Chapter 1الرحمٰن الرحیم
کہہ کرہی پکارتا تھا۔" گرینی۔۔۔۔" ۔ وہ آسیہ بیگم کو ستائشی نظروں سے دیکھنے لگا ۔آسیہ بیگم ان کی نانی تھیں ۔ بوڑھے ہونے کے باوجود اپنا بہت خیال رکھتی تھی ، اس لیے آج بھی تندرست اور خوبصورت تھیں ۔ یہی چیز ان کے بڑھاپے کو چھپاتی اور انہیں جو ان دیکھاتی ۔ وہ عبد الرحمٰن کے سب رازوں سے واقف تھی عبدالرحمان ان سے زیادہ اٹیچ تھا ، اس لیے وہ مغرور انسان صرف ان کے پاس آ کر ہی کھلتا تھا ۔"خیر ہو طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ، اتنی جلدی کیسے اٹھ گئے؟"۔ وہ آبرو آچکائے اسکو تکتے پوچھنے لگی۔" اب میں اتنا لیٹ بھی نہیں اٹھتا " ۔ وہ مسکراتے ہوئے آسیہ بیگم سے کہنے لگا ۔اس کی مسکراہٹ بلاشبہ بہت خوبصورت تھی ۔چہرے پر ایک ڈمپل نمایاں ہوا تھا ۔"کل کہاں تھے؟ "وہ اسے متوجہ کیے اس کی بات کو سنتی پوچھنے لگی ۔جس کو دیکھتے ہی ملازمہ ناشتہ ٹیبل پر لگاچکی تھی اورفلحال وہ کھانے میں مصروف تھا۔" اپنے دوستوں کے ساتھ " ۔ وہ بے نیازی سے جواب دینے لگا تھا ۔" تو یقیناً رات کو دیر ہو گئی ہوگی" ۔ انہوں نے آبرو آچکا کر اسے دیکھتے کہا گویا سب جانتی ہوں ۔جب کے وہ جوس کا گھونٹ بھرتے مسکرا دیا ۔"آپ کہیں اور ویسا نہ ہو ایسا کیسے ہو سکتا ہے اور پھر سامنے ہو بھی آپ کا عبدالرحمٰن۔۔۔۔" وہ اب کی بار دونوں گال پر ڈمپل نمایاں کیے بولا ۔"بہت پہنچی کوئی چیز ہو تم عبدالرحمٰن" ۔ وہ تاسف سے نفی میں سر ہلاتے بولی جبکہ عبدالرحمٰن قہقہ لگا گیا ۔"صاحب میڈم باہر آپ کو بلا رہی ہیں ۔۔۔۔" جب ایک ملازم وہاں آتا بولا۔جبکہ عبدالرحمٰن سر خم کرتا اس کو جانے کا کہنے لگا ۔"Seen you soon granny….بعد میں ملتے ہیں گرینی ۔۔۔۔" عبدارحمٰن کہتا اپنی جگہ سے اٹھا ۔"ہیو آ گڈ ڈے۔۔۔۔"آسیہ بیگم جواب میں کہنے لگی اور عبدالرحمٰن باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔"جلدی کر لو"۔ زھرا خارجی دروازے پر کھڑی کب سے سارہ کو بلا رہی تھی مگر اس کے نہ آنے پر اس بار ذھرا جھنجھلائے انداز میں بولی تھی ۔" بس آ گئی۔۔۔۔" سارہ سیڑھیوں سے اترتی ہوئی پیٹ تک آتی اوپن شرٹ اور کھلی پینٹ میں ملبوس کھلی زلفوں کو ایک طرف کرتی نیچے اترتی کہہ رہی تھی۔"ماہ رانی اتنی دیر کیوں لگادی ، جلدی چلو پاپا ، ماما گاڑی میں انتظار کر رہے ہیں"۔ وہ سارہ کو ڈانٹنے والے انداز میں بولی۔" وہ تھوڑا آئی لائنر خراب ہو گیا تھا"۔ سارہ دانتوں کی نمائش کرتی بولی ۔جبکہ زھرا گہرا سانس بھر گئی اور کہنے لگی"ہاں ، تاکہ دوسروں کے رشتوں میں آگ لگا سکو۔" وہ گاڑی کا دروازہ کھولے بیک سیٹ پر بیٹھتی بولنے لگی ۔"کیا مطلب ہے تمہارا؟"۔ سارہ اس کی بات سنتی زھرا کی جانب رُخ کیئے غصے میں بولی ۔"صحیح تو کہہ رہی ہوں ، لوگ تمہیں دیکھیں گیں تو کچھ لوگ غلط سوچیں گیں۔۔۔۔جبکہ کچھ سوچے گیں کاش میری بیوی بھی اس طرح ہوتی اگر ان کی بیوی کہ پاس تمہارے جیسا فیشن سینس نہ ہوا، وہ سادہ مزاج ہو مگر اب اس کی نظر میں تمہاری بناوٹ اصل خوبصورتی سے زیادہ اہم ہو تو لڑائی تو ہو گی نا۔"وہ پر سکون سی بولی جبکہ سارہ اسے غصے سے دیکھ رہی تھی ۔"میری مرضی تمہیں کیا؟کیا میں ان کے پاس جا کر انہیں کہتی ہوں مجھے دیکھیں؟" وہ غصے میں قدرے چینخ کر بولی ۔"پاگل لڑکی ، اگر تم ایک خوبصورت جیولری یا بنگلے کی نمائش رکھو۔۔۔۔ ٹکٹ بھی فری ہو تو گزرنے والے تو خود ہی متوجہ ہوں گے نہ ۔۔۔۔ذرا بتانا کون دیکھنے نہیں آئے گا اور ایسا چانس مس کرتے گا ؟"وہ ابھی بھی اسی پر سکونت سے بے نیاز سی بولی ۔"چلو مال آگیا"۔ اس سے پہلے سارہ کچھ بولتی عامر صاحب نے اچانک بریک لگا کر کہا جب سارہ فوراً گاڑی سے اتر گئی ۔اچانک بریک کی وجہ سے زھرا کی بکس والی لسٹ نیچے گر گئی ۔ وہ نیچے اٹھانے کے لیے جھکی ہی تھی ۔"یہی بات شہزادی میں بھی تم سے کہہ رہی تھی"۔ ان کے کہتے زھر السٹ اٹھا کر اٹھی ۔ اور وہ الجھے انداز میں ان کو دیکھنے لگی ۔" اب، اس کی مرضی وہ تمہاری بات پر عمل کرے یا نہ کرے ، لیکن اگر زندگی اس کو