زخموں کا حساب

Page 2 of 4 50% Completed ~4 min read

آنے کا اشارہ کیا۔ گھر کے اندر ایک عجیب سی بو پھیلی ہوئی تھی، پرانی کتابوں اور بند ہوا کی۔ زریاب نے ٹارچ نکالی اور روشنی کی، جس سے ہر طرف دھول اور جالے نظر آنے لگے۔ اس نے جنید کو بٹھایا اور خود ایک کونے میں بیٹھ کر اپنے بازو کے زخم کو دیکھا۔ "جنید، میں نے تمہیں اس سب سے دور رکھنے کی کوشش کی، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ تم بھی اس جنگ کا حصہ بن گئے ہو۔" زریاب نے کہا، اس کی نظریں دیوار پر ٹکی ہوئی تھیں۔ "شروع سے سننا چاہتے ہو؟" جنید نے سر ہلایا۔ "ہاں۔ مجھے ہر ایک لفظ جاننا ہے۔ وہ 'منصف' کیا ہے، اور اس کا تم سے کیا تعلق ہے؟" زریاب نے ایک گہری سانس لی۔ "منصف کوئی کیا ہے نہیں، منصف ایک شخص ہے۔" پھر اس نے اپنی نظریں جنید پر جمادیں۔ "اور وہ شخص میں ہوں۔" جنید کا چہرہ حیرت سے کھل گیا۔ "تم؟ تم منصف ہو؟ وہ جو شاہویز کو مارا، چوہدری رفیق کو مارا؟ تم وہ ہو جسے میں مہینوں سے ڈھونڈ رہا ہوں؟" اس کی آواز میں غصہ اور عدم اعتماد صاف محسوس ہو رہا تھا۔ "ہاں، میں ہی ہوں۔" زریاب نے پرسکون آواز میں کہا۔ "اور مجھے پتہ تھا کہ جب تمہیں یہ پتہ چلے گا تو تمہیں کیسا محسوس ہو گا۔" "کیسا محسوس ہو گا؟" جنید اٹھ کھڑا ہوا۔ "تم جانتے ہو مجھے کیسا محسوس ہو گا؟ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میرا سب سے اچھا دوست ایک جھوٹا ہے، ایک قاتل ہے! تم نے مجھے بے وقوف بنایا، زریاب! میں تمہیں پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا، جب کہ تم میرے ساتھ چائے پی رہے تھے، میری مدد کر رہے تھے!" زریاب نے اپنی نظریں جنید سے نہیں ہٹائیں۔ "میں جانتا ہوں، جنید۔ اور مجھے اس کا افسوس ہے۔ لیکن میرے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔" "کوئی اور راستہ نہیں تھا؟" جنید نے غصے سے پوچھا۔ "قانون کا راستہ تھا، زریاب! ہم وکیل ہیں، پولیس والے ہیں! ہم قانون کے رکھوالے ہیں! تم نے اپنے ہاتھوں میں قانون لے لیا، تمہیں کس نے یہ حق دیا؟" "اس سسٹم نے دیا، جنید، جس نے شاہویز جیسے مجرموں کو آزاد چھوڑ دیا!" زریاب کی آواز اب بلند ہو رہی تھی۔ "جس سسٹم نے غریبوں کا خون چوسنے والے چوہدری رفیق کو بچایا! کیا تمہیں یاد نہیں کہ میں نے شاہویز کا کیس کیسے لڑا تھا؟ میں نے تمام ثبوت پیش کیے، لیکن وہ لوگ بچ گئے۔ کیونکہ ان کے پاس پیسہ تھا، طاقت تھی!" جنید نے اپنا سر تھام لیا۔ "لیکن یہ جواب نہیں ہے، زریاب! تم جیسے وکیل ہی انصاف کے لیے لڑتے ہیں۔ اگر تم بھی قانون توڑنے لگو گے تو فرق کیا رہ جائے گا ہم میں اور ان مجرموں میں؟" "فرق یہ ہے کہ میں انصاف کا معیار ان کے ہاتھوں میں نہیں چھوڑ سکتا!" زریاب نے کہا۔ "میں نے دیکھا ہے لوگوں کو انصاف کے لیے تڑپتے ہوئے۔ میں نے دیکھا ہے ماؤں، بہنوں کو روتے ہوئے۔ جب کانوے دیوار بن جائے تو کوئی تو ہو جو اسے توڑے۔" "اور تم وہ بن گئے؟" جنید نے طنزیہ لہجے میں کہا۔ "تمہیں لگتا ہے تم نے ٹھیک کیا؟" "مجھے معلوم ہے کہ میں نے کیا کیا، اور مجھے اس پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔" زریاب نے آنکھوں میں ایک چمک کے ساتھ کہا۔ "میں نے انہیں وہ سزا دی جو وہ کانوے کے دائرے میں کبھی حاصل نہیں کر سکتے تھے۔" جنید خاموش ہو گیا، اس کا چہرہ غصے اور صدمے سے بھرا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسی حقیقت کا سامنا کر رہا تھا جسے وہ کبھی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ اس کا بہترین دوست، جسے وہ اپنے بھائی کی طرح سمجھتا تھا، ایک قاتل تھا۔ ایک ایسا قاتل جو اپنے آپ کو منصف کہتا تھا۔ "اور آج داؤد تمہیں 'منصف' کہہ رہا تھا؟" جنید نے پوچھا۔ "اس کا مطلب ہے کہ اسے بھی تمہاری حقیقت معلوم ہے؟" "صرف اسے ہی نہیں، جنید۔" زریاب نے اپنے زخم کی طرف اشارہ کیا۔ "اسے سب معلوم ہے۔ اور اسی لیے اس نے تمہارے ذریعے مجھ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ وہ مجھے اپنے لیے کام کروانا چاہتا ہے۔" "تو یہ گولی بھی اس نے ماری ہے؟" جنید نے پوچھا، اس کی آواز میں ایک نئی تشویش تھی۔ "ہاں۔" زریاب نے سرد لہجے میں کہا۔ "جب میں نے اس کی بات ماننے سے انکار

CONTINUE READING
1234
Next Page