زخموں کا حساب
زریاب کی گاڑی اندھیری سڑکوں پر سرپٹ دوڑ رہی تھی۔ فیکٹری کا دہکتا ہوا منظر اس کے ذہن میں بار بار گھوم رہا تھا، داؤد کی حقارت بھری مسکراہٹ اور اس کے لرزتے ہوئے الفاظ، سب کچھ ذہن میں گونج رہا تھا۔ اس کے بازو میں ایک گہرا زخم تھا، جس سے خون رس رہا تھا، لیکن درد سے زیادہ تشویش نے اسے گھیرا ہوا تھا۔ اس کے برابر والی سیٹ پر جنید بیٹھا تھا، اس کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا اور آنکھوں میں ہزاروں سوالات تھے۔ "زریاب، وہ کون تھا؟" جنید نے پھر پوچھا، اس کی آواز میں کمزوری اور الجھن نمایاں تھی۔ "اور وہ تمہیں 'منصف' کیوں کہہ رہا تھا؟" زریاب نے ایک لمحے کے لیے سڑک سے نظر ہٹا کر جنید کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک تھکن تھی، ایک اندرونی کشمکش۔ اب وقت آ گیا ہے؟ کیا میں اسے سب کچھ بتا دوں؟ یا اسے ابھی بھی اندھیرے میں رکھوں؟ یہ سوال اس کے ذہن میں طوفان برپا کیے ہوئے تھا۔ داؤد ابھی بھی بالکونی پر کھڑا تھا، اس کی نظریں ان کا پیچھا کر رہی تھیں۔ یہ تو ایک نئی جنگ ہے۔ داؤد ایک ایسا دشمن ہے جو مجھے اپنی مرضی سے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس کے دل میں ایک اور خیال آیا۔ داؤد نے مجھے اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کی۔ لیکن میں نے اسے غلط ثابت کیا۔ اب وہ اور بھی خطرناک ہو گا۔ اور اگر میں نے جنید کو سچ بتا دیا تو وہ مجھے پکڑنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن کیا وہ یہ خطرہ مول لے سکتا تھا جب ایک زیادہ بڑا دشمن ان دونوں کی جان کا دشمن بن چکا تھا؟ زریاب نے ایک گہری سانس لی، جو اس کے پھیپھڑوں میں درد بن کر اتری۔ "جنید، گاڑی کی پچھلی سیٹ پر ایک فرسٹ ایڈ کٹ پڑی ہے۔ اسے نکالو۔" جنید نے ایک پل کے لیے ہچکچایا، لیکن پھر اس نے دیکھا کہ زریاب کے بازو سے خون تیزی سے رس رہا ہے۔ اس نے فوراََ پیچھے مڑ کر فرسٹ ایڈ کٹ اٹھائی۔ "تمہیں گولی لگی ہے، زریاب! پہلے یہ بتاؤ کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟" "ایک ایسی جگہ جہاں ہم محفوظ رہ سکیں۔" زریاب نے جواب دیا، اس کی آواز میں ایک سختی تھی۔ "اور جہاں میں تمہیں وہ سب بتا سکوں جو تم جاننا چاہتے ہو، اور جو تم شاید جاننا نہیں چاہتے۔" جنید نے فرسٹ ایڈ کٹ کھولی۔ اس کے ہاتھ ہلکے سے کانپ رہے تھے جب اس نے پٹی نکال کر زریاب کے بازو پر باندھنے کی کوشش کی۔ "زریاب، تم اتنے سال میرے دوست رہے ہو، تم نے کبھی مجھ سے کچھ نہیں چھپایا۔ اب کیا ہوا ہے؟" "بہت کچھ ہوا ہے، جنید۔" زریاب نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا۔ "بہت کچھ جو اس کانوے کلفٹن برج کے نیچے سے گزرنے کے بعد میں تمہیں بتاؤں گا۔ اس وقت بس اس زخم پر دباؤ ڈالو۔" جنید نے اس کے حکم پر عمل کیا اور پٹی کو مضبوطی سے باندھ دیا۔ درد سے زریاب کا چہرہ کچھ لمحوں کے لیے سکڑ گیا، لیکن اس نے اپنی گرفت اسٹیئرنگ وہیل پر ڈھیلی نہیں کی اور نہ ہی گاڑی کی رفتار میں کوئی کمی آنے دی۔ خاموشی ان دونوں کے درمیان ایک بھاری پردے کی طرح چھا گئی۔ جنید کی نظر بار بار زریاب کے چہرے پر جاتی، جہاں درد اور ایک گہری سوچ کا ملا جلا تاثر تھا۔ آخر کار، وہ ایک ویران گلی میں مڑے، جہاں ایک پرانا، بوسیدہ گھر تھا۔ یہ زریاب کا خاندانی گھر تھا، جو سالوں سے بند پڑا تھا اور کسی کو اس کے بارے میں علم نہ تھا۔ وہ گھر ایک خفیہ پناہ گاہ تھا جسے زریاب نے اپنی اندرونی جنگ 'منصف' بننے کے لیے تیار کیا تھا۔ اس نے گاڑی روکی اور انجن بند کر دیا۔ خاموشی چاروں طرف چھا گئی۔ "ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟" جنید نے پوچھا، اس کے دل میں ایک انجانا خوف سر اٹھا رہا تھا۔ "کیونکہ یہ واحد جگہ ہے جہاں ہم فی الحال محفوظ ہیں۔" زریاب نے کہا، اس کا چہرہ سڑک کی مدھم روشنی میں مزید پراسرار لگ رہا تھا۔ "اور کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ میں تمہیں وہ سچ بتاؤں جو میں نے تم سے اتنے عرصے سے چھپا رکھا ہے، اپنے بہترین دوست سے۔" وہ گاڑی سے اترے۔ زریاب نے ایک خفیہ دروازہ کھولا اور جنید کو اندر