Chapter 1الرحمٰن الرحیم
تھا جو سلا ئیڈنگ ڈور سے بند تھا ، اس کے اندر بھی برانڈڈ کپڑے اور جوتے ، اس کی کلیکشن ایسی تھی کہ کوئی دیکھے تو تعریف کیئے بنانہ رہ سکے، داخل ہوتے گیلری کو چھپائے پردوں کو ھٹاتے ہوئے کہنے لگیں ۔وہ عبد الرحمٰن درانی تھا خاندان کا سب سے پرکشش خوبصورت شخصیت کا مالک لڑکا۔اس کی دادی اسے کہا کرتی ہیں ۔"یوسف کے بعد حسن عبد الرحمٰن پر تمام ہوا ہے"وہ خود بھی یہ بات جانتا تھا اس لیے اسے خود پر بہت غرور تھا۔اتنا کہ وہ اپنے سے کسی چھوٹے انسان کو منہ لگانا پسند نہیں کرتا تھا پھر وہ حیثیت میں چھوٹا ہو۔۔۔خوبصورتی میں پیسے میں یا پھر ذہانت میں ۔۔۔۔۔"کیوں؟ کیا ہوا ہے؟" وہ اپنے خوبصورت نقوش اور ہیزل گرین آنکھوں کو کمبل کی مدد سے سورج کی کرنوں سے بچاتے جو پردہ ہٹنے کی وجہ سے اس کے چہرے کو واضح کررہی تھیں ڈھکتے ہوئے کہنے لگا۔وہ زیادہ سونے کا عادی تھا اسے جلدی اٹھایا جا رہا تھا۔" بچے آج جلدی اٹھ جاؤ ۔۔۔۔" ازرا بیگم اس کے اوپر سے کمبل کو ہٹاتے ہوئےکہنے لگیں ۔ازرا یعنی فیشن کا جیتا جاگتا ثبوت ۔۔۔۔وہ عورت عمر کے تیسرے حصے میں تھی اور ایسی دکھتی تھی جیسے کسی بڑے برینڈ کی ماڈل ہو ۔۔۔۔اسے دیکھ کوئی اسے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ عورت45 کو پہنچنے والی ہے ۔"کیا ٹا ئم ہوا ہے"۔ وہ نیند سے بیدار ہوئی آنکھوں کو اپنی ماں کی جانب کرتے اپنے سیاہ ہو نٹوں کو حرکت میں لاتے کہنے لگا ۔اس کے ہونٹ اس کے نشہ کرنے کا ثبوت دیتے تھے ۔حیرت کی بات تھی وہ پھر بھی خوبصورت دکھتا تھا ۔"آٹھ بج چکے ہیں " ۔ وہ پیار سے عبدالرحمان کے بھورے بالوں میں اپنی انگلیاں چلانے کے لیے ہاتھ بڑھاتے کہنے لگی تھی ۔جب عبدالرحمٰن نے ان کا ہاتھ وہیں پر پکڑ کر روک دیا ۔"کیا ؟ ابھی صرف آٹھ ہوئے ہیں ، پھر اتنی جلدی کیوں اٹھا رہی ہیں؟ " ۔ وہ اکھڑے لہجے میں ان کا ہاتھ جھٹکتا کہنے لگا ۔"کیوں کہ ہمیں مال جانا ہے میں نہیں چاہتی کہ ہم زیادہ رش میں جائیں جتنا جلدی جائیں گیں ، اتنے کم وقت میں اور جلدی شا پنگ کرلے گیں ۔ " وہ اس کی حرکت پر خفگی کو چھپائے مسکراتے گویا ہوئی تھی ۔" تو آپ احان کو لے جائیں، وہ جاگا بھی ہوگا۔۔۔یا ڈرائیور کے ساتھ چلی جائیں مجھے پریشان نہ کریں۔ " وہ دوبارہ کمبل اپنے اوپر اوڑھے اپنی ماں کو کہنے لگا ۔ یہ تھا خوبصورت شہزادے کا اصل روپ بدتمیز اور نافرمان ۔۔۔۔۔ امیر گھرانےکی ایک بگڑی اولاد ۔"نہیں بیٹا اگلے ہفتے سے تمہارا آخری سمسٹر شروع ہونے والا ہے ۔ پھر تم شائد ہی گھر میں ملو اور تب احان ہی گھر میں ہو گا"۔ وہ اداس ہوتے اس کو اموشنل بلیک میل کرنے لگی ۔"تو ۔۔۔۔جیسے آپ کو فرق پڑتا ہے۔ " وہ آبرو آچکا کر خود پر سے کمبل ہٹائے تنزیہ ہنستا ان کے احساسات کو مجروح کرتا بے فکریہ کہنے لگا ۔ ازرا کے چہرے پر اداسی چھائی تھی انہیں بڑا لگا تھا۔وہ اگنور کر گیا جیسے اسے فرق نہ پڑا ہو ۔۔۔۔جیسے اسے فرق نہ پڑتا ہو۔یہ تھا عبد الرحمن درانی جسے دیکھتے ہی تمہیں اس سے محبت ہو جائے ۔۔۔۔جسے سنتے ہی تمہیں اس سے نفرت ہو جائے ۔"ہاں نہ ، اٹھو جلدی فریش ہو کر نیچے آؤ ،ناشتہ کر لو۔ میں نیچے انتظار کر رہی ہوں ۔ " وہ شانے آچکا کر اس کی کھڑی ناک کو ہاتھ لگاتے باہر نکل گئیں ۔ اور وہ ان کو جاتا دیکھتا رہ گیا ۔اور گہرا سانس بھر گیا ۔وہ منمنایا اور اٹھ کھڑا ہوا اسے اب ویسے بھی اسے نیند نہیں آنے والی تھی وہ ایک دفعہ اٹھ جو چکاتھا ۔"so Disgusting"….."آپ لوگ آ گئے اتنی جلدی ۔۔۔۔"زھرا عامر اور سارہ کو دیکھتی پوچھنے لگی ۔۔۔۔جو صبح صبح کسی کام سے باہر گئے تھے ۔۔۔عامر صاحب اس نے والد تھے جن کے ساتھ سارہ اپنی پڑھائی ختم ہونے کے بعد کام کا تجربہ لے رہی تھی ۔"ہاں ۔۔۔۔کام جلدی ہو گیا تو جلدی آ گئے ،ویسے بھی مجھے میری شہزادی کی بہت یاد آ رہی تھی ۔۔۔۔"عامر صاحب مسکرا کر اسے بتانے لگے ۔"ہمم۔۔۔۔ویسے جب آپ کا دل چاہتا ہے آپ بغیر بتائے کہیں بھی چلے