Chapter 3
Chapter 3 کچھ ہی دیر بعد سید زادے کو اس کی آواز آئی "سر پانی چاہیے" جیسے ہی سید زادے نے اس کی آواز سنی تو فوراً کہا "او سوری مجھے خیال نہیں رہا" سید زادے نے یہ کہتے ہوئے چائے کا کپ ڈیش بورڈ پر رکھا۔ اور پانی لینے جانے۔ لگا تو اس لڑکی نے اسے روکتے ہوئے کہا "سر آپ ابھی ناشتہ کر لوں پھر لے آئیے گا"سید زادے نے اُس کی بات کو نظر انداز کر کے باہر چلا گیا اسے یہ یاد ہی نہیں رہا کہ جب انسان کچھ گھنٹوں کے بعد کھانا کھاتا ہے تو اسے پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور اُس نے تو تین دن سے کچھ بھی نہیں کھایا تھا سید زادے نے واٹر بوتل لی اور جلدی سے واپس آ گیا۔ اور اس لڑکی کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا "یہ لیں پانی میم" اور پانی کی بوتل اُس کی طرف دیتے ہوئے نظر اتفافیہ طور پر اس لڑکی کی گردن پہ پڑ گئی جہاں پر ریڈ نشان نظر آ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے تشد کیا ہو۔اُس لڑکی نے پانی کی بوتل پکڑتے ہوئے "جزاك اللهُ" کہا جو کہ سید زادے کو کافی عجیب لگا۔ ناشتے سے فارغ ہو کر اس نے اُس لڑکی سے پوچھا کہ "میم اب آپ کو کہاں اتاروں۔""سر جہاں آپ کا دل کرے آپ مجھے اتار دیں ویسے تو میرا کوئی گھر نہیں ہے۔" اُس کی آواز میں پھتاوا تھا۔ سید زادے کو بہت زیادہ حیرانی ہوئی اور من ہی من میں سوچا کہ 'جسم فروش ہی سہی مگر یہ کیسا جواب ہے۔ گھر تو ہو گا ہی بھلے رینٹ کا ہی سہی یا کہیں تو رہتی ہو گی۔'شاید اس لڑکی نے میری آنکھوں میں یہ سوال پڑھ لیا تھا اسی وجہ سے کہا "سر میں رہتی تو تھی ایک گھر میں کسی کے پاس لیکن اب مجھے وہاں نہیں جانا میرا ضمیر گورا نہیں کر رہا۔"اُس کے یہ الفاظ ضمیر گوارا نہ کرنے والی بات پر میرا دل چاہا کہ زور زور سے قہقہہ لگاٶں اور اسے کہوں کہ 'محترمہ آپ کس ضمیر کی بات کر رہی ہیں۔ جسم فروشی کرتے وقت ضمیر کدھر جاتا ہے۔' لیکن مجھے یہ باتیں کرنے کا حق نہیں تھا۔اب سید زادے کو الجھن ہو رہی تھی کہ اس سے کیسے پیچھا چھڑ واؤں۔ اس کی الجھن کو سمجھتے ہوئے اس لڑکی نے کہا "سر آپ پریشان نہ ہوں میں یہی اتر جاتی ہوں اور ہاں سر میں خاندانی جسم فروش نہیں ہوں بس ایک غلطی کی وجہ سے پھنس گئی ہوں۔ مجھے میرا ضمیر ہر روز مجھ پر لعنت بھیجتا ہے۔ لیکن مجبور ہوں کیا کروں کوئی راہ نظر نہیں آرہی تھی۔"سید زادے نے مڑ کر جب دیکھا تو اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اسے ایسا لگا جیسے اُس نے سید زادے کی سوچ کو پڑھ لی ہو اب اسے شرمندگی ہونے لگی تھی کہ کسی کے دل کا حال الله پاک ہی جانتا ہے مجھے کیا حق ہے ایسا فتویٰ دیتے ہوئے۔ کیا پتہ وہ واقعی مجبور ہواسی اثناء میں اس لڑکی نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور پھر نیچے اتر گئی۔ اب سید زادے نے اُسے غور سے دیکھا وہ واقعی کسی اچھے خاندان کی معلوم ہوتی تھی پتہ نہیں اس کو کن وجوہات کی بنا پر اس طرح کے گندے کام کرنے پر مجبور کردیا۔وہ لڑکی گھوم کر سید زادے کے سائیڈ کی طرف آئی اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے منہ کھول کر بولی "سر آپ نے مجھ پر آج بہت بڑا احسان کیا ہے۔ بھوکے کو کھانا کھلانا بڑا ثواب کا کام ہے۔ اور الله پاک کو بہت پسند ہے۔ میں آپ کو کچھ بھی نہیں دے کھتی کیونکہ میرے پاس اپنے جسم کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ اور مجھے معلوم ہے۔ پر یہ آپ نہیں لیں گے میں گناہ گار سیاہ کار ہوں لیکن آپ کے اس عمل کا اجر، الله پاک آپ کو ضرور دے گا۔ الله حافظ سر" یہ کہتے ہوئے وہ چلی گئی سید زادہ اپنی سوچوں میں تھا 'ایک پیشہ ور جسم فروش عورت سے اس قسم کی گفتگو کی مجھے توقع نہیں تھی۔ وہ ساری پیشہ ور عورتیں تو مدد بھی اپنا حق سمجھ کر وصول کرتی ہیں۔' جب وہ اپنے خیالوں سے باہر آیا تو تو وہ کافی دور جاتی دکھائی