Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 27 of 44 61% Completed ~4 min read

آئندہ کسی لڑکی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ہزار مرتبہ سوچنا ۔۔۔۔۔" وہ شہادت کی انگلی اس کی جانب کرتی بولی عبدالرحمٰن کو گھورتی وہاں سے زینب کو لیے نکل گئی جبکہ عبدالرحمٰن کے چہرے پر لڑکے کو زمین پر پڑا دیکھ پہلے حیرانی اور پھر ڈمپل نمایاں ہواتھا ۔۔۔۔۔زینب زھرا کے ساتھ خاموشی سے چل رہی تھی جب انہیں پیچھے سے فاطمہ کی آواز سنائی دی ۔"اسلام علیکم! "وہ مڑیں تو فاطمہ ان کے قریب آتی بولی ۔"وعلیکم السلام ۔۔۔۔" دونوں مسکرا کر بولی ۔پھر کچھ باتیں کرتی وہ چل دی ۔زھرا تھوڑا آگے تھی جبکہ زینب فاطمہ کو لیے پیچھے چل رہی تھی ۔"تم جانتی ہو ابھی کیا ہوا تھا؟" زینب زھرا پر نظریں ٹکائیں ہلکی آواز میں فاطمہ سے بولی ۔"کیا ؟" فاطمہ پوچھنے لگی اور زھرا جو آگے چل رہی تھی جس پر زینب کی نظر بھی تھی اسے دیکھنے لگی ۔"زھرا نے ایک لڑکے کا جبرہ توڑ دیا ۔۔۔۔" زینب کچھ اور کہتی زھرا پیچھے مڑی تھی زینب ادھر اُدھر دیکھنے لگی جیسے کچھ نہ بولا ہو۔"کیا ہوا ؟" اور مسکرا کر انجان بنتی زھرا سے پوچھنے لگی ۔جب کہ زھرا اسے شکی نظروں سے دیکھتی نہ میں سر ہلا گئی ۔فاطمہ زھرا کو ہی دیکھ رہی تھی مگر وہ اسے دیکھ کر بھی صرف مسکرا دی ۔"کیسے ؟" فاطمہ مخصوص آواز میں پوچھنے لگی۔"آہستہ ۔۔۔" زھرا نہیں مڑی تو زینب بولی ۔"لڑکا لڑکی کو ۔۔۔۔" وہ بتانے لگی تو زھرا دوبارہ مڑ گئی"لڑکا لڑکی کو چھیڑ رہا تھا تو میں نے اسے روکا اس نے بدتمیزی کی تو میں نے اسے مارا ۔۔۔۔ظاہر ہے اس نے حد پار کی تو سزا تو ملنی تھی نہ ۔" اب کی بار خود زھرا بتانے لگی تو زینب شرمندہ سی ہو گئی ۔زھرا زینب کو ہی دیکھ رہی تھی ۔"سوری۔۔۔۔وہ میں۔۔۔۔"" آٹس اوکے ۔۔۔۔"وہ اپنے الفاظ پورے کرتی اس سے پہلے ہی زھرا بولی اور پھر فاطمہ ان دونوں کو دیکھتی الجھن سے دیکھنے لگی جس کی الجھن زینب نے کلاس میں آتے ختم کی تھی۔……..دوسری جانب عبدالرحمٰن اس لڑکے کے پاس آ بیٹھا جس کا نام زین تھا اور گہرا سانس بھر گیا آس پاس کے لوگ جا چکے تھے جبکہ وہ لڑکی بھی بھاگ گئی جس کو وہ تنگ کر رہے تھے ۔"کیا کیا تھا تم نے ؟" وہ اس کے پاس آتا بولا جو فلحال اٹھنے لگا ۔"جو بھی تھی خود آئی تھی معاملے میں۔۔۔میں نے اسے کچھ نہیں کہا تھا اور نہ ہی چھیڑا تھا ۔۔۔۔" وہ لڑکا اپنا گال تھامے وضاحت سے بتانے لگا۔"خود آئی تھی ۔۔۔۔" وہ حیرت سے آبرو آچکائے بولا اور اس جانب دیکھنے لگا جہاں سے وہ گزر کر گئی تھی ۔آنکھوں میں پھر سے دلچسپی امڈ آئی تھی ۔"اٹس اوکے چلو چلیں ۔۔۔۔" وہ کہتا اس کو لیے اپنے ڈیمارٹمنٹ کی طرف بڑھا آج وہ کتنے دنوں بعد لیکچر لینے آیا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔۔۔زھرا کو یونیورسٹی سے لینے بھی عامر صاحب آئے تھے جہاں اسے گھر لے جانے کی بجائے گھمانے پھرانے لے گئے ۔۔۔۔تاکہ اس کا موڈ بہتر ہو جائے ۔زھرا بھی بہت دیر تک ان کے ساتھ گھومتی رہی ۔۔۔کچھ شاپنگ کی ۔۔۔کھانا کھایا اور آخر پر آئس کریم کھا کر وہ لوگ گھر کو روانہ ہوئے جہاں سے بیگ اٹھاتے عامر صاحب نے ائیرپورٹ جانا تھا ۔گھومنے کے بعد وہ تھوڑی فریش محسوس کر رہی تھی دونوں ماں بیٹی نے عامر صاحب کو اچھے سے الوداع کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔زھرا کی یہ لڑائی یونیورسٹی میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی اس کی اپنی کلاس اس سے کتراتی تھی ۔جس کی وجہ سے اسے ہمیشہ آخر پر ہی سیٹ ملتی تھی ۔اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کیونکہ وہ تو اپنے دو سال پورے کرنے آئی تھی ۔یہ ستمبر کا ایک خوشگوار دن تھا۔زھرا لیکچر لے چکی تھی اس وقت اپنے ڈیمارٹمنٹ کی سیڑھیوں میں بیٹھی اپنے بیگ میں کچھ ٹٹول رہی تھی۔"شہزادی صاحبہ ۔۔۔۔۔"جب اچانک اسے آواز سنائی دی اسے محسوس نہیں ہوا تھا اس کے پاس کوئی آیا ہے اس لیے اچانک آواز سننے پر اسے جھٹکا لگا جس کے سبب اسکے ہاتھ سے بیگ چھوٹ کر گر گیا ۔"اششش۔۔۔۔"وہ سامنے کھڑے حسین شہزادہ کودیکھتی غصے سے آنکھیں دباتی بولی ۔"اوو۔۔۔۔۔مائے مسٹیک ۔۔۔۔" وہ اسے بیگ اٹھانے میں مدد کرنے لگا جب زھرا نے انگلی کے

Prev Next Page