Chapter 9
Chapter 9 تبھی خادم حسین کی بیوی کی آواز آئی حمزہ چاچو اور تمہاری پھوپھی کو اندر بھیجو پھر گاڑی سے سامان نکال کر اندر لے آؤ۔""جی امی لاتا ہوں۔" حمزہ نے جواب دیا اور سید زادے کے پاس آیا جو ابھی بھی گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا آکر کہا "چلیں چاچو آپ اور پھوپھی اندر، چلیں میں گاڑی سے سامان لے کر آتا ہوں۔" سید زادہ گاڑی سے اترا پھر سدرہ کی طرف جاکر اسکی سائیڈ کا دروازہ کھولا اور اسے باہر آنے کا اشارہ کیا۔ پھر جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوئے تو خادم حسین کی بیوی نے ان دونوں کا بہت اچھے انداز میں استقبال کیا۔ کچھ دیر بعد ان دونوں کے سامنے کھانا لگا دیا گیا جو اسپیشل انہی دونوں کے لئے پہلے سے ہی بن چکا تھا۔ سید زادہ زندگی میں پہلی بار کسی نامحرم لڑکی کے ساتھ کھانا کھارہا تھا اسی وجہ سے اسے بہت عجیب لگ رہا تھا۔ پھر یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ نیت اچھے کام کی ہے۔ الله پاک مجھے معاف فرمائے گا۔کھانے سے فارغ ہو کر سید زادے نے حمزہ کو کہا "مجھے اوپر والا حصہ دکھاؤ۔" پھر وہ دونوں اپر چلے گئے، جہاں پر جگہ رہائش کے قابل تھی، کچن واش روم اور ایک کمرہ بھی تھااچانک سید زادے کو خیال آیا کہ 'سردی ہے۔ لیکن میں نے تو کسی بستر یا کمبل کا سوچا ہی نہیں تھا۔' وہ یہی سوچتے ہوئے نیچے آیا اور خادم حسین کی بیوی سے کہا کہ "آپ دو دن کے لئے کوئی سنگل بیڈ یا چار پائی دے دیں پھر میں کوئی ارینج کر دونگا"سید زادے کی ایسی باتیں سن کر خادم حسین کی بیوی بولی "ارے بھائی یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں سب کچھ تو آپ ہی کا ہے پھر آپ کو کچھ بھی لانے کی ضرورت نہیں اور اگر آپ نے کچھ بھی لائے تو میں ناراض ہو جاؤ گی ہے۔" خادم حسین کی بیوی نے اتنے مان سے کہا جو سید زادے کو بھی مناسب لگا پھر اس نے من میں سوچا کہ 'کچھ دن دیکھ لیتا ہوں کہ سدرہ کیا کرتی ہے کیا یہ سچ میں سیریس ہے بھی یا نہیں۔' یہی سوچتے ہوئے اس نے کہا "اچھا ٹھیک ہے بھابھی، جس میں آپ کی خوشی۔" اگلے ایک گھنٹے میں ہمیں نیچے سے اوپر کچھ سامان شفٹ کرنے میں لگ گیا بیڈ کدہ کمبل تکیے دو چیئر ایک ٹیبل کچھ برتن استمال کرنے کے لیے۔ واٹر کولر ایک ہی تھا میں نے حمزہ کو پیسے دیئے اور اس نے لیکر آیا۔ کمرے کی سیٹنگ سید زادے نے، خادم حسین کی بیوی اور حمزہ نے ساتھ مل کر کروائی۔ پھر سید زادے نے کہا "بھابھی میں بہت تھک گیا ہوں اچھی سی چائے پلا دیں""جی بھائی ابھی لائی" یہ کہہ کر خادم حسین کی بیوی نیچے چلی گئی اور سید زادہ وہی اوپر بیڈ پر ہی لیٹ گیا۔لگتا ہے سید زادہ واقعی میں بہت زیادہ تھک گیا تھا ایک تو رات دو بجے سے جاگ رہا تھا اور آرام کا بھی کچھ وقت نہیں ملا تھا۔ پھر اوپر سے سدرہ کی رہائش کی ٹینشن نے اچھا خاصا تھکا دیا تھا۔ اب کہی جاکر اللہ اللہ کر کے یہ مسئلہ حل ہوا تو سید زادے کو بھی کچھ سکون ملا اب آنکھیں نیند سے بند ہونے لگی۔ تبھی فون کی بیل بجی فوراً سیل نکال کر دیکھا تو ماموں کی کال تھی۔سید زادے کے ماموں کی کال نے اس کی نیند اڑا دی اس نے فوراً کال پک کی اور کہا "السلام علیکم""وعلیکم السلام، کدھر ہو شاہ صاحب" اس کے ماموں نے کہا "ماموں میں ایک دوست کے ساتھ ایک کلائنٹ سے ملنا تھا ادھر آیا ہوں۔" سید زادے کو اپنے ماموں سے جھوٹ بولنا اچھا تو نہیں لگ رہا تھا لیکن مجبوری تھی۔""میں تمارے آفس کے پاس سے گزر رہا تھا تو سوچا ملتا جاؤں" اس کے ماموں نے کہا "جی ماموں ضرور ملتا لیکن اس وقت میں آفس میں نہیں ہوں۔" سید زادے نے کہا "اچھا ٹھیک ہے۔ مینے مچھی لی ہے آج آپ کو گھر آنا ہے۔ خوب گپ شپ کریں گے۔" اس کے ماموں نے کہا "جی ٹھیک ہے ماموں ،میں سیدھا آپ کی طرف ہی آ جاؤں گا" سید زادے نے کہا "او کے الله حافظ" اس کے ماموں نے کہا