Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 14 of 44 32% Completed ~4 min read

ہنسنے لگی ۔"پاپا آپ یہاں سے زھرا اور ماما کا فلیور لے لیں ، میں اپنا اور آپ کا دوسری طرف سے لے آتی ہوں۔" سارہ عامر صاحب سے بولنے لگی ، کیونکہ اس کیفے میں ہر فلیور کے الگ پورشن بنے تھے ، جہاں زھرا اور بنتِ بیگم کا بتایا گیا فلیورا ایک ساتھ جب کہ سارہ اور عامر صاحب کا پسندیدہ فلیور آخر پر پڑا تھا۔جہاں سے آئس کریم کپوں میں خود بھرنی تھی اور آخرمیں بس پیسے دے دینے تھے ۔"ہاں ٹھیک ہے جلدی آنا۔۔۔میں یہیں انتظار کروں گا"۔ عامر صاحب ہدایت کرتے کپ اٹھا کر اپنے کام میں لگ گئے اور سارہ ہدایت و صولتی آخری والے پورشن میں آگئی ۔سارہ اپنی آئس کریم ڈانے میں مصروف تھی ۔جب اچانک اسے اپنے پیچھے کسی کے ہونے کا احساس ہوا ۔اسنے رفتار تیز کر دی تاکہ پچھلے بندے کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے ۔"بےبی تھوڑا جلدی کرو ۔۔۔۔کہو تو ہم تھوڑی مدد کروا دیں ۔۔۔۔" پیچھے سے جب ایک لفنگے لڑکے کی آواز آئی جس کے ساتھ اور بھی لڑکوں کی سرگوشی کی آوازیں موجود تھی ۔۔۔۔۔ تو سارہ کو احساس ہوا کہ اس کے پیچھے لڑکوں کا ایک گینگ موجود تھا۔۔۔۔اس نے نفی میں ہلاتے ہوئے اسے نظر انداز کیے دوسرا کپ بھرنا شروع کیا ۔۔۔۔۔جب اسے اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا جیسے کوئی اس کے قریب تھا اس نے بغیر سوچے سمجھے مڑتے ہوئے آئس کریم کا کپ اپنے پیچھے کھڑے لڑکے پر انڈیل دیا جس کی کمر اس کی جانب تھی ۔۔۔شائد وہ ان لڑکوں کے گینگ کا حصہ نہیں تھا۔وائٹ شرٹ پر کیریمل فلیور کے نشان بن چکے تھے ۔سارہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تھا اس نے ضبط سے آنکھیں مینچیں ۔۔۔۔وہ لڑکا خود سے کسی چیز کے ٹکرانے کا احساس کرتا پیچھے مڑا تھا ۔۔۔۔اپنی سفید جیکٹ پر مہرون نشان دیکھتا وہ سامنے کھڑی لڑکی کی طرف متوجہ ہوا تھا۔بھوری آنکھوں والا لڑکا بھوری آنکھوں میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ایک طرف سوال تھا اور ایک طرف شرمندگی کی صورت میں جواب ۔۔۔۔جب پیچھے موجود لڑکے خاموشی سے وہاں سے رفو چکر ہو گئے جیسے معاملہ بگڑنے والا ہو اور وہ لوگ کسی طرح یہاں سے جائیں ۔"ایم سوری ۔۔۔۔مجھے لگا ۔۔۔۔""اٹس اوکے ۔۔۔۔میں سعد ہوں اس کیفے کا اونر ۔۔۔ان لڑکوں کو آپ کے پیچھے کھڑا دیکھ کر انہیں یہاں سے جانے کا کہنا آیا تھا ۔۔۔میں آپ سے معزرت چاہتا ہوں اگر آپ کو کوئی تکلیف ہوئی ۔۔۔امید ہے آپ آئس کریم انجوائے کریں گی ۔۔۔۔" سارہ کچھ بول رہی تھی جب سعد نے اسےٹوکا اور اسے کچھ کہنے کی بجائے خود معزرت کرنے لگا ۔اس نے ایک بار بھی سارہ کو شرمندہ کرنے کے لیے خود نہیں بولا تھا جو بات سارہ کو اور شرمندہ کر گئی اور وہ آئس کریم کا کپ دوبارہ بھرتی عامر صاحب کے پاس آ گئی۔۔۔۔بہرحال اس کا موڈ بگڑ چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ازرا عبدالرحمٰن کو ہسپتال لے جا کر پٹی کروا کر سیدھا گھر کی جانب رواں ہوئی ۔گاڑی ایک سوسائٹی میں انٹر ہوئی تھی ۔جہاں کے محل جیسے لگثری گھر سوسائٹی کے ایلائٹ ہونے کا ثبوت تھے ۔ اسلام آباد کا یہ ایلائٹ ایریا E-7 کہلاتا تھا۔جب گاڑی ایک بڑے گیٹ کے سامنے رکی تھی بڑا گولڈن سفید اور سیاہ رنگ کا لوہے کا وزنی گیٹ ۔۔۔۔ہارن سنتے ہی فوراً سے دروازہ کھلا تھا۔ڈرائیور نے گاڑی اندر کی جانب بڑھائی ۔۔۔۔۔کچھ فاصلہ طہ کرتی گاڑی محل کے داخلی دروازے پر رکی تھی ۔۔۔۔محل جیسے بڑے گھر کا دروازہ بند ہوا اور دو ملازم وقت ضائع کیے بغیر بھاگتے ہوئے گاڑی کے پاس آئے گاڑی کے دروازے کھولے ۔۔۔۔ازرا بیگم نے اپنا بیگ ملازمہ کو پکڑایا اور گاڑی سے اترتی ایک وقار سے چلتی ہوئی محل نما گھر میں داخل ہوئی جن کے ساتھ سے تیزی سے چلتا ہوا عبدالرحمٰن سفید سنگِ مرمر سے بنی گول سیڑھیاں چڑھتا اوپر کی جانب بڑھ گیا ۔جبکہ ازرا بیگم اسے دیکھتی گہرا سانس بھر گئی اونچی چھت پر لگے بڑے فانوس اور سنگ مرمر کے نفیس خوبصورت فرش پر چلتی ہوئی وہ مرکزی ہال میں داخل ہوئیں جو بلکل خالی تھا ۔جہاں پر لگے بھارے پردے اونچی چھت اور نفیس فرنیچر بھی اس جگہ کو بھرنے میں نا کام رہے تھے ۔وہ گہرا سانس بھرتی صوفے پر بیٹھی ۔۔۔۔۔اور سر صوفے کی پشت

Prev Next Page