Chapter 1الرحمٰن الرحیم
کو دیکھ کر تم ضرور سراہو گے ۔۔۔۔جیسے پورے میں گھر میں ایک کونہ نمائش کے لیے ہو اور وہ ایک عبادت گاہ۔۔۔۔۔وہ اس ویلا میں داخل ہوئی تو لاؤنج میں داخل ہوتے ہی اس نے سلام دیا تھا ، وہ ہمیشہ سلام کرتی تھی کوئی جواب دے یا نہ دے ، کوئی ہو یہ نہ ہو۔ مگر ملازمہ ہمیشہ وہاں ہوتی تھیں جو اسے جواب دیتی تھیں ، مگر آج اسے ایک مرد نے بھی جواب دیا ۔ وہ پلٹی اور اپنے بابا کو دیکھ کر کمرے میں چلی گئی اور چینج کر کے واپس آئی ۔"کیسے ہیں آپ؟ " وہ مخصوص لہجے میں پوچھنے لگی تھی ۔"ٹھیک ہوں ، تم ٹھیک ہو کوئی پرابلم تو نہیں ہے نہ" اسفند محمود لہجے کے شخت انسان تھے جو مخصوص بھاری اور رعب دار آواز میں پوچھنے لگے ۔"نہیں، میں ٹھیک ہوں ۔" وہ نرمی اور محبت سے بولی تھی کیا کہیں سے لگتا تھا کہ سامنے بیٹھا مرد اس کا باپ تھا ۔۔۔۔بلکل نہیں ۔۔۔۔" ہمممم۔۔۔۔ تو آؤ کھانا کھا لیتے ہیں۔" وہ بولے تو وہ سر خم کیے ان کے ساتھ چلتی ڈائننگ ہال میں آئی اور مخصوص نشست پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔۔لمبے میز پر پلیٹوں اور کرسیوں کو سہی سے سیٹ کیا گیا تھا ۔۔۔میز کے درمیان میں رنگ برنگے کھانے تھے جو اسفند محمود کی آمد پر بنے تھے ۔میز کے ایک سرے پر اسفند محمود خود اور دوسرے سرے پر فاطمہ بیٹھی تھی ۔یہ فاصلہ صرف میز کا نہیں تھا دلوں کا بھی تھا ۔" تمہیں کچھ بتانا تھا ۔۔۔۔" اسفند محمود پہلا لقمہ لینے کے بعد موت سی چھائی خاموشی کو توڑتے بولے تھے ۔"جی ، آپ بولیں میں سن رہی ہوں "۔ فاطمہ پر نہ ماحول کا اثر ہوا تھا نہ کسی رعب کا ۔۔۔۔جن کے دل نرم ہوتے ہیں انہیں کسی کا خوف نہیں تھا ۔۔۔۔" مبشرہ پاکستان آرہی ہے اب وہ ہمارے ساتھ ہی رہے گی ۔۔۔۔" اسفند صاحب ماحول میں تشنگی بڑھائے بولے تھے ۔فاطمہ کے ہاتھ رکے تھے ۔منہ کی طرف بڑھتا لقمہ واپس پلیٹ میں جا گرا تھا ۔فاطمہ گہرا سانس لیتے بولی ۔"کیا تمہیں اس بارے میں کچھ کہنا ہے ؟ " اسنفند صاحب سب کی بار کھانا چھوڑے اس کی جانب متوجہ تھے ۔"نہیں ، آپ فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ ان کا گھر ہے ، میں کیا کہہ سکتی ہوں آپ نے ان سے شادی کرنے سے پہلے بھی مجھ سے نہیں پوچھا تو مجھے نہیں لگتا میری رائے کوئی معنی رکھتی ہے ، میں اپنی رائے وہاں دوں گی جہاں اس کی عزت کی جائے"۔ وہ نرمی سے کہہ رہی تھی ۔ مگر وہ مسکرا نہیں پائی تھی۔اب وہ یہاں اور نہیں بیٹھ سکتی تھی ورنہ یقیناً اپنا صبر کھو دیتی اور رونے لگتی ۔۔۔۔وہ کھانا چھوڑے آٹھ کر جانے لگی تھی ۔" مجھے ایک اور بات بھی کہنی ہے۔ "اسفند صاحب اس کو چلتے قدموں کو روک گئے تھے ۔فاطمہ رکی تو وہ بولے ۔"میں تمہیں تمہاری ماں سے ملوانا چاہتا ہوں" ۔ فاطمہ جو نظریں زمین پر گاڑھے بات مکمل ہونے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ جا سکے ان کی بات کو سنتی اچانک اپنی کالی گہری انکھیں اٹھا کر اپنے بابا کو دیکھنے لگی ۔ وہ پلک جھپکائے بغیر انہیں دیکھ رہی تھی ۔"کیا؟ " ۔ وہ حیرانی اور بے یقینی کے ملے جلے تاثرات لیے بولی ۔" اگلے ہفتے تیار رہنا ۔۔۔۔" جب کے اسفند محمود کہتے اٹھ کھڑے ہوئے اور لمبے لمبے ڈگ بھرتے گھر سے نکل گئے ۔وہ صرف انہیں جاتا دیکھتی رہی ۔دماغ میں ہزار سوچوں نے بسیرا کیا تھا ۔۔۔۔اور وہ انہیں سوچوں میں کہیں گم ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کلاس لینے کے بعد وہ تینوں پھر سے ملی اور اب وہ کیفے کی جانب جا جارہی رہی تھی ۔ کہ اچانک ایک لڑکے نے فاطمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا ۔" جان من کبھی ہمیں بھی اپنا حسن دکھا دو، کبھی تو پردے ہٹاؤ ۔۔۔۔۔" ۔ وہ لڑکا فلرٹی انداز میں کہہ رہا تھا ۔وہ اس لڑکے کو پہلے بھی دیکھ چکی تھی ۔شائد عبدالرحمٰن کے ٹولے میں ۔۔۔۔۔جبکہ یہ سنتے ہی جو چیز فاطمہ اور زینب اگنور کر چکی آگے بڑھ گئی تھی وہیں زھرا غصے سے لال ہوتی آنکھوں میں وحشت لیے اس لڑکے کو گھورنے لگی تھی اس کی آنکھوں