Untitled Chapter
تھا کہ یہ دروازہ اکثر کھلا رہتا تھا۔ جیسے ہی وہ باہر نکلے، داؤد کا ایک اور آدمی ان کے سامنے آ گیا۔ اس کے ہاتھ میں ایک شارٹ گن تھی۔ "رک جاؤ!" آدمی نے چیخ کر کہا۔ زریاب نے جنید کو پیچھے دھکیل دیا اور خود آدمی کے سامنے آ گیا۔ "جنید، بھاگو! باہر میری گاڑی ہے۔" جنید ہچکچایا، لیکن زریاب کی آنکھوں میں فیصلہ دیکھ کر وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ آدمی نے شارٹ گن تان لی۔ زریاب نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ کیا یہ میرا انجام ہے؟ تبھی ایک گولی کی آواز آئی۔ لیکن وہ زریاب کو نہیں لگی۔ وہ آدمی کے سر میں لگی، جو زریاب کے سامنے کھڑا تھا۔ آدمی دھڑام سے نیچے گر گیا۔ زریاب نے چونک کر اوپر دیکھا۔ داؤد بالکونی پر کھڑا تھا، اس کے ہاتھ میں ایک پستول تھی۔ اس نے اپنے ہی آدمی کو مار دیا تھا! داؤد نے پستول زریاب کی طرف تان لیا۔ "تمہاری جنگ اب شروع ہوئی ہے، 'منصف'۔ اور اس کا انجام بہت برا ہو گا۔" زریاب کو ایک لمحے کے لیے سب کچھ سمجھ آ گیا۔ داؤد کا مقصد صرف اسے بلیک میل کرنا نہیں تھا بلکہ اسے 'منصف' بننے پر مجبور کرنا تھا، لیکن اپنے اشاروں پر چلنے والا 'منصف'۔ اور اس نے اپنے آدمی کو اس لیے مارا تھا کیونکہ وہ زریاب کو بھاگنے سے نہیں روک سکا تھا۔ زریاب نے تیزی سے بھاگنا شروع کیا۔ داؤد نے اس پر گولیاں چلائیں۔ ایک گولی اس کے بازو کو چھوتی ہوئی نکلی۔ زریاب نے درد محسوس کیا لیکن رکا نہیں۔ وہ باہر نکلا اور جنید کو اپنی گاڑی میں منتظر پایا۔ "زریاب! تم ٹھیک ہو؟ تمہیں گولی لگی ہے؟" جنید نے پریشانی سے پوچھا۔ "میں ٹھیک ہوں۔ چلو، یہاں سے نکلتے ہیں۔" زریاب نے گاڑی اسٹارٹ کی اور تیزی سے فیکٹری سے دور چلا گیا۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ داؤد ابھی بھی بالکونی پر کھڑا تھا، اس کی نظریں ان کا پیچھا کر رہی تھیں۔ یہ تو ایک نئی جنگ ہے۔ داؤد ایک ایسا دشمن ہے جو مجھے اپنی مرضی سے استعمال کرنا چاہتا ہے۔ " زریاب، وہ کون تھا؟" جنید نے پوچھا۔ "اور وہ تمہیں 'منصف' کیوں کہہ رہا تھا؟" زریاب نے ایک گہری سانس لی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ میں جنید کو سب کچھ بتا دوں؟ یا اسے اب بھی اندھیرے میں رکھوں؟ اس کے دل میں ایک اور خیال آیا۔ داؤد نے مجھے اپنی مرضی سے چلانے کی کوشش کی۔ لیکن میں نے اسے غلط ثابت کیا۔ اب وہ اور بھی خطرناک ہو گا۔ اور اگر میں نے جنید کو سچ بتا دیا تو وہ مجھے پکڑنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن کیا وہ یہ خطرہ مول لے سکتا تھا جب ایک زیادہ بڑا دشمن ان دونوں کی جان کا دشمن بن چکا تھا؟ زریاب نے ڈرائیونگ جاری رکھی، اس کا دماغ تیز رفتاری سے ہر ممکن حل تلاش کر رہا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ یہ کھیل اب ذاتی ہو گیا ہے۔ اور اس کھیل میں ہار صرف اس کی موت نہیں بلکہ اس کے دوست اور اس کے اصولوں کی موت بھی تھی۔