Untitled Chapter
اصلی انصاف تو 'منصف' کرتا ہے، ہے ناں؟" جنید نے طنز کیا۔ داؤد کا سایہ حرکت میں آیا۔ "تمہیں 'منصف' میں اتنی دلچسپی کیوں ہے، انسپکٹر؟ کیا تم بھی اس کے مداح بن گئے ہو؟" "میں بس ایک قیدی کو پکڑنا چاہتا ہوں، جو خود کو خدا سمجھتا ہے۔" جنید نے جواب دیا۔ داؤد نے ٹھنڈی سانس لی۔ "بہت جلد، انسپکٹر، تم خود ہی اس 'منصف' کی حقیقت جان جاؤ گے۔ اور جب تم جانو گے، تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی۔" "میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔" جنید کی آواز میں غصہ تھا۔ ویڈیو وہیں ختم ہو گئی۔ زریاب کا دل ڈوبنے لگا۔ داؤد! اس کا مطلب ہے وہ مجھے بلیک میل کر رہا ہے۔ وہ مجھ سے اپنے لیے کام کروانا چاہتا ہے۔ لیکن جنید کی زندگی داؤد کے لیے کیوں اہم ہو گئی؟ داؤد کا مقصد کیا ہے؟ اسے یاد آیا کہ داؤد کی ایک خاصیت تھی: وہ کبھی براہ راست حملہ نہیں کرتا تھا، ہمیشہ دوسروں کو اپنے لیے استعمال کرتا تھا۔ کیا وہ مجھے مجبور کر رہا ہے کہ میں اس کے گندے کام کروں؟ زریاب نے فیکٹری کا پتہ نوٹ کیا اور جلدی سے اپنی گاڑی کی چابیاں اٹھا لیں۔ اس کے پاس زیادہ وقت نہیں تھا۔ جنید خطرناک صورتحال میں ہے۔ مجھے اسے بچانا ہو گا۔ ⬥ ⬥ ⬥ راستے میں زریاب نے جنید کو دوبارہ کال کی۔ "جنید، تم کہاں ہو؟" "میں بس ایک پرانی فیکٹری میں ہوں، کچھ معلومات ملی تھیں 'منصف' کے بارے میں۔" جنید کی آواز میں الجھن تھی۔ "کون سی فیکٹری؟" "یار، یہ شہر سے باہر ہے، وہ پرانی ٹیکسٹائل فیکٹری۔" "وہاں سے فوراً نکل آؤ۔ وہ ایک جال ہے۔" زریاب نے چیخ کر کہا۔ "کیا مطلب؟" "میں تمہیں بعد میں بتاؤں گا۔ بس نکل آؤ۔" جنید نے فون کاٹ دیا۔ شاید وہ میری بات نہیں سمجھا۔ زریاب نے گاڑی کی رفتار بڑھا دی۔ وہ جانتا تھا کہ داؤد کے جال سے نکلنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔ جیسے ہی زریاب نے فیکٹری کے قریب پہنچا، اسے ایک پرانی، ویران عمارت نظر آئی۔ اس کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوئی تھیں اور جگہ جگہ جنگلی پودے اگے ہوئے تھے۔ شام کا وقت تھا اور سورج غروب ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے فیکٹری کی عمارت ایک خوفناک سایے کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے گاڑی فیکٹری سے کچھ فاصلے پر روکی اور پیدل اندر جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ جانتا تھا کہ ہر قدم پر احتیاط ضروری ہے۔ اندر کی فضا گھٹن زدہ اور دھول سے بھری ہوئی تھی۔ ہر جگہ پرانے دھاگے کے ٹکڑے، مشینری کے ڈھانچے اور لکڑی کے بھاری تختے بکھرے ہوئے تھے۔ "جنید!" زریاب نے آہستہ سے پکارا۔ کوئی جواب نہیں آیا۔ اس نے مزید گہرا اندر قدم رکھا۔ ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی جو دل کو دہلا رہی تھی۔ اچانک اسے ایک آہٹ سنائی دی۔ وہ دیوار کے پیچھے چھپ گیا اور دیکھا۔ جنید ایک کونے میں بیہوش پڑا تھا، اس کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے۔ اس کے چہرے پر زخم کا نشان تھا۔ زریاب کا دل منہ کو آیا۔ میں بہت دیر سے پہنچا۔ اس نے جلدی سے جنید کی طرف قدم بڑھائے۔ وہ جیسے ہی جنید کے قریب پہنچا، ایک گہری آواز گونجی۔ "بہت خوب، 'منصف'۔ تم میرے جال میں پھنس ہی گئے۔" یہ داؤد کی آواز تھی۔ وہ اوپر ایک اونچی بالکونی پر کھڑا تھا، اس کے ساتھ تین مسلح آدمی کھڑے تھے۔ "داؤد! تم نے یہ سب کیوں کیا؟" زریاب نے غصے سے پوچھا۔ داؤد ہنسا۔ اس کی ہنسی فیکٹری کی خالی دیواروں سے ٹکرا کر گونجنے لگی۔ "کیا تم واقعی سمجھتے تھے کہ تم میرے سامنے آ کر مجھ پر 'منصف' بننے کی کوشش کرو گے اور میں تمہیں چھوڑ دوں گا؟" "میں تمہیں چھوڑنے والا نہیں ہوں۔" "اوہ، تم مجھے چھوڑو گے؟ تم نے سوچا کہ میں صرف ایک مجرم ہوں جسے تم اپنے قانون کے مطابق سزا دے سکتے ہو؟" داؤد کی آواز میں طنز تھا۔ "میں وہ ہوں جو قانون بناتا ہے، اور توڑتا بھی ہے۔" "تمہاری اوقات کیا ہے؟" زریاب نے چیلنج کیا۔ "میری اوقات؟ میری اوقات یہ ہے کہ میں نے تمہارے سب سے اچھے دوست کو تمہارے سامنے قید کر لیا ہے۔" داؤد نے اشارہ کیا اور ایک مسلح آدمی نے جنید پر بندوق تان دی۔ زریاب کا دل بیٹھ گیا۔ "اسے چھوڑ دو، داؤد۔ اس کا اس سب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" "تعلق ہے! یہ تمہارا کمزور نقطہ ہے۔ یہ تمہاری انسانیت ہے، جو تمہیں 'منصف' نہیں بننے