Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 34 of 44 77% Completed ~4 min read

گلے میں کچھ لاکٹ نماں لٹکا رکھا تھا اور ہاتھوں میں مخصوص دو چھلے اور ایک بریسلٹ سہ پہنے ہوئے تھا جن کے اوپر آگ نکالتا ڈریگنگ اسے بیڈ بوائے کی صاحب دے دیا تھا۔ مگر وہ سچ میں قابلِ تعریف انسان تھا ۔جو ایسے حلیے میں بھی اچھا دکھ رہا تھا ۔"کیا چاہیے تمہیں ؟" وہ کچھ قدم دور ہوتی بولی ۔" میں اب اتنا بھی بڑا نہیں ہوں کہ آپ میرے ساتھ بیٹھنا بھی پسند نہ کریں میں تو صرف آپ کا نام پوچھنے آیا تھا ۔۔۔۔لائق شہزادی کا کوئی نام تو ہوتا ہے نہ ۔۔۔" عبدالرحمٰن اس کی حرکت پر اعتراض کرتا بولا ۔"میرا نام جان کر تمہیں کیا کرنا ہے ؟" وہ اسی سختی سے سیاہ آنکھوں میں شک لیے پوچھنے لگی جو ہمیشہ اس سے بات کرتے ہوئے اس کے مزاج میں آ جاتی تھی۔" اچھا سوال ہے ۔۔۔۔مگر پہلے تم بیٹھ تو جاؤ ۔۔۔۔" عبدالرحمٰن اپنی جگہ سے تھوڑا پیچھے ہٹتا آپ سے تم پر آتا بولا۔"نہیں مجھے نہیں بیٹھنا ۔۔۔۔اور اپنی حدیں مت بھولو میں تمہاری دوست نہیں ہوں۔۔۔"وہ اسی لہجے میں اس کے آپ سے تم پر آنے پر ملامت کرتی بولی ۔" ٹھیک ہے تو میں کھڑا ہو جاتا ہوں ۔۔۔۔" وہ اب کھڑا ہو چکا تھا ۔"تمہیں کیا چاہیے سیدھا سیدھا بتاؤ ۔۔۔۔" زھرا چھوٹی آنکھوں میں غصہ اورشک لیے بولی۔" میں نے بتایا تو ہے بس تمہارا سوری آپ کا نام جاننا چاہتا ہوں ۔۔۔" وہ پر سکون انداز میں ہی بولا تھا ۔" اور اس کا تم کیا کرو گے؟" اس کا شک بڑھ رہا تھا ۔"آپ خود سوچیں ایک انسان نام کے ساتھ کیا ہی کر سکتا ہے ۔۔۔زیادہ سے زیادہ بھی میں صرف آپ کو بلا ہی سکتا ہوں ۔۔۔۔"وہ اس کے شک کو دور کرنے کی کوشش کرتا بولا ۔"تم چاہتے ہو میں تم پر بھروسہ کروں اپنی شکل دیکھی ہے ۔۔۔۔اور رہی بات بلانے کی تو کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے بلانے کی ۔۔۔۔" وہ ہاتھ کھڑا کرتے ہوئے دو ٹوک سی بولی ۔"میری شکل ۔۔۔۔۔ایسا تو نہ کہو یونیورسٹی مجھے مسٹر ہینڈسم کے نام سے جانتی ہے۔" وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتا بولا تھا۔"تم سے بات کرنا انتہائی فضول کام ہو گا جو یقیناً میں نہیں کرنے والی ۔۔۔۔اور جس مقصد کے لیے یہاں آئے وہ اسے بھول جاؤ اور چلے جاؤ ۔۔۔بلکہ رکو میں خود ہی چلی جاتی ہوں ۔۔۔۔" وہ کہتی مڑتی وہاں سے لمبے قدم لیتی چلی گئی ۔"غصہ ہمیشہ تمہاری ناک پر رہتا ہے یاصرف میرے ملنے پر ایسی ہو جاتی ہو ۔۔۔۔۔" عبدالرحمٰن دل میں گویا ہوا اور گہرا سانس بھرتا دوبارہ نبچ پر بیٹھ گیا ۔اور پھر ایک ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر ابھری اور وہ اسی جانب دیکھنے لگا جس جانب وہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔تینوں دوستیں اگلے ہی دن ایک دوسرے سے وقت نکالتی ملی تھیں۔ جب بہت ساری باتیں کرنے کے بعد انہیں یاد آیا تھا کہ انہوں نے تو ایک دوسرے کو جاننے کے لیے سوال کرنے تھے ۔جب زینب نے انہیں یاد دلایا تھا ۔"میں تم لوگوں کو کیسے بتاؤں کیونکہ مجھے آلموسٹ ہر چیز ہی پسند ہے ۔۔۔۔بس کچھ چیزیں نہیں پسند جو شائد تم لوگوں کو پسند ہوں ۔۔۔" وہ دونوں سب سے پہلے زھرا سے اس کی پسند کی چیزیں پوچھنے لگی تو زھرا جواب میں بولی تھی ۔"تو ایک اور کام کرتے ہیں ، ہم میں سے کوئی ایک ایک چیز کا نام لے گا اور پھر تینوں ہاں نہ میں جواب دے کر بتائیں گیں کہ وہ چیز آپ کو پسند ہے یا نہیں جس کو ہم ایک ڈائری پر کالم کی صورت میں لکھ لیں گےاور پھر ہماری رائے کے مطابق ہم تین کالمز میں نام کے نیچے ٹک کراس لگا دیں گے۔" ۔ زینب اپنا دماغ استعمال کرتی بولی ۔ہاں یہ ٹھیک ہے ، یہی کرتے ہیں"۔ فاطمہ اس کی بات پر رضا مند ہوتی ہاں میں سر ہلاتی کہنے لگی ۔"میرے پاس یہ ڈائری ہے میں نے کل ہی خریدی ہے اس پر کچھ نہیں لکھا اسی پر لکھ لیتے ہیں"۔ زھرا اپنے بیگ سے ایک بلیک کور والی ڈائری نکال کر کھولتے بولی ۔" اچھا میرا ورڈ بکس۔۔۔ میری طرف سےڈبل ٹک ۔۔۔۔" زھرا بولتی ہوئی ڈائری پر چار کالم بنائے ایک میں چیزوں کے نام اور باقی تینوں میں تین نام

Prev Next Page