Chapter 1الرحمٰن الرحیم
حصہ#1باب اول" الرحمٰن الرحیم " "شہزادی ۔۔۔۔شہزادی ۔۔۔۔"ایک لڑکی بھاگ رہی تھی ۔۔۔۔شاہی گھرانے کی ملازمہ سہ لباس ڈالے۔۔۔۔وہ لکڑی کے عالیشان دروازے کے سامنے آ رکی ۔۔۔۔پرانا مضبوط دروازہ۔۔۔۔جیسے وقت نے بھی اسے آزمایا ہو۔۔۔۔"شہزادی دروازہ کھولیں ۔۔۔۔"کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا تھا ۔"شہزادی ۔۔۔۔شہزادہ۔۔۔۔"لڑکی سانسیں بحال کرتی بول رہی تھی۔۔۔۔اس کی آنکھیں نم تھیں۔۔۔۔"کیا ہوا ہے ؟""شہزادہ ۔۔۔۔"لفظ اس کے ہونٹوں پر لرز رہے تھے ۔۔۔۔۔شہزادی کو اس کی آواز آنا بند ہو گئی ۔۔۔۔شہزادی کچھ سن نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔شہزادی کی دھڑکنیں تیز ہونے لگی تھی۔۔۔۔بیپ۔۔۔۔بیپ ۔۔۔بیپ۔۔۔۔کانوں میں ایک ہی آواز مسلسل گونج رہی تھی ۔شہزادی نے دل پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔سامنے والی لڑکی کچھ بول رہی تھی ۔۔۔۔مگر شہزادی نہیں سن پا رہی تھی ۔۔۔۔سانسوں میں تیزی بڑھی۔۔۔۔اسے لگا وہ سانس نہیں لے پائے گی۔۔۔۔۔اور اگلے ہی پل زھرا کی آنکھ کھلی تھی ۔کمرے میں مکمل تاریکی چھائی تھی ۔۔۔چھت پر پنکھا آہستہ رفتار میں گھوم رہا تھا صرف اتنا کے اے سی کی ہوا پھیلتی رہے۔اس کی آنکھیں پنکھے پر ہی ٹکی تھی ۔اس کی سانسیں تیز تھی چہرے اور گردن پر بہت پسینہ ۔۔۔۔"بیپ۔۔۔۔بیپ۔۔۔۔بیپ۔۔۔۔"الارم کی آواز ابھی بھی وقفے وقفے سے بج رہی تھی ۔زھرا ابھی بھی خواب کے زیرِ اثر تھی ۔سانسیں کچھ بحال ہوئی تھی جب زھرا اٹھ بیٹھی اب اسے نیند نہیں آنے والی تھی ۔اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھا اور گہری سانس لی اور کھڑکی کے پار نیلے آسمان کو دیکھا ۔ہر طرف خاموشی تھی ۔۔۔دور دور تک کوئی آواز نہیں تھی ۔آسمان پر سے تاریکی چھٹ رہی تھی ۔سیاہ آسمان پر روشنی کے آثار آسمان کو جامنی بنا رہے تھے ۔جب اچانک فضا میں ایک آواز بلند ہوئی تھی ۔"اللہ اکبر ۔۔۔۔۔اللہ سب سے بڑا ہے ." جس کے ساتھ آہستہ آہستہ بہت سی آوازوں نے پہلی گونج کا ساتھ دیا ۔خاموشی کا تسلسل ٹوٹا ۔۔۔دن کا پہلا آغاز اللہ کے نام سے ہوا تھا ۔دن نے بھی اللہ کے نام سے پہلی انگڑائی لی تھی ۔جب فضا میں اذانوں کا شور گھل چکا تھا تو ہر چرند پرند اور جانور حرکت میں آئے تھے۔ اگست کی گرمیاں تھی ۔۔۔۔۔۔جب لگاتار الارم کی آواز سنتے سارہ کی آنکھ کھلی تھی ۔"بیپ۔۔۔۔بیپ۔۔۔۔بیپ ۔۔۔۔" یہ سارہ اور زھرا کا کمرہ تھا۔اس سے پہلے سارہ کا دماغ پھٹتا سارہ نے موبائل اٹھایا اور الارم جو ہر روز اسی وقت پر بجا کرتا تھا بند کیا۔۔۔۔زھرا الارم ہمشیہ دور رکھتی تھی تاکہ اٹھ کر اس تک پہنچتے ہوئے نیند کے کچھ آثار کم ہو جائیں مگرہمیشہ وہ الارم سے پہلے اٹھ جایا کرتی تھی ۔سارہ نے الارم بند کرتے ہی آنکھیں مسلتے باہر کی جانب دیکھا جہاں دن سیاہی کو مات دے رہا تھا۔ روشنی غالب آ رہی تھی، مگر بہت سے انسانوں میں جو چیز غالب نہیں آ رہی تھی وہ نورِ رحمٰن تھا۔۔۔۔ رحمٰن کی محبت تھی۔۔۔۔سارہ کی نظر کھڑکی سے ہٹتے زھرا پر پڑی تھی جو ابھی بھی کسی سوچ میں تھی کہ اسے الارم کی آوازیں بھی نہیں آ رہی تھی ۔سارہ نے کمرے کی زیرو سائز لائٹ آن کی تھی ۔"تم نے پھر خواب دیکھا ؟ " سارہ زھرا کی حالت دیکھتی اس کے پاس آ بیٹھی پوچھنے لگی ۔"ہممم۔۔۔۔" وہ گہرا سانس بھرتی لمبے سنہرے بالوں کو جوڑے میں قید کرتی بولی۔"آج برا خواب تھا ؟" سارہ نے پھر سے پوچھا تھا ۔"ہممم۔۔۔" زھرا نے پھر سے صرف یہی جواب دیا تھا ۔"یہ خواب تمہارا پیچھا کب چھوڑیں گے ؟"سارہ اس کا تھکا وجود دیکھتی اس پر ترس کھاتی بولی ۔"میں بھی یہی سوچتی ہوں مجھے لگتا ہے میں لمبے عرصے سے نہیں سوئی میں بس کچھ دیر سونا چاہتی ہوں مگر جب سوتی ہوں تو پتہ نہیں کس دنیا میں پہنچ جاتی ہوں ۔۔۔" زھرا اب کی بار گہرا سانس بھرتی باتھ روم کی جانب رواں ہو گئی ۔۔۔۔۔جبکہ سارہ اسے جاتا دیکھتی رہی ۔"ویسے تم جانتی ہوں اگر تمہیں کوئی سوتا ہوا دیکھے تو یہی دعا کرے گا کہ اسے بھی تم جیسی نیند نصیب ہو اتنی گہری نیند میں سوئی ہوئی دکھتی ہو تم ۔" زھرا باتھ روم سے باہر نکلی تو چہرہ اور ہاتھ پاوں گیلے تھے وہ وضوکر کے آئی تھی ۔جب سارہ نے اس سے کہا تھا ۔"میں بھی دعا کرتی ہوں ایسے ہی سونے کی جس کی تم بات کر رہی ہو۔۔۔" زھرا اب کی بار جائے نماز