Chapter 1الرحمٰن الرحیم
دیکھا جہاں سرخ مائع بڑے سے ٹیٹوکو پار کرتا ہاتھ کی جانب بڑھ چکا تھا اور اب بوندوں کی صورت میں زمین پر گر رہا تھا ۔شیشے کا بڑا ٹکرا جسم کے اندر جا چکا تھا ۔اس نے ضبط سے آنکھیں بند کرتے اپنے کندھے کی جانب دیکھا اور اپنا ہاتھ شیشہ نکالنے کے لیے بڑھایا ۔اس نے پوری طاقت سے شیشے کا ٹکرا جسم سے نکالا تھا۔سیاہ شرٹ پر خون نمایاں نہیں ہوا تھا مگر بازو ضرور خون آلودہ ہو چکا تھا ۔خون کے سرخ قطرے تیزی سے زمین پر گر رہے تھے ۔عبدالرحمٰن نے ہیزل آنکھوں جن میں سرخی مائل ہو چکی تھی کا رخ سامنے کھڑے انسان کی طرف کیا جو کچھ دیر پہلے ایسے چلا رہا تھا جیسے کسی ریاست کا سربراہ ہو اور اس وقت ایسے بھیگی بلی بنا خوف کی زد میں تھا کہ ماتھا پسینے سے بھر چکا تھا ۔ عبدالرحمٰن کو اپنے زخم سے زیادہ اپنی تذلیل کی پرواہ تھی جو اس کے مطابق اسے گلاس مارنے کر کی گئی تھی۔عبدالرحمٰن اسے بلکل سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔ جب اچانک ہونٹوں میں جنبش ہوئی اور عبدالرحمٰن ہنسنے لگا اور پھر پورے کیفے میں عبدالرحمٰن کا زور دار قہقہ گونجنے لگا ۔سامنے والے شخص کا تو سانس بھی سوکھ چکا تھا۔وہ اس کے قہقے سے ڈر چکا تھا۔ کیونکہ یقیناً ایسی حالت میں کسی کا ہنسنا کسی کو بھی ڈرا دیتا ۔۔۔۔جبکہ عبدالرحمٰن کو سامنے والے کے سانس سوکھتے دیکھ کر لطف آ رہا تھا ۔۔۔وہ تو ایسے زخموں کا عادی تھا مگر یہ سامنے والا کہاں جانتا تھا وہ تو خود سے لبریز پسینے میں چور تھا اور اسے اپنے درد سے زیادہ سامنے والے کا خوف لطف دے رہا تھا۔"سوری ۔۔۔۔۔میری غلطی نہیں ہے۔۔۔۔ وہ بد بخت جھکا تھا ۔۔۔" وہ نوجوان شخص اب عبدالرحمٰن کے پاس آتا گرگرا کر بول رہا تھا ۔اس کی ہوائیاں اڑنے کی آدھی وجہ تو عبدالرحمٰن کا حلیہ تھا ۔آدھی پونی میں قید لمبے بال ،بازو پر موجود آگ نکالتا ڈریگن ۔۔۔۔سیاہ لباس انگلیوں میں موجود دو انگوٹھیاں اور کلائی میں رولیکس کی نئے ایڈیشن والی گھڑی ۔۔۔۔اس کا حلیہ اسے مافیا گینگ کے لیڈر سہ دکھا رہا تھا ۔۔۔۔جس کو دیکھ سامنے والے کے سانس سوکھ رہے تھے ۔"کام ڈاؤن ڈیئر ۔۔۔۔" عبدالرحمٰن ابھی بھی ہنستے ہوئے ہی بول رہا تھا ۔جب کہتے ہی پھر سے اس کا قہقہ گونج اٹھا ۔"مجھے پلیز معاف کر دو ۔۔۔۔۔تم جو کہو گے میں کروں گا ۔۔۔۔۔پلیز مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔" جہاں اس کا غصہ اس پر حاوی آتا اس سے پہلے ایک غلطی کروا چکا تھا اب کی بار اس کا خوف اس پر حاوی آتا اسے ڈوبوانے والا تھا ۔ عبدالرحمٰن کا پر سکون لہجہ اسے اور خوف میں مبتلا کر رہا تھا ۔" کچھ بھی ۔۔۔۔" عبدالرحمٰن اب اس کی جانب جھکتا آبرو اٹھائے تجسس سے پوچھنے لگا تھا۔"ہاں کچھ بھی ۔۔۔۔" وہ انسان سر اٹھاتا خوف میں ڈوبا چہرہ اس کی جانب کیے بولا ۔"امم ہممم ۔۔۔۔۔ایک کام کرو ۔۔۔" عبدالرحمٰن اب کچھ سوچتے ہوئے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔چہرے پر ہنسی مر چکی تھی بلکل سنجیدگی چھائی تھی۔۔۔"اپنی مہنگی شرٹ اتار دو ۔۔۔۔اونچی آواز میں آئندہ بات مت کرنا خاص طور پر میرے سامنے ۔۔۔۔جس گاڑی پر آج تم آئے ہو وہ یہیں چھوڑ جاؤ ۔۔۔۔" عبدالرحمٰن کہتے کرسی پر جا بیٹھا ایک ٹانگ لمبی کیے اور ایک موڑے کرسی پر بیٹھتے اس نے بالوں میں ہاتھ پھیرا اور کندھے کو دیکھنے لگا ۔"اور میرا نقصان۔۔۔ پیسوں سے پورا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔" آنکھوں میں انتہا کی سرد مہری جو مقابل میں خون کو جما گئی تھی اور ۔۔۔۔"جتنی بے عزتی تم نے ویٹر کی کی ہے اتنے ہی پیسے اسے دے دو اور ہاں ۔۔۔۔"اب کی بار وہ خوف زدہ چہرے کی جانب جھکا تھا ۔"تم ایک بات یاد رکھنا وہی کافی ہے۔۔۔۔۔کہ تم نے غلط آدمی پر ہاتھ اٹھایا ہے ۔۔۔اور یہ بات ہمیشہ تمہارے اندر خوف کو زندہ رکھے گی ۔۔۔۔۔ اور دوسروں میں۔۔۔۔ میرا خوف میری پسندیدہ چیز ہے ۔۔۔"وہ اب کی بار دونوں ڈمپل گال پر نمایاں کرتا بولا اور اس کو وہاں سے چلے جانے کا اشارہ کرنے لگا جب وہ خوف سے جیب میں موجود ہر چیز سامنے ٹیبل پر رکھتا وہاں سے بھاگ گیا ۔۔۔۔"ہمیں ہسپتال چلنا چاہیے ؟" جبکہ ازرا بیگم اسے دیکھتی