Untitled Chapter

Page 3 of 4 75% Completed ~4 min read

کر دیا اور تمہیں وہاں سے نکالا۔ اب وہ میرا دشمن ہے، جنید۔ اور یہ جنگ صرف میری نہیں رہی، اب تم بھی اس میں شامل ہو گئے ہو۔" جنید نے زمین پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ "میری پوری زندگی قانون کی پاسداری میں گزری ہے، زریاب۔ اور آج میرا سب سے اچھا دوست ایک ایسا شخص نکلا جو قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتا ہے۔ میری دنیا الٹ گئی ہے۔" "میں جانتا ہوں، جنید۔ اور میں تم سے یہ امید نہیں کر رہا کہ تم فوراً میری ہر بات مان لو گے۔" زریاب نے نرمی سے کہا۔ "لیکن اس وقت ہمیں اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھنا ہو گا۔ داؤد بہت خطرناک آدمی ہے۔ اس کی پہنچ بہت گہری ہے۔ اور اس نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔" "تو اب کیا؟" جنید نے پوچھا، اس کا لہجہ اب تھوڑا نرم پڑ چکا تھا۔ صدمہ ابھی بھی تھا، لیکن خطرے کا احساس زیادہ نمایاں ہو رہا تھا۔ "پولیس کو بتاؤں؟ تمہیں گرفتار کرواؤں؟" زریاب نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔ "تمہیں کیا لگتا ہے، جنید؟ اگر تم نے مجھے گرفتار کروا دیا، تو کیا داؤد رک جائے گا؟ وہ تم کو زندہ چھوڑے گا؟ وہ تمہاری جان لے لے گا، اور میرا نام استعمال کرکے اپنے سارے گندے کام کرواتا رہے گا۔ تم نے دیکھا نہیں کہ اس نے اپنے ہی آدمیوں کو کیسے مار دیا۔" جنید نے سر جھکا لیا۔ وہ داؤد کی سفاکیت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔ "تو اب ہم کیا کریں گے؟" "ہم اسے روکیں گے۔" زریاب کی آواز میں پختگی تھی۔ "میں اسے اپنی مرضی سے چلنے نہیں دوں گا۔ اور اگر وہ مجھے استعمال کرنا چاہتا ہے، تو وہ بھی دیکھے گا کہ منصف کو استعمال کرنا کتنا مہنگا پڑتا ہے۔ لیکن اس کے لیے مجھے تمہاری مدد چاہیے، جنید۔ تمہارے قانون کی سمجھ، تمہاری معلومات، تمہاری بصیرت۔" جنید نے پھر سر اٹھایا، اس کی آنکھوں میں ایک نئی کشمکش تھی۔ ایک طرف اس کا فرض تھا، قانون کی پاسداری، اور دوسری طرف اس کا دوست تھا، ایک قاتل، لیکن ایک ایسا قاتل جو اس کی جان بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈال چکا تھا۔ اور ان دونوں کے درمیان ایک سفاک دشمن، داؤد، جو ان دونوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ تھا۔ "مجھے وقت چاہیے، زریاب۔" جنید نے آخر کار کہا۔ "یہ سب ایک جھٹکا ہے۔ میں اسے ہضم نہیں کر پا رہا۔" "ہمیں زیادہ وقت نہیں ہے۔" زریاب نے اپنے زخم کی طرف اشارہ کیا۔ "داؤد اتنی آسانی سے ہار نہیں مانے گا۔ وہ ہمارے پیچھے آئے گا۔ اور اب ہمیں اس کے آنے سے پہلے تیار رہنا ہو گا۔" ایک لمحے کی خاموشی چھا گئی۔ جنید نے زریاب کی زخمی بازو کی طرف دیکھا، پھر اس کے تھکے ہوئے چہرے کی طرف۔ اس کے دل میں ایک طوفان مچا ہوا تھا، وفاداری، فرض، اور انصاف کے معنی کے درمیان۔ "تمہیں اپنے زخم کا علاج کروانا ہو گا، زریاب۔" جنید نے کہا، اس کی آواز میں ایک تشویش تھی۔ "یہ گولی کا زخم ہے۔" "میں کر لوں گا۔ میں نے پہلے بھی ایسے زخموں کا علاج کیا ہے۔" زریاب نے کہا۔ "اس وقت ہماری ترجیح داؤد کا اگلا قدم سوچنا ہونا چاہیے۔" جنید نے ایک گہری سانس لی۔ "ٹھیک ہے، لیکن اگر میں تمہاری مدد کرتا ہوں، تو مجھے سب کچھ سچ سچ بتاؤ گے؟ کوئی اور راز نہیں؟" زریاب نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا، "کوئی اور راز نہیں۔ یہ میرا وعدہ ہے۔" اس کی بات سن کر، جنید کے چہرے پر تھوڑا سا سکون آیا، لیکن اس کے ذہن میں سوالات کا ایک سمندر تھا جو ابھی بھی جواب طلب تھا۔ کیا میں ایک مجرم کی مدد کر رہا ہوں؟ کیا میں اپنے فرض سے غداری کر رہا ہوں؟ یا یہ ایک بڑی جنگ کا حصہ ہے، جہاں انصاف کو بچانے کے لیے مجھے قانون کی حدود کو توڑنا پڑے گا؟ زریاب نے اٹھ کر ایک پرانی الماری کھولی، جہاں سے اس نے کچھ سامان نکالا۔ "اب ہم بیٹھ کر داؤد کے بارے میں بات کریں گے۔ وہ کون ہے، اس کی طاقت کیا ہے، اور اس کا منصف سے کیا مقصد ہے۔" رات گہری ہو رہی تھی اور شہر کی خاموشی میں صرف ان دونوں کی سانسیں سنائی دے رہی تھیں۔ زخمی کندھا اور ایک بوجھل دل لے کر، زریاب نے ایک نئی

CONTINUE READING
1234
Next Page