Chapter 1الرحمٰن الرحیم
وہ کب سے بھوک لگنے کی رٹ لگائے ہوئے تھی۔"فل پلیٹ پاستا ،فرائز اور صرف ایک برگر ۔۔۔۔اور ہاں مجھ سے کوئی لینے کی امید نہ رکھے ۔"۔ وہ واضح اعلان کرتی موبائل میں مصروف ہو گئی ۔جبکہ عامر صاحب مسکرا دیے ۔کیونکہ جانتے تھے وہ کھانے کی شوقین تھی اور واقع جتنا منگواتی سارا کھاتی تھی ۔"ماہ رانی صاحبہ پینے میں کیا پسند کریں گیں؟ " عامر صاحب دوبارہ پوچھنے لگے ۔۔۔۔" امم ،ایسا کریں منٹ مارگریٹا منگوا دیں ہضم بھی ہو جائے گا اور ہاں میں شہزادی ہی ٹھیک ہوں ، آپ میری ماما کو اتنی جلدی کیوں مار رہے ہیں ، ما نہ بوڑھی ہو گئی ہیں مگر اتنی جلدی تو نہ کریں ۔" وہ اپنے باپ کو دیکھ کر پہلے اونچا اور پھر آہستہ سے بولنے لگی ۔ کہ عامر صاحب اور ساتھ بیٹھی سارہ بھی اس کی بات پر مسکرا دی اور اگر کوئی نہ سن پایا تو بنتِ بیگم تھی جنہوں نے ابھی ہی اپنے کانوں میں ایئر پوڈز لگائے تھے ۔"عبد الرحمٰن کیا ہوا؟" ازرا عبدالرحمٰن کو دیکھتی بولی جو ایک جگہ نظریں ٹکائے مسکرا رہا تھا ۔"ہممم۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔" اب کی بار عبدالرحمٰن ہیزل گرین آنکھوں کا رخ ازرا کی جانب کرتا بولا ۔"ہمم ۔۔۔پھر بتاؤ کیا آرڈر کروں؟"ازرا بیگم سر اثبات میں ہلاتی ایک نظر کیفے میں گھوماتی پوچھنے لگی۔"کچھ بھی منگوا لیں۔۔۔۔" عبدالرحمٰن انہیں جواب دیتا اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوا تھا جس پر بہت سے نوٹیفکیشن آئے ہوئے تھے ۔سب سے اوپر ایک لڑکی کا نوٹیفکیشن تھا ۔جس کو دیکھ اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی ۔جیسے کوئی متوقع میسج ہو کسی متوقع انسان کا اس کے نیچے بھی بہت سے میسجز نمایاں تھے جن میں لڑکے لڑکیاں اور کچھ گروپس چیٹ موجود تھی ۔اس نے موبائل ویسے ہی واپس رکھ دیا ۔چہرے پر مسکراہٹ ابھی بھی قائم تھی ۔"اندھے ہو، نظر نہیں آتا، دیکھ کر نہیں چل سکتے ، میری اتنی مہنگی شرٹ برباد کر دی ، پتہ بھی ہے کتنے کی ہے ، تمہاری سال کی کمائی کو جوڑنے پر بھی نہ آئے"۔ ایک امیر زادہ جس کی شرٹ پر ویٹر سے غلطی سے جوس گر گیا تھا، غصے سے ویٹر کو جھرکتا سب کی توجہ کا مرکز بن چکا تھا ۔"سر، سوری سر " ۔ ویٹر جو شرمندگی کی کھائیوں میں گر چکا تھا مسلسل بول رہا تھا ۔" بکواس بند کرو، سوری کہنے سے کیا پیسے پورے ہو جائیں گے؟" وہ آدمی اب اور طیش میں اونچی آواز میں بولنا شروع ہو گیا تھا۔ جیسے آج اس غریب انسان کو تماشہ نہ بنایا تو گناہ کر بیٹھے گا۔جبکہ عبدالرحمٰن جوس کا گلاس ہاتھ میں پکڑے لڑائی کو انجوائے کرتے ہوئے جوس پینے لگا اس کی آنکھیں دونوں مقابل افراد پر ٹکی تھیں اور وہاں موجود ہر شخص جانتا تھا کہ جیت کس کی ہونے والی تھی بھلا امیروں سے مقابلہ کرتے کبھی غریب بھی جیتو ہے؟ ہاں جب تک مقابلہ غریبی میں جیتنے کا نہ ہو۔۔۔۔"اب بول کیا کرے گا پیسے دے گا میرا نقصان کیسے پورا کرے گا ۔۔۔۔۔" وہ آدمی قدرے بلند چلایا اور اس کے ہاتھ میں موجود گلاس چھینتا پوری قوت سے اس کی جانب اسے مارنے کے لیے بڑھایا جب ویٹر فوراً ہاتھوں کی مدد سے چہرہ ڈھکتا جھکا تھا اور گلاس اس کو لگنے کی بجائے پیچھے موجود سب سے زیادہ لطف اندوز ہونے والے ہیزل گرین آنکھوں والے شخص کے کندھے سے جا ٹکرایا اور چور چور ہو گیا ۔۔۔۔ عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں موجود گلاس ویسے کا ویسا تھا ۔۔۔۔۔شیشے کے ٹکڑے کپڑوں اور زمین پر ٹوٹے موتیوں کی مانند بکھر گئے ۔ازرا اپنی جگہ سے کھڑی ہو چکی تھی ۔اور منہ پر ہاتھ رکھے اس غصے میں پاگل شخص کی جانب دیکھنے لگی ۔عبدالرحمٰن کے لیے سب کچھ اتنا اچانک تھا کہ وہ پروسس کر رہا تھا۔۔۔۔۔وہ اچانک گلاس کے ٹوٹتے ہی کھڑا ہوا تھا ہاتھ میں موجود گلاس ٹیبل پر رکھا جب بہت سے اور ٹکرے بھی زمین پر جا گرے ۔۔۔۔۔ عبدالرحمٰن سامنے موجود آدمی کو دیکھنے لگا جس نے اس کی شان میں ایسی گستاخی کی تھی ۔کہ اچانک اسے اپنے بازو پر کسی کے موجود ہونے کے احساس ہوا جیسے کچھ چل رہا اور ہاتھ کی طرف بڑھ ہو ۔۔۔۔جیسے کچھ رینگ رہا ہو گر رہا ہو اس نے اپنے بازوکی جانب