Chapter 1

Page 2 of 2 100% Completed ~1 min read

اسی وجہ سے کچھ ہی دیر بعد اس کی آواز نے سکوت کو توڑا "سوری سر مجھے آپ سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔"سید زادے نے جسٹ "اٹس اوکے" کا جواب دیا۔ تب تک موتی محل آ چکا تھا تو سید زادے نے سٹاپ پہ گاڑی روک دی۔ اور پھر سید زادے کا خیال تھا کہ وہ خود ہی اپنا سٹاپ دیکھ کر نیچے اتر جائے گی لیکن دو منٹ گزرنے کے بعد بھی وہ ہنوز بیٹھی رہی۔سید زادے کو بہت شدید غصہ آ رہا تھا پھر دل چاہا کہ اُسے ایک تھپڑ مارے اور کہہ دے "دفع ہو جاؤ۔" لیکن سید زادے کو اپنی ماں کی نصیحت یاد آ گی کہ "عورت کسی بھی کردار کی ہو اُس کی عزت کرنا کیونکہ اُس کا کردار رب کا اور اس کا معاملہ ہے۔ تمہیں بس یہ ثابت کرنا ہے تم بھی عورت کے پیدا کردہ ہو"(آگے کیا ہوگا کیا سید زادہ اس لڑکی کو اپنی گاڑی سے نکل دیگا جو بھی ہو آپ دیکھتے رہے "وہ محبت نہیں دھوکہ تھا")رائٹر سید مصطفٰی شاہ ترمیم عرفان پنجاری All Chapter

CONTINUE READING
12
Prev Next Ep