Untitled Chapter
"تمہارا دوست موت کے بہت قریب پہنچ گیا ہے۔ اسے روکو، یا میں اسے روک دوں۔" زریاب کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ یہ محض دھمکی نہیں تھی، یہ کسی ایسے شخص کی طرف سے تھی جو اس کی زندگی کے ہر پہلو سے واقف تھا۔ کون ہے یہ؟ کیا یہ سیٹھ داؤد ہے؟ نہیں، اس کا انداز ایسا نہیں تھا۔ داؤد تو صرف ڈراتا ہے۔ یہ والا تو کھیل رہا ہے، بالکل میرے انداز میں، لیکن زیادہ خطرناک طریقے سے۔ اس نے گاڑی کی لائٹس آن کیں اور تیزی سے شہر کی گلیوں میں گم ہو گیا۔ اس کا دماغ ہر ممکن نظریے پر غور کر رہا تھا۔ جنید کو کیسے بچایا جائے؟ اور اس تیسرے کھلاڑی کو کیسے روکا جائے؟ وہ گھر پہنچا، ہاتھ منہ دھویا اور ایک کپ کافی کا بنا کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ تصویر اب بھی اس کی نظروں کے سامنے تھی۔ جنید کی مسکراتی ہوئی تصویر، جو اب اسے موت کی طرح لگ رہی تھی۔ اسے یاد آیا کہ جنید نے حال ہی میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے بارے میں بات کی تھی۔ کیا وہ میری تلاش میں واقعی اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ اپنی جان خطرے میں ڈال رہا ہے؟ زریاب کے اندر پچھتاوے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ میں نے اسے بچایا کیوں نہیں؟ اس نے اپنا فون نکالا اور جنید کو کال کی۔ "ہیلو، جنید؟" "ارے، زریاب! کیا حال ہے؟" جنید کی آواز میں ہمیشگی کا جوش تھا۔ "میں ٹھیک ہوں۔ تم کیا کر رہے ہو؟" زریاب نے اپنی آواز کو معمول پر رکھنے کی کوشش کی۔ "بس یار، ایک کیس میں پھنسا ہوا ہوں، وہ 'منصف' والا۔ تم جانتے ہو ناں، وہی ہائی کورٹ میں رسیپٹ والا۔" جنید ہنسنے لگا۔ زریاب کے دل میں ایک ٹھنڈی لہر دوڑ گئی۔ یہی تو مسئلہ ہے۔ "جنید، میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتا ہوں۔" "ہاں بولو۔" "تم اس کیس سے ہٹ جاؤ۔" زریاب کی آواز میں سختی تھی۔ جنید کچھ دیر خاموش رہا۔ "کیا مطلب؟ میں انسپکٹر ہوں، میرا کام ہی یہی ہے۔" "میں سنجیدہ ہوں۔ یہ تمہاری زندگی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔" "ہاہا، تو کیا تم مجھے دھمکی دے رہے ہو؟" جنید ہنسا۔ "تمہیں کیا ہو گیا ہے، زریاب؟" زریاب نے گہری سانس لی۔ "تمہیں نہیں معلوم کہ تم کس سے ٹکرا رہے ہو۔" "اور تم جانتے ہو؟" جنید کا لہجہ بدل چکا تھا، اس میں شک کی ایک ہلکی سی لہر تھی۔ "میں بس تمہیں خبردار کر رہا ہوں۔" زریاب نے رابطہ منقطع کر دیا۔ اسے معلوم تھا کہ جنید مزید سوال کرے گا اور وہ مزید جھوٹ نہیں بول سکتا۔ ⬥ ⬥ ⬥ اگلی صبح زریاب عدالت میں معمول کے مطابق کام پر گیا۔ لیکن اس کا دھیان بٹا ہوا تھا۔ وہ اپنے آفس پہنچا تو اس کی میز پر ایک اور لفافہ پڑا تھا۔ اس پر کوئی نام یا پتہ نہیں تھا۔ اندر ایک چھوٹا سا USB ڈرائیو تھا اور ایک کاغذ کا ٹکڑا جس پر لکھا تھا: "تمہارے دوست کی آخری ملاقات میں مدد کرو۔" زریاب نے ڈرائیو کو اپنے کمپیوٹر میں لگایا۔ ایک ویڈیو چلنے لگی۔ ویڈیو میں جنید ایک پرانی فیکٹری کے اندر داخل ہو رہا تھا۔ وہ تنہا تھا۔ اس کے چہرے پر فکرمندی تھی۔ ویڈیو کی کوالٹی بہت اچھی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے اسے پروفیشنل کیمرے سے فلمایا گیا ہو۔ یہ کس کی فیکٹری ہے؟ زریاب نے جلدی سے آن لائن تلاش کی، پرانی فیکٹریوں کے نقشے چیک کیے۔ اسے ایک پرانی ٹیکسٹائل فیکٹری یاد آئی جو کئی سالوں سے بند پڑی تھی۔ یہ شہر کے مضافات میں تھی۔ ویڈیو میں جنید کی آواز سنائی دی۔ "ہیلو! کوئی ہے؟" پھر ایک گہری، دھمکی آمیز آواز آئی۔ "آہ، انسپکٹر صاحب، آپ آگئے۔ ہم آپ کا ہی انتظار کر رہے تھے۔" یہ آواز زریاب کو جانی پہچانی لگی۔ یہ داؤد ہے! لیکن وہ جنید کو کیوں ٹارگٹ کرے گا؟ اس نے تو میرے ساتھ بات چیت کی تھی۔ ویڈیو میں داؤد کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا، صرف اس کا سایہ تھا۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ "آپ کی تحقیقات بہت آگے جا چکی ہیں، انسپکٹر۔ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو قانون کے دائرے سے باہر رہنی چاہئیں۔" "میں قانون کے ماتحت ہوں، اور میں اپنا کام کروں گا۔" جنید نے جرأت مندی سے کہا۔ داؤد ہنسا۔ "قانون؟ یہ تو صرف کمزوروں کو بیوقوف بنانے کا ایک ڈھونگ ہے۔ اصلی طاقت تو پیسہ اور اثر و رسوخ ہے۔" "اور