Chapter 1الرحمٰن الرحیم
جہاں کمپنی کی سمت طے ہوتی تھی۔ساتواں فلور بورڈ آف ڈائریکٹرز کے لیے مخصوص تھا یہاں طاقت اور اختیار پایا جاتا تھا ۔کمپنی کا آخری حصہ رؤف ٹاپ تھا جہاں سرمایہ کاروں کے لیے نجی لاؤنج ،غیر رسمی ملاقاتیں اور گرین ایریا موجود تھا۔مختصر یہ کہ درانیز گروپ کی اس بلڈنگ میں پاکستان کی سب سے بڑی انویسٹمنٹ اور ویلتھ مینجمنٹ کا بزنس وقوع پزیر ہوتا تھا ۔جب درانیز گروپ کی پارکنگ میں کالی BMW 1000RR آ رکی تھی ۔پر پھیلائے منہ سے آگ نکالتا ،آنکھوں میں وحشت لیے ڈریگن سے وہ شخص فوراً پہچانا جا سکتا تھا ۔ہیلمٹ اتار کر لمبے بالوں کو درست کرنے کے لیے اس نے سر ہلایا کہ بال بکھر گئے ۔اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے بالوں کو سیٹ کیا ۔اور بائک سے اتر کر وہ لفٹ لیتا ہوا سیدھا چھٹے فلور پر آیا تھا۔ چھٹے فلور پر آؤ تو تمہیں یہ بٹا ہوا دکھے گا ۔۔۔۔سی ای او اور پریزیڈنٹ کے لیے الگ دو آفس موجود تھے جبکہ سی او او اور سی آف او کے لیے بڑے کیبن جبکہ سیکرٹریز کے لیے فلور کے درمیان میں چھوٹے کیبن بنائے گئے تھے جس کے دائیں اطراف میں میٹنگ روم موجود تھا ۔عبدالرحمٰن لفٹ سے نکلا تو سب لوگ اسے دیکھتے ادب سے سلام کرنے لگے جبکہ وہ مغرور انسان ان سب کو نظر انداز کرتا چلتا گیا ۔اور بغیر دستک دیتا سیدھا پریزیڈنٹ آفس میں داخل ہوا جہاں تحمل کا شاہکار صفحوں پر جھکا تھا اور اپنا خاص نام مسلسل صفحوں پر درج کر رہا تھا ۔عبدالرحمٰن کے اچانک اندر آتے کیمر نے اسے دیکھا اور تاسف سے گہرا سانس بھرا جیسے اس چیز کا عادی ہو اور نہ بھی ۔۔۔۔اسنے صفحوں کو ایک جانب رکھا اور عبدالرحمٰن کو دیکھنے لگا ۔"مام کہہ رہی تھی آپ نے بلایا ہے ۔۔۔۔" وہ کمرے میں داخل ہوتا کیمر کے سامنے موجود کرسیوں میں سے ایک پر آ بیٹھا ۔۔۔۔ایک بازو کرسی کے بیک پر اور اور دوسرا کرسی کے ہاتھ پر رکھے وہ ایک ٹانگ کو لمبا اور ایک کو موڑے بیٹھا تھا ۔دونوں کو دیکھو تو فیصلہ نہ کر پاؤ باپ بیٹا ہیں ۔۔۔۔ایک پر سکون تو دوسرا سرد مزاج ۔۔۔۔ایک جانب متحمل مرد تو دوسری جانب بگڑا ہوا نوجوان لڑکا۔۔۔کیا سچ میں وہ ایک دوسرے کے رشتےدار تھے اور رشتہ بھی باپ بیٹے کا؟"ہمم ۔۔۔میں چاہتا ہوں تم کام کی شروعات کرو ابھی سے۔۔۔۔ تھوڑا مگر فائدہ مند ۔۔۔۔" کیمر نے انتہائی تحمل سے جواب دیا تھا ۔"اممم ہمم تو مجھے اس لیے بلایا ہے ۔۔۔۔" اب عبدالرحمٰن دونوں ہاتھ سامنے پڑے میز پر ٹکائے بولا ۔"عثمان بیگ ہمارے نئے کلائنٹس ہیں ان کے ساتھ ڈیل تم ڈن کرو گے ۔۔۔۔میک شیور ڈیل ہاتھ سے نہ جائے he is beneficial person۔۔۔" کیمر نے اس کے سامنے خاکی کور والی ایک فائل رکھتے ہوئے کہا تھا ۔"اووو۔۔۔۔تو ڈیل کو میک شور کیسے بنانا ہو گا ؟" عبدالرحمٰن ان کی بات سنتے ستائشی نظروں سے پوچھنے لگا جیسے جانتا ہو بس ان کے منہ سے سننا چاہتا ہو ۔"وہ جو کہے گا تمہیں ایکسپرٹ کرنا ہے مگر گھاٹے کا سودا نہ ہو ۔۔۔۔اس کی باتوں کو ذہن میں رکھنا ہو گا اور ماننا ہو گا جب تم اس کے سامنے جاؤ تو یہ محسوس کرواؤ گے کہ وہ بہت اعلیٰ درجے کا پائیدار ،قابل بھروسہ اور ایماندار آدمی ہے بے شک وہ کتنا ہی گھٹیا کیوں نہ ہو ۔۔۔۔" کیمر صاحب نے اسے تھوڑی وضاحت دی جیسے پہلی بار نہ ہو ۔"تو ان شورٹ مجھے ان کی سو کالڈ گریڈی پرسن کی طرح پیروی کرنی ہو گی اور ان کی ہاں میں ہاں ملانی ہو گی ۔۔۔۔اور ان کی خوشامد کے لیے تعریف کے پل باندھنے ہوں گے" عبدالرحمٰن نے دو شہادت اور ساتھ والی انگلی کو کھولتے اور بند کرتے وضاحت کو تھوڑا مختصر کیا تو کیمر کچھ کہے بغیر ہاں میں سر ہلانے لگے ۔"See I'm not going to do this ….""میں یہ نہیں کروں گا ۔۔۔۔میں کسی کے سامنے جھکنے گرگرانے اور کسی کو سراہنے کے لیے نہیں بنایا گیا۔۔۔۔ یہ مجھے سوٹ نہیں کرتا " عبدالرحمٰن چہرے پر جھری لائے اکتاتا بولا تھا ۔اس کے چہرے سے محسوس ہوتا تھا کہ کیمر کی باتیں اسے بلکل پسند نہیں آئی تھی ۔"میں عبدالرحمٰن ہوں اور میں ان کاموں کے لیے میں نہیں