Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 21 of 44 48% Completed ~4 min read

بعد لوٹنے پر بنتِ بیگم اس کا آدھے سے زیادہ سامان سمیٹ چکی تھیں جیسے اس کام میں مہارت حاصل ہو ۔۔۔۔"مل گئے ؟"بنتِ بیگم اس کو دیکھتی پوچھنے لگی تھی ۔"جی ۔۔۔۔" سارہ جوتوں والے بیگ میں اپنے جوتے رکھنے لگی ۔"ویسے مجھے تم سے ایک شکایت ہے ۔۔۔۔" بنتِ بیگم سارہ کی طرف متوجہ ہوتی بولی تھی ۔"مجھ سے ؟ کیا ؟" سارہ جو جوتے بیگ میں جوڑ رہی تھی ان کی طرف متوجہ ہو گئی ۔"تم نے مجھے بتایا ہی نہیں کہ تمہیں میرب نے انوائیٹ کیا ہے ۔۔۔۔مجھے تو بتا دیتی ۔۔۔۔" بنتِ بیگم گلا کرنے لگی تھی ۔"کل بتایا تو تھا سب کے ساتھ ۔۔۔۔" سارہ صفائی پیش کرنے لگی ۔"کل ، کل بتایا تھا ، پہلے نہیں بتایا۔۔۔۔ماں کو تو سب سے پہلے سب پتا ہوتا ہے ۔۔۔"۔ بنت بیگم ناراض انداز میں کہنے لگی ۔"اچھا نہ ما ماسوری آئندہ سب سے پہلے ہی آپ کو بتاؤں گی۔۔۔۔اوکے"۔ سارہ منانے والے انداز میں بولی ۔"ہونہہ ، بس کرو ، زیادہ مکھن مت لگاؤ ، میں جانتی ہوں اور کوئی دوست نہیں ہے تمہاری جو تمہیں شادی پر بلائے اور تم مجھے بتانے آؤ"۔ بنت بیگم سارہ کی محنت کو چوڑ چوڑ کرتے بولی۔"اچھا نہ اب مان جائیں نہ میری پیاری ماما نہیں ہے پھر ۔۔۔۔" سارہ اب کی بار معصوم چہرہ بنائے بولی تھی۔"فلحال مان رہی ہوں آئندہ نہیں چھوڑوں گی "۔ بنتِ بیگم شہادت کی انگلی دکھاتی بولیں ۔"ہاں ہاں او کے ٹھیک ہے "۔ سارہ بھی مسکراتے ہوئے بولی۔" پیکنگ ہو گئی کیا ؟ " ۔جبکہ کچھ دیر بعد عامر صاحب کمرے میں داخل ہوتے پوچھنے لگے ۔"جی بابا ہو گئی"۔ سارہ عامر صاحب کو بیگ پر ہاتھ رکھے بتانے لگی ۔" تم اٹھ گئی"۔ پیچھے سے آتی زھرا کو دیکھ بنتِ بیگم بولیں ۔"جی ، میں نے سوچا صبح اٹھنا مشکل ہو جائے گا ابھی مل لوں"۔ زھرا نیند سے بیدار ہوئی آنکھوں کو مسلتے بولی۔" بہت افسوس ہوا جان کر کہ تم اپنی بہن کے لیے صبح اٹھ نہیں سکتی یونی بھی تو جانا ہے تمہیں تب تو اٹھ جاؤ گی "۔ سارہ ناراض ہوتے ہوئے کہنے لگی۔ "ہاں مجھے بھی افسوس ہوا تھا جب صرف ایک دن پہلے مجھے پتہ چلا میری بہن اپنی دوست کے گھر شادی اٹینڈ کرنے جا رہی ہے ، اور یونی تو مجبوری ہے"۔ زھرا سارہ کو جواب دیتے بولی ۔جس میں وہ ماہر تھی۔"لو ، اب بس بھی کرو سب کو یہی شکوے ہیں ، اب دیکھنا مہینہ پہلے سب کو ایک ساتھ بیٹھا کر بات بتاؤں گی اگر کوئی ایسی بات کرنی ہوئی۔۔۔بابا آپ کو تو کوئی شکوہ نہیں ہے نہ کہ آپ کو بھی ان کے ساتھ ہی کیوں بتایا ؟ "۔ سارہ خود کا بچاؤ کرتی بولی اور پھر عامر صاحب سے پوچھنے لگی ۔"نہیں بلکل نہیں میری شہزادی ۔۔۔۔" عامر صاحب اس کے قریب آتے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے بولے۔"آپ ہی تو میرے اچھے بابا ہیں صرف۔۔۔۔" سارہ بولی جبکہ زھرادونوں باپ بیٹی کے پیار کو دیکھتی اش کر اٹھی اور بنتِ بیگم مسکرا دیں۔"اچھا اچھا اب زیادہ ناٹک مت کرنا چلو مجھے بھی گلے ملو " ۔ زھرا عامر صاحب کے دور ہونے پر اپنی بہن کے گلے لگ کر کہنے لگی ۔اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتی۔"اپنا خیال رکھنا اور سب چیزیں احتیاط سے اٹھا لینا " ۔زھرا اس کو نصحیت کرتے بولی ۔یہی تو تھا ان کا رشتہ کبھی جھگڑا کبھی محبت کبھی لڑائی کبھی سکھ بانٹنا ۔۔۔۔یہی تو ہوتا ہے بہنوں کا رشتہ ۔۔۔۔" اور تم بھی مجھے موبائل پر بتا دینا"۔سارا زھرا کے کان کے قریب ہوتی بولی۔"کیا؟" زھرا الجھے انداز میں بولی ۔"یونیورسٹی میں کچھ بھی ہوا تو ۔۔۔"۔ سارہ چھیڑ نے والے انداز میں ہنسی دبائے گویا ہوئی ۔"ایک کام کرنا تم بھی بتا دینا اگر کوئی لڑکا وہاں پسند آگیا یا کسی اندھے نے تمہیں غلطی سے پسند کر لیا " زھرا بھی اس کے گرد اپنا حصار تنگ کرتے گویا ہوئی ۔سارہ کو دم گھٹتا محسوس ہوا۔"آآآ۔۔۔۔دور ہو بد تمیز لڑکی "۔ سارہ اس کو دور کرتے گھورتے ہوئے بولی۔"اچھا جی اب خود بھی برداشت کرونہ یا تو اپنی بار کچھ کیا ہی نہ کرو"۔ زھرا اسے دھکا دیتے کہنے لگی۔"اللہ ایک سکون کا پل بھی نکال لیا کرو تم دونوں ہر وقت ہی لڑتی رہتی ہو

Prev Next Page