Chapter 2
سید زادے نے کہا "آپ پچھلی سیٹ پر چلی جائیں اور آرام سے ناشتہ کر لیں۔" اُس لڑکی نے "جی اچھا" کہا اور گاڑی کا دروازہ کھولنے گی اس نے بہت کوشش کی جو کہ ہمیشہ کی طرح نہیں کھلا۔ کیونکہ دروازے میں لگا کیچر اندر سے ٹوٹا ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ عام بندے کے لئے کھولنا مشکل تھا۔مجبوراً سید زادہ اتر کر اس کے لئے دروانہ کھولنا پڑا اِتنی دیر میں ناشتہ بھی آ گیا۔ سید زادے نے ناشتہ کرتے ہوئے اس لڑکی کو بلکل بھی نظر انداز کر دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ آرام سے ناشتہ کر لے کیونکہ وہ بہت بھوکی تھی اور کسی بھی شرم میں نہ رہے۔ اور وہ خود بھی ناشتہ کرنے لگا۔(اس کہانی کو سپورٹ کریں اور شکریہ کا موقع دے)رائٹر :- سید مصطفی شاہترمیم :- عرفان پنجاری عرفی