Chapter 1الرحمٰن الرحیم
یہ درس دیتی تو وہ بنا میک اپ نہیں ، شائد گاؤن میں ہوتی ." کہتے ہی وہ گاڑی سے اتر کر مال کی طرف بڑھ گئی اور زھرا ساکت سی انہیں دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"مجھے کچھ چیزیں خریدنی ہیں آپ اپنی چیزیں خرید لیں میں اپنا سامان لے کر گاڑی میں ملوں گا ۔۔۔۔" عبدالرحمٰن ازرا کے ساتھ مال میں داخل ہوتا کہنے لگا تھا جب ازرا نے اسے روکا ۔" گاڑی میں کیوں کیفیٹیریا میں انتظار کرنا ۔ کھانا کھا کر جائیں گئیں ۔ تمہارے ساتھ تھوڑا وقت بھی گزر جائے گا۔"ازرا مسکرا کر نرمی سے بولی ۔جبکہ عبدالرحمٰن انہیں سر سے پیر تک دیکھتا تیوری چڑھائے اپنے راستے کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔"بھائی ان کے کتنے ہوئے ؟ " زھرا اپنی ضرورت کی کتابیں لے چکی تو کاؤنٹر پر آئے پوچھنے لگی ۔فلحال بک سٹور میں گنے چنے لوگ ہی موجود تھے اس لیے رش بھی کم تھا۔" جتنے آپ دینا چاہیں ؟ " ۔ سیلز مین جو وقفے وقفے سے کب سے اسے دیکھ رہا تھا اس کے پوچھنے پر بری نیت سے بولا۔زھرا نے ایک آبرو اچکایا اور اس کی نیت سمجھتی اس پر ہنسنے لگی ۔اور پھر بلکل سنجیدہ ہو گئی۔" چٹاخ ۔ ۔ ۔ ۔ " ۔ کی آواز پورے سٹور میں گونجنے لگی۔ وہ جو پہلے ہی اپنی ماں کی باتوں کو ابھی تک سوچ رہی تھی ۔ اور غصے میں تھی ، سیلز مین کے دیکھنے پر یہی سوچنے لگی، کہ شائد وہ اسے اٹینڈ کر رہا تھا ، سیلز مین کی بات سنتے کسی کو مارنے کے لیئے تیار لڑکی نے پورا غصہ سیلز مین پر نکالتے ہوئے اس کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کیا۔جو سیلز مین کو اپنے جبڑے پر لوہے کی مانند محسوس ہوا ۔سٹور میں موجود لوگ ان کی جانب متوجہ ہو گئے ۔ مگر وہ سب کو نظر انداز کرتی شعلہ اگلتی نظروں سے باہر کی جانب بڑھ گئی ۔"اوو۔۔۔۔۔میڈم۔۔۔پی ۔ پی ۔ ۔ پیسے " سیلز مین اچانک اس کو بغیر پیسے دیے جاتا دیکھ فوراً ہوش میں آتا بولنے لگا جب زھرا رکی اور مڑی اور سیلز مین کا تو جیسے سانس اٹک گیا، اوپر کا اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ہو ۔" خود کہا تھا جو چاہے دے دوں۔"وہ طنزیہ لہجے میں سختی سے بولتی دکان سے نکل گئی جبکہ سیلز مین اسے جاتا دیکھتا رہا کیا کرتا خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اللہ ۔۔۔۔۔" زھرا بک سٹور سے نکلتی ہوئی غصے میں بڑبڑا رہی تھی جب اچانک ایک تندرست جسم سے ٹکڑا گئی ۔جس کی وجہ سے کتابوں کا شاپر پھٹا اور ساری کتابیں زمین پر گر گئی جن کو دیکھتے بے اختیار اس کی زبان سے نکلا تھا ۔سامنے والا شخص جو اس کے خود سے ٹکرانے کو اپنی شان میں گستاخی سمجھا تھا غصے سے کچھ بولنے کے لیے اس کی طرف متوجہ ہوا ہی تھا ہیزل آنکھیں اٹھی تھی اور پھر جھکی نہیں ۔وہ وہیں پر ٹہر گیا۔آنکھوں میں غصے کی جگہ نرمی میں لے لی۔وہ بے اختیار بیٹھتا ہی گیا اور وہ جو جھکی کتابیں سمیٹ رہی تھی اس کے مقابل ہوا ۔پہلی بار ہیزل گرین آنکھوں کو خود پر کوئی اتنی دیر تک روکے ہوئے تھا۔اور وہ بھی ایک ایسی لڑکی جو بغیر کسی نمائش کے تھی ۔۔۔۔۔سامنے والا کہاں ایسے حسن کا عادی تھا؟ وہ تو اس حسن کو دیکھتا اپنی دنیا ہی بھول گیا ۔۔۔۔"God's angle.."اسے دیکھتے ہی اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ جو سنتے ہی زھرا نے سیاہ نظروں کا رخ اس کی جانب کیا۔ سیاہ نظریں ہیزل نظروں سے ملی اور عبدالرحمٰن کو لگا وہ اب سانس نہیں لے پائے گا۔وہ یہیں گر جائے گا ۔اسکے سامنے رینا اب مشکل تھا ۔اسے اپنا آپ کمتر محسوس ہونے لگا ۔۔۔اسے آج پہلی بار کوئی شخص خود سے زیادہ حسین لگا تھا ۔ قسم ہے تیرے تغافل کی تجھ سے پہلمجھے نہیں پتا تھا کہ احساسِ کمتری کیا ہے۔ دوسری جانب زھرا کی نظریں اسے گھور رہی تھی ۔ماتھے پر شکنیں تھی ۔ہائے کیا فایدہ تھا ایسے حسن کا کہ سامنے والی لڑکی کو اس حسین شخص کا حسن متاثر ہی نہ کر سکا"Devil's child"زھرا نے بھی اسے ایک خطاب سے نوازا تھا۔"سب کی فطرت ایک ہی ہوتی ہے ۔۔۔" اور غصے میں اپنی کتابیں اٹھاتی قدم پٹکتی جانے لگی