Chapter 6

Page 1 of 1 100% Completed ~4 min read

Chapter 6 "بلکل سر، میں ابھی خلوصِ دل سے ،اپنے پچھلے سارے گناہوں سے توبہ کر رہی ہوں الله پاک میرے سارے گناہوں کو معاف فرمائیے۔ آمین یا رب العالمین اور ہاں سر، اس ساری کوششوں کا اجر، الله پاک آپ کو ضرور دے گا۔ ان شاء الله""ویری گڈ ،الله پاک تمہیں توبہ پر استقامت عطا فرمائے آمین ثم آمین" سید زادے نے کہا "آمین سر" سدرہ نے کہا اب جو سید زادے کو واضع نظر آیا کہ اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھی۔سید زادے نے سدرہ کو کہا "آپ کے لئے مینے گھر کا ارینج کر دیا ہے۔ جب تک میں نا کہوں، آپ اس گھر سے باہر نہیں جائیں گیں۔سید زادے کی اس بات پر سدرہ نے حیرانگی سے پوچھا "سر کیا مجھے وہاں پر، اکیلے ہی رہنا ہوگا؟" اس کے بعد اپنا خوف ظاہر کیا "مجھے بہت ڈر لگتا ہے تنہا رہنے میں"  اب سید زادے نے سوچا کہ 'شکر ہے اور دوسرا گھر ملا ہی نہیں کیونکہ یہ بات اکیلے رہنے والی تو میں نے سوچی ہی نہیں تھی اور خادم حسین والا گھر سدرہ کے لیئے بلکل پرفیکٹ ہے۔'پھر سید زادے نے کہا "نہیں، میرے جاننے والے کی ایک اچھی سی فیملی ہے تو آپ کو ان کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ اور آپ کے لئے اوپر والا حصہ لیا ہے۔ رینٹ پر لیکن آپ پریشان مت ہونا وہ آپ کا پورا خیال رکھیں گیں۔" سید زادے اپنا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا "میں تمہیں اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا ہوں اس لئے کہ میں اکیلا رہتا ہوں"سید زادے کی بات پر سدرہ نے کہا"ٹھیک ہے سر، آپ نے جو بھی کیا ہے۔ مجھے پتہ ہے وہ اچھا ہی ہوگا۔"سید زادے نے آگے کوئی بات نہیں کی اور گاڑی کو سٹارٹ کر کے پارگنگ سے مین روڈ پر لے آیا اسے یاد ہے کہ ایک بار اسے اپنی کزن کے ساتھ ایک مال میں جانا ہوا تھا وہاں پر لیڈیز ڈریس کی بہت اچھی اور وسیع رینج تھیسید زادہ چاہتا تھا کہ فلحال اسے تین چار ریڈی مڈ سوٹ لے کر دے۔ اس لئے اس نے مال کی پارکنگ میں گاڑی روکی اور دوسری طرف سے آ کر سدرہ کے لیئے دروازہ کھولا۔ اور کہا "سدرہ باہر آ جاؤ" سدرہ کے باہر آتے ہی سید زادے نے دروازہ بند کر کے گاڑی کو لاک کیا اور اس کو اپنے ساتھ لے کر مال میں داخل ہو گیا۔ اور دیکھا کہ ایک بڑی شاپ میں بہت سارے اچھے ڈریس نظر آ رہے تھے وہ دونوں بھی ادھر ہی چلے گئے۔ سید زادے نے سدرہ کو کہا "سدرہ تم اپنے لیے تین چار سوٹ لے لو موسم کے حساب سے""سر ابھی رہنے دیں مینے ایک پہنا ہے۔ ایک اور لے لیتی ہوں" سدرہ نے شکر گزار لہجے میں کہاسدرہ کی اس بات پر سید زادے نے حکم کے لہجے میں کہا "نہیں ابھی آپ کو چار سوٹ لینا ہے۔" پھر التجائی لہجے میں کہا "اور پلیز اب کوئی بحث مت کرنا اور اب جو بھی ضرورت کی چیزیں ہیں تم اسے اپنے لیے لے لو" سید زادے کی اس بات پر سدرہ نے کہا "ٹھیک ہے سر" انہوں نے وہاں سے سوٹ لے کر ایک اور شاپ پر گے جہاں سے ٹاول، سوکس اور سویٹر وغیرہ لئے اس کے بعد شیمپو، برش، ٹوتھ پیس، ای ٹی سی، سب کچھ لیاجب وہ لوگ خریداری سے فری ہوئے تو سید زادے نے سدرہ سے پوچھا "سدرہ کچھ رہ گیا ہے تو لے لو وہ کیا ہے نا کہ مجھے نہیں پتہ کہ کسی لڑکی کے لئے کیا کیا ضروری ہوتا ہے اور ویسے بھی میں نے کبھی کسی کے لئے کچھ نہیں خریدا ہے؟"سید زادے کی اس بات پر سدرہ نے کہا "سر ایک چیز اور لینی ہے۔" "ہاں تو لے لو نا" سید زادے نے اجازت دیتے ہوئے کہا۔ (کس چیز کی تلاش میں ہے سدرہ کیا اس کو وہ چیز ملے گی یا نہیں جاننے کے لیے پڑھے اگلی قسط)رائٹر :- سید مصطفی شاہترمیم :- عرفان پنجاری عرفی

Next Ep