Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 13 of 44 30% Completed ~4 min read

طرف دیکھتے مسکرا دی ۔۔۔۔شیطانی مسکراہٹ ۔۔۔۔اس نے موبائل پر کچھ آگے پیچھے کیا اور سکرین زھرا کے سامنے کی ۔۔۔۔۔جہاں عبدالرحمٰن چیئر پر گرنے والے انداز میں بیٹھا ایک ٹانگ لمبی اور ایک موڑے ہوئے درد کو ضبط کرتا بالوں کو ایک ہاتھ سے پیچھے کرتا اور دوسرا ہاتھ نیچے لٹکائے جہاں سے خون ٹپک رہا تھا اور ساتھ ایک آدمی زمین پر گھٹنوں پر بیٹھا تھا ۔۔۔کوئی یہ فوٹو دیکھتا تو اسے کسی مافیا گینگ کے لیڈر کے خطاب سے نوازتا ۔۔۔۔"تم نے یہ کب بنائی ؟" زھرا کبھی تصویر اور کبھی سارہ کو دیکھتی حیرت سے پوچھنے لگی ۔"یار مجھے وہ فیسٹینیٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔" سارہ دانتوں کی نمائش کرتی بولی ۔"حد ہے تمہاری ؟ " زھرا نے اس سے فوراً موبائل چھینا اور اس کے کچھ ریئکٹ کرنے سے پہلے تصویر ڈیلیٹ کر دی ۔۔۔"یہ کیا کیا ؟ تم پاگل ہو کیا ؟" سارہ اس کی حرکت پر روہانسہ بولی ۔"تم دونوں ہمیشہ لڑتی رہتی ہو۔۔۔کبھی پیار سے بھی بات کر لیا کرو ۔۔۔۔کیا ہوا ہے اب ؟" بنتِ بیگم اور عامر صاحب جو ڈرائیونگ اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھے کب سے انہیں سن رہے تھے آخر کار بنتِ بیگم تنگ آتی بول ہی اٹھی تھی ۔"ماما یہ دیکھیں اس نے کیا کیا ہے۔۔۔۔بھلا تمہیں کیا میں نے کبھی تمہارے پسندیدہ کریکٹر کو کچھ کہا ہے کیا ؟" سارہ برہم ہوتی بولی تھی۔"تم کچھ کہہ بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔" زھرا آ سکا جواب دینے لگی ۔"ہاں نہ کیونکہ بیچارے اگزسٹ ہی نہیں کرتے ہیں نہ اور تمہیں تو یہ بھی نہیں پتا دکھتے کیسے ہیں کون جانے تم سب کو ایک ہی جیسا ہی تصور کرتی ہو ۔۔۔۔" سارہ ہمیشہ کی طرح اس کی شہ رگ پر ہاتھ رکھتی بولی ۔جب زھرا افسوس سے اسے دیکھتی رہ گئی کیا کہتی ۔۔۔وہ سہی تو کہہ رہی تھی ۔اور پھر ان دونوں میں کتنی ہی دیر تک بات چیت بند رہی تھی ۔پاپا، آئس کریم کھائیں ؟ " جب سارہ ماحول کی سنجیدگی کو کم کرتی عامر صاحب سے بولی کیونکہ اچانک ہی اس کے دماغ میں آئس کریم آگئی ۔"ابھی تو کھانا کھایا ہے؟" بنتِ بیگم سارہ کو گھورتی بولی تھی ۔"ماما ، کھانے میں اور آئس کریم میں فرق ہے۔" جب زھرا بھی گفتگو میں شامل ہوئی سارہ جانتی تھی کھانے کی بات ہو اور وہ پیچھے رہے ایسا نہیں ہو سکتا اس لیے ہی اس نے ایسا کہا تھا ۔مگر ابھی تک وہ ساری سے مخاطب نہیں ہوئی تھی ۔"تمہارے پیٹ میں ابھی بھی کچھ کھانے کی جگہ ہے کیا ؟"۔ بنت بیگم مڑ کر زھرا کو دیکھتی پوچھنے لگی۔"ارے کیفے آ گیا ہے یہیں سے آئس کریم کھا لیتے ہیں چلو آؤ۔۔۔۔"۔ اس بار عامر صاحب بولے اور ایک کیفے پر گاڑی روکی ۔دونوں بہنیں فوراً سے کیفے میں چلی گئی جبکہ بنتِ بیگم عامر صاحب کو دیکھتی نفی میں سر ہلا گئی ۔"آپ نے بگاڑ رکھا ہے انہیں ۔۔۔۔"وہ بھی کہتی اتریں اور ان کے پیچھے چل دیں جبکہ عامر صاحب بھی مسکراتے ہوئے ان کے پیچھے چل دیے ۔"کون سہ فلیور چاہیے میری دونوں شہزادیوں کو۔۔۔۔۔"۔ عامر صاحب دونوں بہنوں سے پوچھنے لگے ۔"مجھے چاکلیٹ ، اور میں کیریمل لوں گیں ، اور میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی بابا۔۔۔"زھرا چیئر پر بیٹھتے ہوئے بولی ۔ جبکہ سارہ عامر صاحب کے پاس آتی کہنے لگی ۔" آپ تو نہیں کھائیں گی نہ ماما ۔" سارہ اپنی ماما کو دیکھ ہنسی دبائے بولی ۔"کیوں مجھے کیا ہے ، جو میں نہیں کھا سکتی"۔ بنتِ بیگم غصے میں بولنے لگیں ۔"وہ میں نے سوچا کہ آپ نے ابھی کھانا کھایا ہوگا ، اس لیے پوچھا"۔ سارہ مزاحیہ انداز میں آنکھ دباتی بولی تو سب قہقہ لگا اٹھے ۔"اللہ ہدایت دے تمہیں کوئی لحاظ نہیں رہا ماں سے بات کرنے کا ۔۔۔۔۔"بنتِ بیگم حیران کن انداز میں بولنے لگیں" چلیں پاپا ، اس سے پہلے کہ ماما کچھ اور کہیں ۔۔۔" سارہ عامر صاحب کا ہاتھ پکڑے بنتِ بیگم کے تاثرات دیکھ بولنے لگی ۔ اور عامر صاحب بھی اسے وہاں سے لے کر فرار ہو گئے ۔"سچ میں بہت بد تمیز ہو گئی ہو دونوں، یہاں رکتی پھر بتاتی " ۔ بنتِ بیگم سارہ کی حرکت دیکھ اور طیش میں آگئیں اور بولنے لگیں ۔ اور پاس بیٹھی زھرا دبی دبی سی

Prev Next Page