رہا ہے۔ دوسری طرف، انسپکٹر جنید ہائی کورٹ کی کینٹین کے باہر کھڑا تپتی دوپہر میں سموسوں اور چائے کی بو کے درمیان سراغ ڈھونڈ رہا تھا۔ کینٹین کا منیجر، ایک بوڑھا شخص جس کی آنکھوں پر موٹا چشمہ تھا، پرانی رسیدوں کے رجسٹر الٹ پلٹ رہا تھا۔ "بیٹا، یہاں روز سینکڑوں وکیل آتے ہیں۔ رسیدیں تو اکثر گر جاتی ہیں،" بوڑھے نے بیزاری سے کہا۔ "چچا، مجھے اس وکیل کا نام چاہیے جس نے بدھ کی رات سات بجے یہاں سے کالی کافی لی تھی،" جنید نے سختی سے کہا۔ اس نے کینٹین کی ایک ایک چیز کا معائنہ کیا، یہاں تک کہ اس کی نظر کونے میں لگے ایک پرانے سی سی ٹی وی (CCTV) کیمرے پر پڑی۔ اس کا دل زور سے دھڑکا۔ "اس کی فوٹیج کہاں ہے؟" منیجر نے کندھے اچکائے۔ "یہ تو عرصے سے خراب ہے۔" جنید نے غصے میں دیوار پر ہاتھ مارا۔ وہ جانتا تھا کہ قاتل انتہائی ہوشیار ہے، اس نے کینٹین کی رسید تو گرا دی تھی لیکن اپنی پہچان چھپانے کے ہر ممکن راستے مسدود کر دیے تھے۔ اسی شام، زریاب کو ایک ہنگامی ملاقات کے لیے سیٹھ داؤد کے دفتر بلایا گیا۔ سیٹھ داؤد—وہ شخص جو زیرِ زمین دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا اور جس پر دفعہ 120-بی (مجرمانہ سازش) کے تحت کئی مقدمات چل رہے تھے۔ دفتر کی چھت پر بنے شاندار ٹیرس پر سیٹھ داؤد قیمتی سگار پی رہا تھا۔ اس نے زریاب کو دیکھتے ہی ایک زہریلی مسکراہٹ دی۔ "آئیے خان صاحب! سنا ہے آپ کے سابقہ کلائنٹس آج کل قبرستان میں سکون فرما رہے ہیں؟" داؤد کی آواز میں چھپا ہوا طنز صاف تھا۔ زریاب نے اپنے چہرے پر وکیلوں والا سپاٹ تاثر برقرار رکھا۔ "سیٹھ صاحب، موت اور زندگی تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ ہم وکیل تو صرف کاغذوں کی جنگ لڑتے ہیں۔" داؤد اچانک زریاب کے قریب آیا اور اس کے کان میں سرگوشی کی۔ "کاغذوں کی جنگ عدالت میں اچھی لگتی ہے، زریاب۔ لیکن باہر کی دنیا میں 'لوگو' (Logo) بولتا ہے۔ مجھے تمہارا کام پسند آیا، لیکن یاد رکھنا، میرا نام تمہاری فہرست میں نہیں آنا چاہیے۔" زریاب کے سینے میں ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔ کیا وہ گمنام میسج سیٹھ داؤد نے بھیجا تھا؟ کیا وہ جان چکا تھا کہ زریاب ہی 'منصف' ہے؟ "آپ کا نام فہرست میں تب آتا ہے جب قانون ناکام ہو جائے،" زریاب نے براہِ راست اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ "فی الحال تو میں آپ کا وکیل ہوں، آپ کو بچانا میرا فرض ہے۔" رات کو جب زریاب واپس اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا، اسے احساس ہوا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھا، پچھلی سیٹ پر اسے ایک لفافہ پڑا ملا۔ اس کے اندر ایک تصویر تھی—انسپکٹر جنید کی، جو کینٹین کے باہر کھڑا تھا۔ تصویر کے پیچھے سرخ روشنائی سے لکھا تھا: "تمہارا دوست موت کے بہت قریب پہنچ گیا ہے۔ اسے روکو، یا میں اسے روک دوں گا۔" زریاب کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ اب یہ صرف اس کی پہچان کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اس کے اکلوتے دوست کی زندگی کا سوال تھا۔ اسے انتخاب کرنا تھا: کیا وہ جنید کو سچ بتا کر خود کو قانون کے حوالے کر دے، یا اس تیسرے کھلاڑی کو ختم کرے جو ان دونوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا تھا؟