Chapter 12

Page 1 of 2 50% Completed ~4 min read

Chapter 12 لیکن اگلے ہی لمحے بیگم نے سمجھا دیا۔ "اچھا مصطفی صاحب ایسا ہے کہ آپ ماموں کے گھر آئے ہیں، تو ماموں کے گھر کا تو فائی وائی ٹھیک ہے نا، اس لئے بیلنس بھیجنے کا پروگرام کینسل، اوپر جائیں اور ماموں سے فری ہو کر بات کریں، یاہو میرا پانچ سو بچ گیا۔" اب بیگم نے باقاعدہ نارہ مارا "تیرا تو میں بڑا علاج کرتا ہوں زرہ رک تُو" سید زادے نے غصے سے دانت پیستے ہوئے کہا۔"وہ کیا ہے نا مصطفی شاہ صاحب آپ کے جیسا بندہ جب غلطی کرتا ہے تو بڑا ہی مزہ آتا ہے" اس کی بیگم نے کہا سید زادے کو اپنی غلطی پر پچھتاتے ہوئے محسوس کرکے بائے کہا اور پھر بیگم نے ہنستے ہوئے کال بند کر دی سید زادے کے لبو پر بھی مسکراہٹ آگئی۔ وہ اس کے معاملے میں ایسی ہی تھی اور تو اور اپنے امی ابو کی بھی نہیں سنتی تھی نا بہن بھائیوں میں سے کسی کو خاطر میں لاتی تھی۔ وہ کہتی تھی میں جنون ہوں اس کا اور یہی سچ تھاسید زادہ اپنے ماموں کے گھر گیا اور وہاں بہت ساری باتیں ہوئی کھانا کھانے کے بعد ماموں سے اجازت لے کر وہ اپنے گھر آیا تو رات کے دس بج رہے تھے پھر سید زادے نے اپنی بیگم جن کا نام مونیبہ ہے کو میسج کیا تو فوراً جواب آ گیا اور ساتھ ہی کال بھی۔ اُس سے ایک گھنٹہ بات کی اور خوب جی بھر کے تنگ کیا کال ختم ہونے کے بعد جب سید زادہ اپنے بستر میں آیا تو آنے والے وقت کے بارے میں ہی سوچ کر اس کا دماغ الجھ گیا۔بار بار سید زادے کو یہی سوچیں آ رہی تھی کہ 'میں سدرہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا، وہ کون ہے کدھر سے آئی ہے ،اگر کل کو کوئی مسئلہ بن گیا یا اس نے کوئی وارات کر دی تو' اس طرح کی سوچ آتے ہی دماغ نفی کر دیتا کہ 'وہ ایسی نہیں لگتی۔'دوسرا خیال یہ آتا کہ 'مونیبہ میرے لئے پاگل ہے اُسے کیسے بتاؤں کہیں وہ مجھے غلط ہی نا سمجھ لے اور اِس غلط فہمی کے اثرات کہیں ہمارے رشتے پر نہ پڑیں۔' یہ خیال کافی خوفناک تھا لیکن ایک بات بہت عجیب ہو رہی تھی دماغ جب بھی سدرہ کے خلاف کوئی بات سوچ کر لاتا تو دل فوراً سدرہ کے حق میں دلیل دے دیتا۔خیر گھوڑے بیچ کر سونے والی کہاوت تو بہت سن رکھی ہے لیکن عمل اِس پر لائف میں پہلی بار کیا تھا رات کو دماغ کافی الجھا ہوا تھا سوچتے سوچتے پتہ نہیں کب سویا تھا۔ اور جب سویا تو گھوڑے کیا گدھے بھی بیچ کر سویا جب آنکھ کھلی اور موبائل پر وقت دیکھا تو گیارہ بج رہے تھے باس کی پانج مس کالز چار گولیگ کی 17 مس کالز اور بیگم کی دو مس کالز منہ چڑھا رہی تھی ساتھ ساتھ جن جن کی مس کالز آئی ہوئییں تھی ان کے کافی میسج بھی تھے۔لیکن سب سے زیادہ خوفناک میسج سید زادے کی بیگم کے تھے۔ کبھی بیگم کی دھمکیوں کے بعد اسے شک ہوتا تھا کہ 'میری بیوی طالبان کے کسی خونی گروپ کی کمانڈر ہے۔'مطلب کہ 'عجیب بکواس کرتی تھی بم سے اڑا دوں گی ،قتل کر دوں گی ، اٹھوا لوں گی ،وہ عورت مجھ سے آٹھ سو کلو میٹر دور ہو کر بھی میرا خون ہر وقت خشک کیئے رکھتی تھی۔'سید زادہ کچھ دیر کیلئے ایسے ہی بیڈ پر ہی لیٹتے ہوئے سوچتا رہا پھر کچھ سوچ کر آفس کال کیا اور آپریٹر کو خادم حسین سے بات کروانے کا کہاکچھ دیر بعد خادم حسین کی آواز سنائی دی "اسلام علیکم صاحب جی۔""وعلیکم سلام کیسے ہو؟ خادم حسین" سید زادے نے پوچھا "الحمد لله صاحب جی، آپ کیسے ہو اور آپ ابھی تک آفس کیوں نہیں آئے؟" خادم حسین نے پوچھا "بس یار ابھی ہی میری آنکھ کھلی ہے۔ کچھ دیر میں آتا ہوں، پہلے تم گھر کا نمبر لکھواؤ۔" سید زادے نے کہا "جی صاحب جی نمبر لکھ لیں *******92321+" خادم حسین نے کہا سید زادے کے دل میں ایک بہت عجیب سی بے چینی تھی کہ 'پتہ کروں کہ سدرہ کیسی ہے' یہ سوچ کر اس نے نمبر ڈائل کر کے فون سپیکر پہ ڈال دیا۔دوسری رنگ پر

CONTINUE READING
12
Next Page