Chapter 5

Page 1 of 2 50% Completed ~4 min read

Chapter 5 پارکنگ میں جو چوکیدار بیٹھا ہوا تھا وہ اٹھ کر سید زادے کے پاس آکر پوچھا "سر کوئی مسئلہ ہے تو بتائیں آپ کافی دیر سے یہاں پر کھڑے ہیں"سید زادے نے بتایا کہ "میڈم کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ اس لئے رک گیا تھا پھر وہ گاڑی میں سو گئی پھر مینے سوچا کہ کچھ دیر وہ سو لیں تو پھر جاتے ہیں۔" یہ بات سن کر گارڈ چلا گیا گارڈ کے جانے کے بعد اچانک سید زادے کو اپنے آفس کا گارڈ یاد آ گیا جس کا گھر ایک کچی آبادی میں تھا۔ اور اس نے سوچا کہ اس نے ایک بار کہا تھا کہ "سر اب گھر کا اوپر والا حصہ خالی ہو گیا ہے۔ اس لئے خرچہ پورا نہیں ہوتا ہے۔ آپ دعا کریں شاہ جی، کوئی کرایہ دار مل جائے۔"یہ بات یاد کرتے ہی سید زادے نے فورراً آفس کال کر دیا اور کال آپریٹر کو گارڈ سے بات کروانے کا بولا کچھ ہی دیر بعد اسے اس کی آواز سنائی دی "السلام علیکم صاحب جی""وعلیکم اسلام خادم حسین کی حال اے تیرا" سید زادے نے کہا "بس سائیں، مولا کا کرم ہے۔" خادم حسین نے اپنے رب کا شکر ادا کیا "خادم حسین کیا تیرا مکان رینٹ پر چڑھ گیا ہے؟" سید زادے نے پوچھا "نہیں سائیں ابھی تک کوئی نہیں ملا ہے۔ میں بہت زیادہ پریشان ہوں اگر وہ مکان رینٹ پر چڑھ جائے تو میرے بچوں کی فیس کا مسئلہ حل ہو جائے۔" حسین نے اپنی بات ختم کی"او کے ٹھیک ہے اب وہ مکان رینٹ پر چڑھ جائے گا کیونکہ یہ مجھے چاہیے وہ کیا ہے نا کہ میری ایک کزن ہیں اس کا اپنے گھر والوں کے ساتھ کوئی مسئلہ چل رہا ہے وہ رہیں گی اور ہاں کرایہ میں ہی دوں گا اور ساری رسپونسبلٹی میری ہی ہوگی اور ہاں یہ بات آفس میں پتہ نہیں چلنی چاہئے۔" سید زادے نے سمجھا تے ہوئے کہا سید زادے کی بات کو سن کر حسین نے فوراً کہا "سائیں باقی سب تو ٹھیک ہے۔ لیکن مجھے آپ سے کرایہ لیتا بلکل بھی اچھا نہیں لگے گا"یہ بات تو سید زادے کو معلوم تھا کہ حسین اس سے کرایہ بلکل نہیں لے گا اور اس نے یہ بتا کر بہت بڑی غلطی کردی تھی کہ 'کرایہ میں دوں گا' اسی لئے اس نے فوراً اپنی بات کو بدلی کہ "کرایہ وہ لڑکی دے گی میں تو صرف اُسے گھر لے کر دے دوں گا۔"حسین نے جب سید زادے کی بات کو سنا تو وہ راضی ہو گیا۔ اور کہا "ٹھیک ہے صاحب جی، اگر ایسا ہے۔ تو آپ چلے جائیں، میں گھر کال کر دیتا ہوں" "ٹھیک ہے خادم حسین، الله حافظ" سید زادے نے کہا اور اس نے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سوچا کہ 'یہ مسئلہ بھی حل ہو گیا'سید زادے نے گاڑی میں آ کے دیکھا تو وہ لڑکی ابھی تک سو رہی تھی میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور پارکنگ سے باہر روڈ پر لے آیاموبائل میں وقت دیکھا تو ابھی دس بج رہا تھا ہم اس وقت پیرا ڈائز بیکری کے سامنے سے گزر رہے تھے اچانک ایک خیال میرے ذہن میں آیا۔ میں نے کچھ فاصلے پر واقع فیصل بنک کی طرف گاڑی ٹرن کر لی۔سید زادے نے پارکنگ میں گاڑی پارک کی اور اے ٹی ایم میں داخل ہو گیا اور کارڈ انٹر کر کے بیس ہزار کا فگر ڈال دیا۔ اور جب وہ واپس گاڑی میں آیا تو وہ جاگ چکی تھی۔سید زادہ اپنی گاڑی میں بیٹھا ہی تھا کہ اس لڑکی نے "السلام علیکم سر" کہا"وعلیکم اسلام" سید زادے نے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا "اب آپ کی طیبعت کسی ہے؟" اس نے بنا کسی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا"فیلنگ بیٹر سر گڈ" اس لڑکی نے سید زادے کے سوال کا جواب دیا اس لڑکی سے اپنے آپ کو سر کہتا سنا تو فوراً کہا "اب آپ مجھے سر، نہیں کہوں گی آپ مجھے میرا نام لے کر بلا سکتی ہیں۔ میرا نام مصطفی ہے۔ اور آپ بھی مجھے اپنا نام بتا دیں۔" سید زادے نے اپنی بات ختم کیاس لڑکی نے اپنا نام بتاتے ہوئے کہا "میرا نام سدرہ افتخار ہے سر۔"سید زادے نے کہا "دیکھو سدرہ دراصل بات یہ ہے کہ میں اور کچھ زیادہ نہیں کر سکوں گا

CONTINUE READING
12
Next Page