Chapter 2
Chapter 2سید زادے نے جب سٹاپ پر لگی لائٹ کی روشنی میں اس لڑکی کے چہرے کو پہلی بار دیکھا۔ وہ ایک بائیس تیئیس سال کی خوبصورت نقوش والی لڑکی تھی لیکن لگتا تھا کہ وقت نے بہت ظلم کیا ہے اُس پر اُس لڑکی کو گم سم پا کر اس نے آرام سے کہا "میم آپ کا سٹاپ آ گیا ہے۔" ایک دم سے وہ چونک گئی جیسے کسی خواب سے باہر آئی ہو۔"جی بہت شکریہ آپ کا سر" اس نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہتے ہوئے دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ اُس کا پورا جسم کانپ رہا تھا۔ سردی تو تھی لیکن گاڑی میں اتنی سردی نہیں تھی کہ انسان سردی سے کانپنے لگتا۔ایسے پیشے کی عورتیں بہت تیز طرار اور بہت بولڈ ہوتی ہیں لیکن اُس لڑکی نے جو دو تین جواب دیئے تھے بہت مہزب انداز میں دیئے تھے۔"آپ ٹھیک تو ہیں نا میم آپ کو اگر ٹھنڈ لگ رہی ہے توایسا کریں آپ میری جیکٹ لے لیں۔" سید زادے نے از راہ ہمدرری سے کہا اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا جیسے سوچ رہی ہو کہ کچھ کہے یا نہیں۔ سید زادے نے دوبارہ نرمی سے کہا "اگر آپ کو ٹھنڈ لگ رہی ہے تو جیکٹ لے لیں" اب کی بار اُس کی آنکھوں میں نمی تھی اور اس کے اگلے الفاظ نے سید زادے کے ہوش اڑا کر رکھ دیئے۔اُس نے بھیگی اور کانپتی آواز میں کہا۔ "کیا آپ مجھے کچھ کھانے کے لئے خرید کے دے سکتے ہیں؟ میں نے تین دن سے پانی کے سوا نہ کچھ کھایا ہے نہ پیا۔" سید زادے کی ایک پل کو تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہو گئی۔ تین دن سے کھانا نہ کھانے کا مطلب تھا 72 گھنٹے بھوکا رہنا۔ اف خدایا اب مجھے سمجھ آٸی کہ اس کا جسم اور آواز کیوں کپکپا رہی تھی۔جب کوئی انسان حد سے زیادہ بھوک کو برداشت کرتا ہے یا پھر چوبیس گھنٹے تک کچھ نہیں کھاتا تو پھر یہی نوبت آتی ہے۔ اس لڑکی کا پورا جسم بھوک کی شدت سے کپکپانے لگتا ہے۔سید زادے نے اپنے موبائل میں ٹائم دیکھا ابھی ساڑھے چار بج رہے تھے پھر اس نے من ہی من میں سوچا 'اس لڑکی کا کردار جو بھی تھا اس وقت اُس کی مدد کرنا اِس سب چیز سے زیادہ اہم تھا۔ اور ہو سکتا ہے کہ لوگ اُسے میرے ساتھ دیکھ کر یہ بھی سمجھتے کہ میں اُس کے ساتھ رات گزار کے اب ڈراپ کرنے جا رہا ہوں یا ناشتہ کروا رہا ہوں۔ لیکن مجھے اِس وقت اِن باتوں کی پرواہ نہیں تھی اِس وقت عزت سے زیادہ انسانیت نبھانا ضروری تھا۔' سید زادے نے اُس لڑکی کی بات کا جواب دیئے بنا گاڑی سٹارٹ کی اور سہراب گوٹھ کی طرف موڑ دی کیونکہ اِس وقت وہی پر ناشتہ مل سکتا تھا۔ وہاں پٹھانوں کے ایک ہوٹل پر پراٹھے اور آملیٹ بہت مزے کا ملتا تھا۔ اور اُن کی چائے بھی بہت اچھی تھی اس لئے اس نے اُسی ہوٹل پر گاڑی روکی۔وہ لڑکی اترنے لگی تو سید زادے نے منع کرتے ہوئے کہا۔ "آپ یہاں گاڑی میں ہی بیٹھیں میں ناشتہ یہی لے کر آتا ہوں، اور پلیز آپ برا نا مانیے گا یہ دوپٹہ جو آپ نے گلے میں ڈالا ہوا ہے۔ اس کو سر پہ اوڑھ لیں۔" سید زادے کے ایسا کہنے پر اس نے مجھے ممنون نظروں سے دیکھا جنہیں وہ نظر انداز کرتا ہوا ناشتے لینے چلا گیا۔کیوں کہ سید زادے کا دل خلوص میں تھا اور یہ سب خالص الله پاک کی رضا کے لئے کر رہا تھا وہ یہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے دل میں غرور آئے یا اس کی نظروں میں اپنے لئے شکر گزاری دیکھیںسید زادے نے ہوٹل سے دو پراٹھے دو آملیٹ اور تین کپ چائے آرڈر کیا اور ویسے بھی وہ خود بھی رات دو بجے سے جاگ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اسے بھی بھوک لگ رہی تھی اس نے پیسے دے کر گاڑی میں آ گیا۔ کیونکہ گاڑی تھوڑی ہوٹل سے دور کھڑی تھی ابھی ہلکا پھلکا اندھیرا تھا۔ اور کراچی کے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں کہ اتنی صبح کسی عورت کو اکیلے گاڑی میں چھوڑا جائے خاص طور پہ سہراب گوٹھ جیسی جگہ پر تو بلکل بھی نہیں۔گاڑی میں بیٹھتے ہی