Chapter 7
Chapter 7 سدرہ نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا "لیکن سر مینے کافی ادھر اُدھر دیکھا مگر مجھے کہی بھی نظر نہیں آئی۔""کیا چیز؟" سید زادے نے ایک نظر سدرہ کے چہرے کو دیکھا جو کہ اس کو ہی دیکھ رہی تھی۔ سید زادے کی بات سن کر سدرہ نے کہا "جائے نماز" سدرہ کی اس بات پر سید زادے کے دل کو اطمنان ہوا۔ پھر شاپنگ بیگ کو گاڑی میں رکھتے ہوئے کہا "تم گاڑی میں بیٹھوں میں پتہ کرتا ہوں۔"پھر سدرہ کا جواب سنے بنا سید زادہ واپس مال کے داخلی دروازے کی طرف مڑ گیا۔ اور دروازے پر تیعنات گارڈ نے جیسے ہی دروازہ کھولنا چاہا تو اس نے اسے روکتے ہوئے کہا "مجھے اندر نہیں جانا، آپ بس یہ بتاؤ کہ یہاں پر کوئی ایسی شاپ ہے جس میں جائے نماز مل جائے؟""جی سر ہے۔ اسی مال کے بیسمنٹ میں، دو تین شاپ ہیں" گارڈ نے بتایاسید زادے نے کہا "شکریہ" پھر پوچھا "راستہ کدھر ہے بیسمنٹ کا۔""اس طرف سر" وہ سامنے۔" گارڈ نے راستہ بتاتے ہوئے کہا سید زادے نے ایک اچھی سی جائے نماز اور تسبی خریدی اور اسے پیک کروا کر واپس آ گیا۔ جیسے ہی سدرہ نے دیکھا تو وہ بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوئے کہنے لگی "مل گئی""جی مل گئی اور ساتھ تسبی بھی لایا ہوں" سید زادے نے کہا "واؤ" سدرہ نے خوش ہو کر کہا "پنک کلر میں لینی تھی" مگر دوسرے ہی لمحے اس کا چہرہ بجھ سا گیا اور وہ چپ ہو گئی جیسے کچھ ضبظ کرنے کی کوشش کر رہی ہو۔سید زادے نے غور سے سدرہ کے چہرے کی طرف دیکھا جس کی پلکیں نم ہو رہی تھی۔ شاید وہ اپنے آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی سید زادے نے سدرہ کو اس کنڈیشن سے نکالنے کے لئے اپنا رویہ دوستانہ کرتے ہوئے کہا " وہاں پر پنک کلر کی نہیں تھی لیکن ہاں ایک کام کرتے ہیں۔" "کیا سر؟" سدرہ نے سر اٹھا کر دیکھتے ہوئے پوچھا سدرہ کا سوال سن کر سید زادے نے کہا "بتاتا ہوں مگر پہلے مجھے یہ بتاؤ کیا تم نے میتھ پڑھی ہیں؟""جی سر پڑھا ہے" سدرہ نے ہاں میں جواب دیا "واہ پھر تو تمہیں یہ بھی پتہ ہو گا کہ میتھ میں کافی کچھ چیزیں فرض کرتے ہیں۔" اس کے بعد سید زادے نے کہا "تو تم بھی تسبی کا پنک کلر فرض کر لینا۔"سید زادے کی اس شرارت سے سدرہ پہلے ہنس پڑی اور یہی تو وہ چاہتا تھا کہ وہ اس ماحول کو یاد نہ کرے جس سے وہ آئی تھی۔"سر آپ بہت اچھے ہیں" سدرہ نے ہنستے ہوئے کہا "اچھا تو میں ہوں لیکن۔" سید زادے نے اپنی بات کو ادھر ہی چھوڑ کر سدرہ کی طرف دیکھا "لیکن کیا سر؟" اب کی بار اس کی نگاہ سوالیہ تھی "لیکن مجھے تب لگے گا کہ میں اچھا ہوں جب تم پرانی باتیں بھلا کر آگے کی لائف میں موو کرو گی۔"کچھ پل تو سدرہ سید زادے کی آنکھوں میں یوہی دیکھتی رہی پھر ایک عزم سے بولی "ان شاء الله سر اب میں آپ کو اچھا ثابت کرنے کے لئے دن رات ایک کر دوں گی۔""بے اختیاری میں سید زادے کے ہونٹوں نے کہاں "ان شاء الله"(کیا سدرہ پرانی باتیں بھول پائے گی یا اسی وجہ سے اس کی جان جائیں گی آخر کس کی یاد آئی تھی سدرہ کو جاننے کے لیے پڑھتے رہے