Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 40 of 44 91% Completed ~4 min read

کی بک میں پہلی نظم کو حمد کہتے تھے جو اللہ کی تعریف پر مبنی ہوتی تھی یاد ہے نہ ۔۔۔۔" زھرا پوچھنے لگی تو دونوں نے اثبات میں سر ہلایا۔"ہمم۔۔۔۔اسی کے ساتھ حمد کے ساتھ "ال" لگانے کا مطلب ہے ساری کی ساری تعریف یعنی جیسے جس طرح سے تعریف ہو ساری کی ساری تعریف اللہ کے لیے ہے۔۔۔اب جو لفظ ہے اللہ ۔۔۔اللہ ایک ایسا لفظ ہے جو واحد ہے اور اس کا کوئی جمع نہیں ہے اور ایک ایسا لفظ ہے جو واحد اللہ کا ہے ایسا نام جو آج تک اپنے لیے کوئی نہیں چن سکا کتنے ہی مشرک اور کفار آئے مگر کسی نے اپنا نام اللہ نہ رکھا کیونکہ یہ صرف اسی کا نام ہے ۔۔۔۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ جب ہم اللہ کہتے ہیں تو اسی ایک نام میں ہی اللہ کی ساری صفات آ جاتی ہیں ۔۔۔۔" زھرا سمجھاتے ہوئے رکی تھی ۔"ایک مثال سے سمجھاتی ہوں ۔۔۔۔دیکھو اگر ہم کہیں رحمٰن ۔۔۔۔تو ہم نے یہاں پر اللہ کی ایک صفت کا بیان کیا ہے ۔۔۔۔صرف ایک صفت کا یعنی مہربان ۔۔۔۔اگر ہم کہیں خالق تو ہم کہہ رہے ہیں پیدا کرنے والا اگر ہم کہیں رازق تو ہم کہہ رہے ہیں رزق دینے والا یعنی ہم لوگ ان ناموں سے اللہ کی صرف ایک صفات پر زور دے رہے ہیں جبکہ اللہ ایسا نام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی سب صفات آ جاتی ہیں اب سمجھے ۔۔۔۔" وہ پوچھنے لگی تو دونوں نے مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا ۔"اب اگر تیسرے لفظ کو دیکھیں تو وہ ہے رب۔۔۔۔اب رب کون ہوتا ہے ؟ رب کہتے ہیں مالک کو،پالنے والے کو ،پرورش کرنے والے کو ۔۔۔۔اور عالمین جو ہے وہ عالم سے نکلا ہے جس کے معنی سارا عالم یعنی ساری دنیا ہے ۔۔۔۔" وہ سانس کے لیے رکی تھی ۔"اب اللہ نے الحمد کے ساتھ اللہ اس لیے لگایا کیونکہ اللہ کے نام میں اللہ کی ساری صفات آ جاتی ہیں اور حمد میں ان ساری صفات کی تعریف مکمل ہو جاتی ہے ۔۔۔۔اور پھر عالمین کے ساتھ رب اس لیے لگایا کیونکہ وہی عالم کو پال رہا ہے ۔۔۔۔۔رب اللہ کی ایک صفت سمجھ لو اللہ نے عالم کے ساتھ اپنی صفت رب لگا کر یہ صاف صاف کہہ دیا کہ وہی ہے جو سارے عالم کو پال رہا ہے ۔۔۔۔۔چلا رہا ہے وہ الگ بات ہے جو شرک کرنا چاہتے ہیں وہ کر کے ہی رہتے ہیں۔۔۔۔سمجھ آئی ؟" وہ بات کا ایک حصہ پورا کرتی پوچھنے لگی ۔جب کہ زینب آنکھوں کو بڑا کرتے اسے دیکھنے لگی ۔"میں نے تو یہ کبھی سوچا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔" زینب حیرت سے منہ کھولے بولی تھی ۔"ہاں ابھی اور سنو۔۔۔پہلے یہ جانتے ہیں الرحمٰن اور الرحیم میں کیا فرق ہے؟ ""الرحمٰن کا مطلب ہے مہربان اور یہ ایسی صفت ہے جو کہ پوری دنیا کے لیے ہے ۔۔۔۔ایسی مہربانی جو دنیاکے ہر انسان کے لیے ہے جیسے ہوا پانی خوراک وغیرہ مختصر یہ ایک وسیع رحمت ہے اور رحیم یعنی رحم کرنے والا یہ وہ رحمت ہے جو خاص اللہ کے نیک بندوں کے لیے ہے ۔یعنی بخشش ،سکون ،ہدایت وغیرہ۔۔۔۔ جس کا مختصر ہو گا خاص رحمت۔۔۔""اب سوال ہے کہ دونوں نام ایک ساتھ کیوں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی رحمت وسیع بھی ہے اور خاص بھی ہے ۔۔۔ الرحمٰن پہلے ہے اس کی ایک وجہ یہ کہ اللہ کی رحمت پہلے وسیع ہے سب کے لیے اور بعد میں رحیم یعنی اللہ کی رحمت خاص بھی ہے اپنے خاص لوگوں کے لیے ۔۔۔۔۔۔اب یہاں پر ایک اٹرسٹنگ فیکٹ پتا ہے کیا ہے ؟" اب کی بار اس نے آنکھوں میں چمک تھی ۔دونوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوا ۔وہ اتنی غور سے سن رہی تھی کہ ہاں کہنا ہی بھول گئی۔"الرحمٰن پہلے ہونے کی ایک اور وجہ بھی ہے غور کرو اس سے پچھلی آیت رب العالمین ہے "العالمین" پہلی آیت کا آخری لفظ عالمین اور دوسری کا پہلا لفظ "الرحمٰن" ہے۔۔۔۔کچھ سمجھے ۔۔۔" زھرا نے لفظوں پر زور دیا ۔"ہاں اس کا مطلب یہ ہےکہ۔۔۔۔ رحمٰن چونکہ تمام انسانوں کے لیے وسیع رحمت ہے اور عالم سے مراد بھی پورا عالم یعنی ہر جن و انس اور جانور عالم میں آتے ہیں اس لیے اللہ نے رحمٰن کا لفظ پہلے

Prev Next Page