Chapter 1الرحمٰن الرحیم
۔۔۔۔۔ اب بس کرو آج بھی لڑائی کرو گی تم دونوں ، زھرا وہ کل جا رہی ہے چلو اچھے سے الوداع کرو۔۔۔۔۔ ایک دوسرے سے بعد میں ناراض ہو لینا"۔ بنتِ بیگم دونوں کو دیکھ کر سر جھٹکتے کہنے لگیں اور عامر ان کو دیکھتے اپنے بنائے خوبصورت سے رشتوں چھوٹے سے گھر کو دیکھتے صرف مسکرا دیے۔ پھر زھرا سارہ کو ناراضگی ایک طرف رکھے اچھے سے الوداع کرتے سونے چلی گئی ۔صبح ہوتے ہی بنتِ بیگم اور عامر صاحب سارہ کو الوداع کرتے اور زھرا کو یونی چھوڑتے آرام سے اپنے کاموں میں مست ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔احان کی نیلی BMW یونیورسٹی کے سامنے آ کر رکی تھی جب وہ گاڑی سے اترا تھا ہر چہرہ اس کی طرف مڑا تھا ۔۔۔۔ہر آنکھ نے اسے سراہا تھا ۔جب کہ نیند آلودہ گہری سمندری آنکھوں نے سب کو نظر انداز کیا اور وہ یونیورسٹی کے اندر داخل ہوا ۔اس کی گاڑی پارکنگ میں لگانے کے لیے ایک شخص اس سے چابی لے چکا تھا ۔"ہائے ۔۔۔۔۔" جب وہ سمندری آنکھوں میں ایک نشہ سے ملائے اپنی دھن میں چل رہا تھا تو ایک لڑکی اسے روکتی بولی ۔جو اسے کئی دنوں سے فالو کر رہی تھی ۔وہ سمندری آنکھوں والا برف سے بھی سرد شخص اس کا دل توڑتا بغیر کسی پچھتاوے کے کوئی جواب دیے بغیر اسے نظر انداز کرتا ایک طرف سے نکلتا آگے بڑھ گیا ۔جب وہ اچانک رکا ۔اور اپنے دائیں جانب سمندری آنکھوں کا رخ کیا تھا ۔جہاں ایک لڑکی باقی سب کی طرح سیاہ گہری نظریں اسی پر مرکوز کیے ہوئے تھی۔کالی موٹی آنکھیں دیکھو تو دیکھتے رہ جاؤ ۔۔۔۔۔وہ معصومیت محبت اور نرمی کا گھر سیاہ تاریک چمکتی آنکھیں تھیں ۔کیا تم نے کبھی سمندر کو تاریکی میں ڈوبتے دیکھا ہے؟ نہیں تو اب دیکھ لو ۔۔۔۔۔سمندر وہ جو ہر چیز کو ڈوبا لیتا ہے مگر تاریکی وہ جو سمندر کو نگل لیتی ہے جس پر سمندر کا زور نہیں چلتا ۔۔۔۔۔اور یہاں یہی تو ہوا تھا ابھی ابھی تاریکی سمندر کولے ڈوبی تھی پورا سمندر سیاہ تاریکی میں جا گرا تھا ۔کب کیسے ؟ اسے اندازہ ہی نہ ہوا ۔۔۔۔۔وہ تو خود انجان تھا۔وہ اس سیاہی سے خود کو نہیں نکال پایا ۔وہ ابھی بھی اسی لڑکی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔کیا یہ سچ میں احان درانی تھا ؟ جب فوراً تاریکی نے اپنا جال اٹھایا اس سیاہ آنکھوں والی نے اپنی نظریں اس پر ہٹا لیں جو کچھ کھوج رہی تھی اور وہاں سے چلتی ہوئی دور نکل گئی۔مگر تاریکی جتنی بھی ڈھل کیوں نہ جائے سمندر کی گہرائی پر ہمیشہ بسیرا کیے رکھتی ہے ۔۔۔۔۔اور اب جس سمندر میں تاریکی نے بسیرا کیا تھا وہ سمندر انتہائی گہرا تھا ۔۔۔۔۔"احان ۔۔۔۔" احان اپنے ڈیمارٹمنٹ کی طرف بڑھ رہا تھا جب اسے عمرکی آواز آئی۔۔۔۔"کیسے ہو بھائی ۔۔۔۔" عمر اس کی جانب بڑھتا بولا ۔"ٹھیک ۔۔۔۔۔" آہ۔۔۔آخر وہ یہاں بھی بول ہی پڑا ۔۔۔اپنی بھاری اور پر سکون آواز میں جو یقیناً اس نے کیمر سے وراثت میں پائی تھی ۔۔۔۔لو اسے بھی سن لو اور سنو تو سنتے ہی رہو ۔۔۔۔۔۔"I am also fine"وہ عمر احمد نامی لڑکا خود ہی کہنے لگا یہ جانتے ہوئے کہ احان تو پوچھے گا نہیں ۔جبکہ احان کوئی جواب دیے بغیر ہی چل دیا ۔ احان کالج میں بھی صرف عمر سے بات کرتا تھا ، یہ بھی صرف اس لیے کیونکہ وہ احان کا ایک اچھا دوست ثابت ہوا تھا ۔ہر پل ہر وقت اس کے ساتھ کھڑا رہا تھا ۔جہاں اس کی ضرورت پڑتی وہ کوئی قصر نہ چھوڑتا۔یہاں تک کہ احان کی بات نہ کرنے کی عادت دل پر بھی نہیں لیتا تھا ۔" پہلے کیفے سے کچھ کھا لیں؟"۔ عمر احان سےمخاطب ہوتا پوچھنے لگا یہ جانتے ہوئے کہ وہ کبھی گھر سے ناشتہ نہیں کر آتا ۔" نہیں " ۔ وہ صرف اتنا کہتا ہوا ہی چلتا رہا ۔"سر آپ یہاں ، کوئی کام ۔ ۔ ۔ ۔ "احان کے وائٹ بلاک میں انٹر ہوتے ہی ایک لڑکا احان کے پاس آتا کہنے لگا ، جبکہ احان اسے ایک نظر دیکھتا اس لڑکے کا سوال مکمل ہونے سے پہلے سرد تاثرات کے ساتھ آگے بڑھ گیا ۔ اور عمر بھی اس کے پیچھے چل دیا ۔" تم ۔۔۔۔ تم یہاں۔۔۔۔۔ " ۔ وہ چانسلر کے آفس میں انٹر