Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 32 of 44 73% Completed ~4 min read

لیے بولے گئے الفاظ، جملے میرے دماغ میں اپنا نشان ہمیشہ چھوڑ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔میری زندگی اتنی اکسائیٹنگ نہیں ہے اسی لیے ہمیشہ نئے سے نئے دوستوں کی تلاش میں رہتی ہوں ۔۔۔۔میرے زیادہ دوست بنتے نہیں ہیں پتہ نہیں کیوں مگر میں بہت سے دوست بنانا چاہتی ہوں اور چاہتی ہوں میرے جتنے بھی دوست ہوں وہ ہمیشہ کے لیے ہوں ۔۔۔۔میرے لیے میرے دوست میرا کمفرٹ زون ہیں جو اب تم لوگ ہو ۔۔۔" وہ ان دونوں کی طرف اشارہ کرتی بولی دونوں مسکرا دیں ۔"کئی لوگوں کے لیے دوست بے معنی ہوتے ہیں میرے لیے دوست بہت اہم ہوتے ہیں ۔۔۔جن کے ساتھ اپنا دکھ سکھ بانٹ سکتے پھر وہ آپ کو دلاسہ دیتے ہیں آپ کی خوشی میں خوش ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ دوست تو فری تھیرپسٹ ہوتے ہیں ۔۔۔اس لیے دوست ضروری ہوتے ہیں جن کے دوست نہیں ہوتے وہ بہت بد نصیب ہوتے ہیں۔کیونکہ اچھا دوست نصیب والوں کا ملتا ہے ۔۔۔اور میں ہمیشہ سے نصیب والوں کا حصہ بننا چاہتی ہوں ۔" زینب بھی اب خاموش ہوئی ۔اس کی زندگی مختصر سی دوستوں سے شروع ہو کر دوستوں پر ختم ہوتی تھی ۔وہ سچ میں ایک عام سی لڑکی تھی ۔"فکر مت کرو ہم بھی ہمیشہ تمہارے ساتھ رہیں گے۔۔۔۔" اس کی بات ختم ہوتے ہی فاطمہ مسکراتی بولی جس پر زھرا بھی اس کا ساتھ دیتی زینب کا ہاتھ پکڑے بولی ۔"ہم ہمیشہ ساتھ رہیں گے ۔۔۔۔ایک دوسرے کو ہر بات بتائے گیں اور ایک دوسرے کا ہر حالات میں ممکنہ حد تک ساتھ دیں گے۔۔۔۔" وہ زینب کا ہاتھ فاطمہ کے قریب کر گئی جو اس پر ہاتھ رکھ گئی ۔یہ ایک عہد تھا جو تین دوستوں نے تین انجان لڑکیوں نے لیا تھا یہ کس حد تک نبھایا جانے والا تھا یہ آگے جا کر پتہ چلنا تھا ۔"اب تمہاری باری فاطمہ ۔۔۔۔" زینب فاطمہ کی طرف اشارہ کرتے بولی ۔فاطمہ مسکراتی بولنے لگی ۔"میں فاطمہ گل طاہرہ ہوں ۔۔۔میری ماما کہتی ہیں میں اسلام کی شہزادی ہوں ۔اور فاطمہ گل طاہرہ کو اس کا رب پسند کرتا ہے میرے لیے یہی کافی ہے ۔۔۔۔میرے لیے میری حدیں میرا دین ہے جس کی حدوں کو پار کرنا میرے لیے ایسا ہے جیسے خود کو موت کے گھاٹ اتارنا ۔میں پوری دنیا سے بغاوت کر کے پوری دنیا کی نفرت برداشت کر سکتی ہوں مگر میں اللہ کی نفرت اللہ کی ناپسندیدگی برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔میں اپنی ہر خواہش کو قربان کر سکتی ہوں ۔۔۔۔میرے لیے مجھ سے جڑے رشتے کسی بھی چیز سے اہم ہیں جن کے لیے مجھے اپنا آپ قربان کرنا پڑے تو کر دوں گی ۔۔۔۔وہ الگ بات ہے میں رشتوں کے معاملے میں تھوڑی بد نصیب ہوں ۔۔۔۔" فاطمہ اپنا چھوٹا سہ تعارف دیتی بات ختم کرگئی ۔۔۔۔" فکر مت کرواب ہم تمہاری دوستیں بن گئی ہیں نہ دیکھنا ہمارا رشتہ سب سے مضبوط اور کبھی نہ ٹوٹنے والا ہو گا ۔۔۔۔" زھرا اس سے مسکراتی ہوئی بولی جب فاطمہ اثبات میں سر ہلا گئی ۔تینوں نے ایک دوسرے کو اتنا ہی جانا تھا جتنا ایک دوسرے کو بتایا گیا تھا ۔مگر پھر بھی تینوں کو دیکھ کر محسوس ہوتا تھا تینوں مستقبل میں بہترین دوستیں رہیں گی۔یہی چیز ان تینوں میں پائی جانے والی مشترکہ خوبی جو کہ وفاداری تھی بتاتی تھی ۔۔۔۔۔۔"تمہارے بابا کیا کرتے ہیں ؟" اب کی بار سوال کی شروعات زھرا نے کی تھی ۔اور فاطمہ سے پوچھا تھا ۔"میرے بابا بزنس کرتے ہیں انویسٹمنٹ کا اور ٹریڈ بھی کرتے ہیں اور اسلام آباد اور لاہور میں بابا کا کافی بزنس پھیلا ہوا ہے۔۔۔۔" فاطمہ نے بتایا ۔جب زینب نے زھرا کو دیکھا تو فاطمہ بھی دیکھنے لگی۔"میرے بابا بھی بزنس کرتے ہیں بابا کی بھی مینوفیکچرنگ کمپنیز ہیں اور ساتھ ہی بابا کا امپورٹ ایکسپورٹ کا بھی بزنس ہے بابا کا بزنس صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ اسکی شاخیں بیرون ملک بھی ہیں جن میں پہلی فہرست میں تھائی لینڈ آتا ہے۔۔۔۔"زھرا نے بھی بتایا تھا ۔"تھائی لینڈ کیوں ۔۔۔۔امیریکہ یا آسٹریلیا کیوں نہیں ؟" اس کی بات پر زینب نے اپنا شک پیش کیا ۔"ہاں یہ سوال میں نے بھی بابا سے کیا تھا بابا نے بتایا ان کا پارٹنر تھائی لینڈ کا تھا اور ہماری فرنچائز تھائی لینڈ میں کھولنے کا آئیڈیا بھی انہوں نے دیا

Prev Next Page