Chapter 1الرحمٰن الرحیم
کے سامنے آتے بولی جس سے فاطمہ رک کر اسے دیکھنے لگی اور پھر اس کی بات پر مسکرا دی ۔آنکھوں میں چمک اٹھی تھی ۔"ہمم، مگر دونوں ہی یادیں چھوڑ جاتے ہیں جو کسی کو خوشی دیتی ہیں اور کسی کو تکلیف ، لیکن دونوں ہی ایک دوسرے کے ساتھ سہی وفادار ہیں ایک جاتے ہوئے دوسرے کو چھوڑ جاتا ہے۔" ۔ فاطمہ آنکھوں میں چمک لیئے مخصوص انداز میں بولی تھی۔"وفادار ہیں کیوں کہ قدرت کے محتاج ہیں ورنہ انسانوں کو ہی دیکھ لو ۔۔۔" زینب اب کی بار تنزیہ لہجے میں ہنستی بولی ۔"بلکل سہی مگر ہمیں یہ بھی تو سمجھنا چاہیے نہ "لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا"۔۔۔۔ " زھرا مسکراتے بولی ۔"تم لوگوں کو اس آیت سے جڑی ایک مزے کی بات بتاؤں میں ۔۔۔۔۔"اب کی بار فاطمہ بولی تھی جس نے ساری بحث کی شروعات کی تھی ۔"ہممم۔۔۔بولو ۔۔۔۔" زھرا اور زینب دونوں کہنے لگی تھی۔"تم لوگ جانتے ہو اس آیت کا ترجمہ یعنی (اللہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا) تم لوگ جانتے ہو یہاں استعمال کیے جانے والا "لا" عام نہیں ہے عربی میں یہ لا قطعی انکار کے لیے استعمال ہوتا تھا ۔ اور" یکلف" یعنی بوجھ ڈالنا یا ذمہداری ڈالنا ہوتا ہے ۔آیت میں استعمال کیا جانے والا لفظ رب یا خدا نہیں ہے" اللہ" ہے ۔۔۔۔" فاطمہ سانس لینے کو رکی تھی ۔"اللہ یعنی ایسا نام جس کے اندر اللہ تعالیٰ کی ساری صفات آ جاتی ہیں یعنی رحمان ،رحیم ،مالک،خالق ،رازق ہر صفات ۔۔۔۔۔ تو توجہ کی بات یہ ہے کہ اللہ نے یہاں یہ لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ وہ بتانا چاہتا ہے کہ اسے علم ہے کہ جو ذمہ داری وہ ہم پر ڈال رہا ہے اس کے پیچھے کی تکلیف کیسی ہے ہم کس حال میں ہیں ہم کیا کر رہے ہیں اسے سب کا علم ہے ۔۔۔۔۔سمجھ آئی ؟" فاطمہ بات پوری کرتی انہیں سمجھ آنے کا پوچھنے لگی تھی ۔جب دونوں لڑکیاں ہاں میں سر ہلا گئی ۔"اچھا تو آگے بڑھتے ہیں "نفسا" یعنی نفس اللہ یہاں قلب یعنی دل ،یا جان یا جسم بھی استعمال کر سکتے تھے مگر اللہ نے یہاں نفس کا لفظ استعمال کیا ہے اس کے پیچھے بھی وجہ ہے ۔۔۔اگلا لفظ ہے "الا" یعنی مگر یا سوائے اس کے یہاں ایک واضح لکیر کھینچی گئی ہے یعنی اس سے نہ آگے نہ پیچھے آخری لفظ کو دیکھیں تو وہ ہے "وسعھا" برداشت حد یعنی گنجائش ہے اب یہاں ایک بات سمجھنے والی ہے جو اکثر نہیں جانتے ہیں یہاں استعمال ہونے والا لفظ وسعا ہے طاقتہ یا قوہ نہیں اب طاقت اور وسعت میں کیا فرق ہوتا ہے پتہ ہے ؟" اس نے تفصیل سے سمجھاتے ہوئے سوال پوچھا تو دونوں ماتھے پر شکن لیے نہ میں سر ہلا گئیں ۔۔۔۔"طاقت یعنی وہ طاقت ہے جو جسمانی ہوتی ہے physically اور وسعت یعنی وہ جو تم اندر سے سہہ سکتے ہو سمجھے نفسا کا لفظ بھی اسی لیے استعمال ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہاں بتانا چاہ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بھی انسان کسی بھی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا طاقت سے مراد وسعت ہے جو اندرونی طاقت ہے تو جب مصیبت آتی ہے تو اللہ اس حد تک آزماتا ہے جہاں ٹوٹنے کے قریب ہوتے ہو مگر ابھی ٹوٹتے نہیں ہو ۔۔۔۔ اگر تم میں وسع نہیں تو پریشانی بھی نہیں آئے گی ۔۔۔۔جتنی وسعت ہو گی اتنی پریشانی آئے گی ۔۔۔آزمائش اس بات کی دلیل ہے کہ اگر تم پر پریشانی آئی ہے تو اس کو سہنے کی گنجائش پہلے سے موجود ہے وہ گنجائش نہیں ہوتی تو ایسی پریشانی کبھی نہ آتی ۔۔۔۔" فاطمہ نے بہت آسان طریقے سے سب واضح سمجھایا تو دونوں اسے داد دینے لگی تھی ۔"امیزنگ ۔۔۔۔تم نے آج اچھا سبق دیا ہے ۔۔۔"زینب اس کو داد دیتی کہنے لگی تھی ۔"ہمم۔۔۔۔تو ثابت ہوا ہم کمزور نہیں ہوتے مگر مایوسی کی وجہ سے ہارنے لگتے ہیں ۔۔۔"زھرا بھی رائے پیش کر نے لگی تھی ۔"ہممم۔۔۔۔اسی لیے تو مایوسی کفر ہے ۔۔۔۔جب انسان مایوس ہوتا ہے تو وہ امید کھونے لگتا ہے اسے ہر دروازہ بند دکھائی دیتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے بھی نا امید ہو جاتا ہے اور شکر کی بجائے نا شکری اور