Untitled Chapter
دیتی۔" داؤد نے مزید کہا۔ "میرے پاس ایک پیشکش ہے۔" "کیا پیشکش؟" "تم میرے لیے کام کرو گے۔ تم میرے راستے کے کانٹے ہٹاؤ گے، اور میں تمہیں تمہارے دوست کی حفاظت کی ضمانت دوں گا۔" داؤد نے مسکرایا۔ "اور ہاں، تمہاری 'منصف' کی شناخت بھی راز رہے گی۔" زریاب کو شدید غصہ آیا۔ "میں تمہارا آلہ کار نہیں بنوں گا۔" "تب تمہیں اپنے دوست کی موت کا تماشا دیکھنا ہو گا۔" داؤد نے سرد لہجے میں کہا۔ "اور اس کے بعد، تمہیں معلوم ہے کیا ہو گا؟ تمہاری بھی باری آئے گی۔" زریاب نے اپنے ارد گرد دیکھا۔ کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ اکیلا تھا۔ داؤد کے آدمی مکمل طور پر مسلح تھے۔ "تمہارے پاس صرف دس سیکنڈ ہیں فیصلہ کرنے کے لیے۔" داؤد نے گھڑی کی طرف دیکھا۔ "دس... نو... آٹھ..." زریاب کے دماغ میں طوفان برپا تھا۔ ایک طرف اس کے اصول تھے، اس کا 'منصف' کا مشن تھا، اور دوسری طرف اس کے دوست کی زندگی تھی۔ کیا میں داؤد کو مجھ پر قابو پانے دوں گا؟ "سات... چھ... پانچ..." اس نے جنید کی طرف دیکھا۔ جنید کی آنکھیں اب تک بند تھیں۔ اگر میں داؤد کے لیے کام کرتا ہوں، تو میں اپنا سب کچھ کھو دوں گا۔ "چار... تین..." اچانک زریاب کو ایک خیال آیا۔ داؤد کی کمزوری کیا ہے؟ اس کا غرور۔ "دو..." "ٹھیک ہے، داؤد!" زریاب نے چیخ کر کہا۔ "میں تمہاری پیشکش قبول کرتا ہوں۔" داؤد کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ "اچھی پسند، 'منصف'۔ مجھے معلوم تھا کہ تم عقلمند ہو۔" "لیکن ایک شرط ہے،" زریاب نے کہا۔ "میں تمہارے آدمیوں پر بھروسہ نہیں کرتا۔ جنید کو میں خود کھولوں گا۔" داؤد کو لحظہ بھر کے لیے ہچکچاہٹ ہوئی۔ "اچھی چال ہے۔ ٹھیک ہے، لیکن ایک آدمی تمہارے ساتھ جائے گا۔ اور خبردار، کوئی چالاکی نہیں کرنا۔" زریاب نے سر ہلایا۔ ایک مسلح آدمی اس کے ساتھ نیچے آیا۔ زریاب نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا چاقو نکالا، جسے وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ اس نے رسیوں کو کاٹنا شروع کیا۔ داؤد کا آدمی اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جیسے ہی آخری رسی کٹی، زریاب نے اچانک چاقو کا رخ موڑا اور تیزی سے اس آدمی کی گردن پر وار کیا۔ آدمی نے ایک چیخ ماری اور گر گیا۔ اوپر داؤد حیران رہ گیا۔ "کیا کیا تم نے؟" "میں نے صرف وہی کیا جو 'منصف' کرتا ہے۔" زریاب نے کہا۔ اس نے جنید کو بیدار کرنے کی کوشش کی۔ جنید کو ہوش آیا تو اس نے زریاب کو دیکھا، اس کی آنکھوں میں الجھن تھی۔ "کیا ہوا؟" جنید نے پوچھا۔ "بعد میں بتاؤں گا۔ ابھی بھاگنا ہے۔" زریاب نے اسے سہارا دیا۔ داؤد اوپر سے چلا رہا تھا۔ "اسے پکڑو! اسے زندہ یا مردہ میرے سامنے لاؤ!" باقی تین آدمی نیچے آنے لگے، ان کی بندوقیں زریاب اور جنید کی طرف تھیں۔ زریاب نے جنید کو ایک پرانے صندوق کے پیچھے دھکیلا۔ "یہیں چھپے رہو۔ میں انہیں سنبھالتا ہوں۔" اس نے ایک لوہے کا راڈ اٹھایا جو قریب پڑا تھا۔ روشنی مدھم تھی۔ یہ زریاب کے لیے ایک فائدہ تھا۔ وہ فیکٹری کے تاریک حصوں سے اچھی طرح واقف تھا۔ پہلا آدمی قریب آیا۔ زریاب نے انتظار کیا اور پھر اچانک حملہ کر دیا۔ راڈ اس کے سر پر لگا اور وہ گر گیا۔ دوسرا آدمی اندھیرے سے فائر کرنے لگا۔ گولیاں دیواروں سے ٹکراتی رہیں، چنگاریاں بکھیر رہی تھیں۔ زریاب نے تیزی سے آگے بڑھ کر ایک پرانے تختے کو لات ماری، جو دھڑام سے گرا۔ اس کی آواز سے آدمی کا دھیان بٹ گیا۔ زریاب نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور اس پر بھی راڈ سے حملہ کر دیا۔ تیسرا آدمی، جو شاید سب سے ہوشیار تھا، فائرنگ کرنے کے بجائے چھپ کر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ زریاب نے اس کے قدموں کی آہٹ سنی اور ایک پرانی مشین کے پیچھے چھپ گیا۔ جیسے ہی آدمی مشین کے قریب آیا، زریاب نے راڈ کو مشین کے کسی حصے سے ٹکرایا، جس سے ایک خوفناک دھاتی آواز پیدا ہوئی۔ آدمی ایک لمحے کے لیے ٹھٹھک گیا۔ زریاب نے اس پر چھلانگ لگا دی اور اسے نیچے گرا کر بے ہوش کر دیا۔ اوپر سے داؤد کی غصیلی آواز گونجی۔ "تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟ میں تمہیں دیکھ لوں گا!" زریاب نے جنید کی طرف رخ کیا، جو اب مکمل ہوش میں تھا۔ "اب ہم یہاں سے نکلتے ہیں۔" وہ فیکٹری کے پچھلے دروازے کی طرف بڑھے، جہاں سے عموماً مزدور آتے جاتے تھے۔ زریاب کو یاد