Chapter 1
Chapter 1 رات کے 2 بجے، اچانک سر میں شدید درد کے احساس سے، سید زادے کی آنکھ کھل گئی، درد اتنا شدید تھا کہ سانس لینا بھی دشوار ہو رہا تھا۔ مرتا کیا نہ کرتا وہ اٹھ کر بیٹھ گیا اور کچھ دیر سانس بحال کرتا رہا، پھر جیکٹ پہن کر بیڈ روم سے باہر نکل آیا۔ پھر جیسے ہی صحن میں اپنا قدم رکھا ہی تھا کہ ایک ہوا کے ٹھنڈے جھونکے نے احساس دلایا کہ سردی ابھی باقی ہے۔ "آرے یا یہ اکیلا ہونا جہاں ایک نعمت ہے۔ وہی ایک بہت زیادہ تکلیف دہ بات بھی ہے۔ انسان جب بھی بیمار ہوتا ہے۔ تو کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ پوری رات بندہ بخار سے تپتا رہتا ہے۔ اور کوئی پرسان حال نہیں ہوتا" یہی سب سوچتا وہ صحن میں کھڑی اپنی کھٹارا مہران کار تک پہچ ہی گیا۔ اور جس کے لئے وہ تو ایک گرل فرینڈ والی فیلنگ رکھتا تھا۔ لیکن وہ ہمیشہ اس سے لڑاکا بیوی جیسا برتاؤ کرتی تھی۔ موڈ ہوا تو سٹارٹ ہو گئی، نا موڈ ہوا تو جواب دے دیا۔ اب بھی سید زادے نے ڈور کھولنے سے پہلے آیت الکرسی پڑھ کر پھونک مارا اور دروازہ کھول کر آہستہ سے سیٹ پر آ بیٹھا، اس کا اندازہ ایسا تھا گویا گاڑی کو نہیں بیوی کو جگانے لگے ہو، کلمہ پڑھ کر سٹارٹ کرنے کے لئے چابی گھمائی، پہلے تو زرہ سا غصہ کرتے ہوئے غرائی پھر سٹارٹ ہو گئی۔ بس پھر کیا تھا سید زادے نے بھی فل ایکسی لیٹر دے دیا، کہ اچھے سے گرم ہو جائے۔ 2 منٹ ایسے ہی گاڑی کو تپانے کے بعد، وہ اُترا اور گیٹ کھولا۔ جب وہ گھر سے نکلا، تو اس کا سر درد ،عروج پر تھا ہسپتال کی ایمر جنسی میں ڈاکٹر نے سید زادے کی بی پی چیک کر کے اسے ایک نرس کے حوالے کر دیا۔ جس نے بڑی قاتلانہ مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ آپ کو ٹیکا لگے گا۔ اس نے بھی اُسی کی طرح ڈبل قاتلانہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا سید زادے کو پتہ تھا ٹیکا ہی لگنا ہے ہور تسی کہڑا گولی مارنی لاؤ ٹیکا تسی لیکن اس وقت چراغوں میں روشنی نہ رہی جب نرس نے کہا "لیٹ جائیں سر" درد کا انکشن لگوا کر سید زادے نے پارکنگ کا رخ کیا جہاں مہران اس کا ویٹ کر رہی تھی۔ ہسپتال کے سروس روڈ سے جیسے ہی سید زادے نے مین روڈ پہ گاڑی کو ٹرن کیا۔ ایک لڑکی نے ہاتھ کے اشارے سے لفٹ مانگی۔ پہلے تو سید زادے نے سوچا رہنے دیتے ہیں۔ کیوں کہ اس وقت کسی لڑکی کو لفٹ دینا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ دوسرا اب ایک اور دھندہ بڑے عروج پر تھا کال گرل پرووائڈر عورتیں رات کو کسی گاڑی والے سے لفٹ لے لیتی ہے اور باتوں ہی باتوں میں اسے بتاتی کہ ہماری جاننے والی بہت مجبور ہو کے جسم فروشی کا کام کر رہی ہے۔ اب جن کو ضرورت ہوتی وہ اُن کی بات میں دلچسپی لے لیتے۔ اور وہ سمجھ جاتی کہ یہ ہمارا کسٹمر ہے جسے دلچسپی نہیں ہوتی وہ اگنور کر دیتا تو وہ چپ چاپ اپنے اگلے سٹاپ پہ اتر جاتی۔خیر نا چاہتے ہوئے بھی سید زادے نے گاڑی اُس لڑکی کے پاس روک لی کیونکہ کے وہ شک کی بنیاد پر کسی کی ہیلپ نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ گاڑی رکتے ہی لڑکی نے بڑے مذہبی انداز میں "السلام علیکم" کہا۔اور سید زادے کے سلام کے جواب کا انتظار کیئے بنا اس نے بہت میٹھی آواز میں کہا "سر آپ مجھے موتی محل اتار دیں گے۔" سید زادے نے کہا "جی اتار تو دوں گا لیکن۔"اس لڑکی نے سید زادے کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا "لیکن کو چھوڑیں آپ اتار دینا بس اور اگر آپ چاہیں گے تو آپ کو اتار نے کا رینٹ بھی مل جائے گا" اُس نے بے تکلفی سے فرنٹ ڈور کھول کے سیٹ پہ بیٹھتے ہوئے معنی خیز لہجے میں کہا۔سید زادے کو یہ سمجھ آ گئی تھی کہ اس نے لفٹ غلط بندی کو دے دی ہے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا اب تو وہ گاڑی میں بیٹھ چکی تھی۔ اس نے لڑکی کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور گاڑی گیٸر میں ڈال دی۔شاید سید زادے کی چپی میں چھپی ناگواری لڑکی نے بھی محسوس کر لی تھی