Chapter 1الرحمٰن الرحیم
میں دھواں ۔۔۔۔۔ زمین سے لگے صوفے جن میں کچھ لوگ بیٹھے تھے اور درمیان میں چھوٹی میز جو مشروب اور دوسری نشے کی چیزوں سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔کمرے میں کل چار افراد تھے دو ایل شکل کے صوفے کے ایک جانب دو ایک جانب بیٹھے تھے۔۔۔۔وہاں موجود افراد پر نظر دوڑاؤ تو ان میں ایک وہی شخص تھا ۔۔۔جس کے بازو پر ٹیٹو موجود تھا ۔وہ منہ کے قریب کچھ لے گیا ۔۔۔لیٹںنے والے انداز میں وہ صوفے پر بیٹھا تھا ۔کچھ ہی دیر میں اس کے منہ سے ایک دھواں نکلا بڑا سہ دھواں ۔۔۔۔جو اس نے ساتھ بیٹھے لڑکے کے منہ پر اڑایا۔۔۔۔وہ یہ کام بار بار کر رہا تھا ۔جیسے لطف لے رہا ہو ۔۔۔۔وہ صوفے پر سیدھا ہو کر بیٹھا اس نے شراب کی بوتل اٹھاتے اسے منہ لگا لیا ۔۔۔۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی جب وہ ٹیبل پر کچھ ٹٹولنا شروع ہوا اسے وہ مل گیا جو وہ چاہتا تھا ۔۔۔۔اس نے وہ چیز اٹھائی اور وہ ایک سفید رنگ کی پڑیا تھی ۔اسنے پریا کو ٹیبل پر نکالا ۔۔۔پھیلایا ۔۔۔ناک کی ایک نتھ پر ہاتھ رکھا اور دوسری نتھ قریب لے جا کر سانس اندر کی جانب کھینچا ۔۔۔۔۔دھڑکن بڑھی۔۔۔۔سر بھارا ہوا۔۔دماغ سن ہونے لگا ۔۔۔۔۔سوچیں رکنے لگیں۔۔۔۔لذت بڑھی، سکون اترنے لگا ۔۔۔۔اسے اپنا آپ ہلکا محسوس ہوا وہ حقیقت کی دنیا سے پڑے جا بیٹھا ۔۔۔۔اسے پسینہ آ رہا تھا جسم کانپنے لگا تھا مگر سکون حاوی تھا ۔اسے اور سکون چاہیے تھا۔اس نے کی گئی حرکت کودوبارہ دہرایا اور بار بار دہرایا ۔وہی کیفیت بڑھ کر امڈنے لگی ۔۔۔۔آخر وہ صوفے پر لیٹنے کے انداز میں پیچھے ہوا اور سکون کو محسوس کرنے لگا جو صرف بظاہر کا ہی سکون تھا ۔۔۔۔۔مگر اس کے لیے جیسے یہ لا زوال ہو ۔۔۔۔وہ سکون کو محسوس کرتا صوفے پر سرکنے لگا اور سرکتا ہی گیا۔۔۔۔۔۔شہزادی کہاں ہو ؟ ۔ ۔ ۔ " ۔ بنتِ بیگم یہ کہتی سٹڈی میں آئیں وہ جانتی تھی کہ وہ یہیں ہوگی ۔"اب کتابوں کی دنیا سے حقیقی دنیا میں بھی آجاؤ ۔ہمیشہ ان میں ہی گھسی رہتی ہو " وہ اپنی توقعات کے مطابق اسے وہاں پا کر کہنے لگیں ۔"ماما جان آپ کو میری کتابوں سے کیسی دشمنی ہے؟ " ۔ وہ سیاہ نظریں ان کی جانب کرتے روٹھتی سی بولی ۔"ماما ۔ ۔ میری کتابوں کو کچھ نہ کہا کریں کتابیں سیکھنے کے لیے پڑھی جاتی ہیں ۔ ۔ ۔ اور میری کتابیں مجھے بہت کچھ سکھاتی ہیں۔" وہ اپنی ماں کو دیکھتی ایک فخر سے بتانے لگی۔"اچھا تو ہمیں بھی بتاؤ ایسا کیا سیکھ لیا ہے تم نے ۔۔۔" بنتِ بیگم اس کے قریب آتی سوالیہ لہجے میں پوچھنے لگی ۔"یہی کہ وقت اور حالات بہت دھوکے باز چیز ہوتی ہے یہ سامنے والے کی حیثیت مرتبہ رنگ روپ یا کردار نہیں دیکھتے ، بلکہ انصاف کے ساتھ کسی کو بھی اپنے اندر نگل لیتے ہیں اور مجھے ان کا یہ انصاف پسند ہے ۔۔" ۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوئےبازو پیچھے باندھتی بولی ۔وہ سفید رنگ کے فراک اور ٹراؤزر میں ملبوس دو پٹہ شانوں پر لیے اپنی سفید رنگت کے ساتھ بہت خوبصورت اور پر کشش معلوم ہو رہی تھی۔"انصاف ۔ ۔ ۔ " ۔ بنتِ بیگم بھی اس کے پیچھے کھڑے ہوتے ہوئے آبرو کھڑے کیے کہنے لگی۔"ہاں ، انصاف ۔ ۔ "زجرا جتاتے ہوئے بولی ۔ اور سٹڈی سے نکل گئی ۔"شہزادی یہی تو فرق ہے حقیقی اور خیالی دنیا میں اگر یہ بات تمہیں حقیقی دنیاسمجھاتی تو تمہیں یہ انصاف کبھی بھی نہیں پسند ہوتا جیسے ان کو نہیں ہو تا جن کو یہ دنیا دکھا دیتی ہے ۔ ۔ ۔" بنت بیگم بھی اپنا سر نفی میں ہلاتے دل میں سوچتے ہوئے زھرا کے پیچھے چل دیں ۔……"عبدالرحمٰن اٹھ جاؤ ، اور کتنا سوؤ گے" ۔ ازرا بیگم ایک بڑے سے کمرے جس کے درمیان میں کنگ سائز بیڈ ، دائیں جانب سائڈ ٹیبل اس سے تھوڑا آگے فل سائز مرر اور اس سے آگے سلائیڈنگ ڈور سے باہر کی طرف گیلری تھی ، جو بہت خوبصورت نظارہ سمیٹے ہوئے تھی فلحال کالے پر دوں سے ڈھکی تھی ، بائیں جانب ڈریسنگ ٹیبل جس پر بہت مہنگی ، نفیس اور برانڈ کی چیزیں تھی، سامنے کی جانب واشروم ، ڈریسنگ کے ساتھ ایک وارڈروب