Chapter 1الرحمٰن الرحیم
اشارے سے پیچھے رہنے کا کہا ۔اور اپنی چیزیں خود اٹھانے لگی۔"میں سوچ رہا تھا ہم نے اچھے سے بات نہیں کی ہے ابھی تک۔۔۔" وہ بولا تو زھرا اپنا بیگ سمیٹتے کھڑی ہوئی ۔"میرے اصولوں میں یہ بات نہ آتی ہے نہ اتنی اہم ہے تو ہم بات نہ کریں تو بہتر ہے ۔۔۔۔۔" وہ کہتی جانے لگی۔"اب کیا بات بھی نہیں کر سکتے اتنے سخت اصول؟" وہ ہیزل گرین آنکھوں والا آنکھوں میں حیرت لیے سوال پوچھنے لگا ۔"کوئی شک ہے۔۔۔۔ایک بات یاد رکھنا میرے سامنے اپنی حدوں میں رہنا انہیں پار نہ کرنا کوئی میرے متعلق کسی قسم کی بھی بات کرے میں برداشت نہیں کروں گی ۔۔۔۔اگر میرے اصول توڑے تو جانتے ہو نہ۔۔۔۔" وہ مڑتی ہوئی غصے سے بھری سیاہ نظریں اس پر گاڑھے بولی ۔وہ جان چکی تھی وہ کیا کرنے کی کوشش کر رہا تھا ۔"ہمم تم لڑنا بھی جانتی ہو اور جیتنا بھی ۔۔۔" وہ اس کا جملہ مکمل کرنے لگا ۔تو زھرا اثبات میں سر ہلا گئی۔"جو حکم سرکار ۔۔۔۔""ایسے غصہ تو نہ کیا کریں۔۔۔" اب کی بار وہ ہلکا سہ مسکراتا سر خم کرتا بولا ۔جبکہ وہ وہاں سے چلی گئی ۔ہیزل گرین آنکھوں میں دلچسپی اور زیادہ بڑھنے لگی تھی۔" کچھ تو بات ہے تم میں شہزادی صاحبہ ۔۔۔۔" وہ اس کو جاتا دیکھ منمنایا ۔۔۔۔اور سیڑھیاں چڑھتا ٹیریس کی جانب رخ کر گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آنکھ کھلتے ہیسب سے پہلے خاموشی محسوس ہوئی۔ایسی خاموشی جو عام نہیں ہوتی—جس میں قدموں کی آہٹ بھیاجازت لے کر داخل ہوتی ہے۔زھرا نے پلکیں جھپکائیں۔سامنے سنگِ مرمر کی لمبی راہداری تھی،جس کے دونوں طرف قطار میںکھڑی مشعلیں ہلکی روشنی بکھیر رہی تھیں۔“شہزادی تشریف لا رہی ہیں—”آواز بلند نہیں تھی،مگر اس میں ایسا وقار تھا کہفضا خود سنبھل گئی۔۔۔۔۔دو خادمائیں آگے بڑھیں۔ایک نے آہستگی سےزھرا کے دوپٹے کا کنارا درست کیادوسری نظریں جھکائے کہنے لگی“قدم سنبھال کر، شہزادی۔”زھرا نے ایک لمحے کو رُک کر اپنے ہاتھوں کو دیکھا۔یہ ہاتھ…انگلیوں میں وہی پہچان تھی،مگر احساس اجنبی تھا۔وہ آگے بڑھی۔ہر قدم کے ساتھ فرش پر ہلکی سی آواز ابھرتی—جیسے محل اُسے پہچانتا ہو۔دروازے کھلے۔دربار میں داخل ہوتے ہی ہلکی سی جنبش ہوئی۔سب نظریں جھک گئیں۔ایک نظر جھکے نہ جھکتی تھی۔“شہزادی زہریا سلیرا بنتِ عامر بن ہشام ـــملکہ کی جانشین—دربار میں حاضر ہو چکی ہیں ۔”اعلان مکمل ہوااور خاموشی مزید گہری ہو گئی۔زھرا نے سر اُٹھایا۔اونچی چھت،کندہ دیواریں،سونے کے کام والے ستون—یہ سب اُس کے تھے…یا شاید وہ اِن سب کی تھی۔تخت کے قریب کھڑی دایہ نے ایک نظر اُسے دیکھا۔آنکھوں میں سوال تھا،مگر ہونٹ بند تھے۔دور کہیں ایک غلام کی نظریں اسی پر جمی تھی۔زھرا نے دل پر ہاتھ رکھا۔دھڑکن اب بھی بے ترتیب تھی۔اُسے لگا یہ جگہ اُس کی تقدیر ہے—مگر یاد نہیں کہ کب قبول کی تھی۔اور یہی خیالسب سے زیادہ خوفناک تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"بھلا یہ کیسی دوستی ہے ہم ملتے ہی نہیں ہے یار تھوڑا وقت تو نکال لیا کرو ۔۔۔میں تم لوگوں کو بہت مس کرتی ہوں ۔" ۔ بہت دنوں کے بعد تینوں لڑکیاں دوبارہ اکٹھی ہوئی تو زینب بولی ۔"صرف پانچ دن ہی تو ہوئے ہیں"۔ زھرااطمینان سے کہتے ہوئے کیفے کی جانب بڑھ رہی تھی ۔زهرا کو بنتِ بیگم کے گھر اکیلے ہونے کی وجہ سے جلد ی جانا ہوتا تھا جبکہ فاطمہ سے تو زینب ویسے بھی ہر روز ہی مل لیتی تھی ۔"صرف۔۔۔۔ ویسے پانچ دن کتنی جلدی گزر گئے ہیں نہ "۔ زینب آبرو آچکائے بولی اور پھر تھوڑے تھکے لہجے میں گویا ہوئی ۔ اسی پل فاطمہ جو اپنی گھنی پلکوں میں چھپائی آنکھوں کو زمین پر ٹکائے ہوئے تھی انہیں اٹھا کر زینب کو دیکھنے لگی ۔"ہممم۔۔۔۔ ویسے کتنی عجیب بات ہے کچھ پل ایسے ہوتے ہیں کہ ایک طرف انسان ان کو ہمیشہ کے لیے قید کرنا چاہتا ہے مگر وہ اتنا جلدی گزر جاتے ہیں اور دوسری طرف دوسری طرف انسان کچھ پلوں کو کسی بھی طرح بس گزار نا چاہتا ہے مگر وہ گزرتے ہی نہیں ہیں"۔فاطمہ اپنی کالی آنکھوں کو گھنی پلکوں سے ڈھکے زمیں کی طرف کیے بولی ۔"آریو او کے ، ٹھیک تو ہو نہ ، کچھ ہوا ہے"۔ زینب پریشانی سے بولی ۔"نہیں کچھ نہیں ہوا ، بس ویسے کہہ رہی ہوں "فاطمہ زخمی مسکراہٹ لیے بولی ۔" ویسے بات تو تمہاری ٹھیک ہے ، لیکن مزے کی بات ہے دونوں ہی گزر جاتے ہیں"۔ زھرا مسکرا کر اچانک فاطمہ