Chapter 1الرحمٰن الرحیم
لکھے اپنے نام کے نیچے ٹک لگا گئی۔"میری طرف سے بھی ۔۔۔۔" فاطمہ بھی بولی ۔" میری طرف سے دونوں ۔۔۔۔" زینب کراس کی صرف ایک لائن کھینچتی رک گئی ۔"کیا مطلب ؟" فاطمہ سوالیہ نظروں سے بولی ۔" مطلب یہ کہ مجھے شوق بھی ہے اور نہیں بھی۔۔۔۔" ۔ زینب اپنی سچائی بتانے لگی۔"سچ بتاؤں تو چیزیں یاد کرنے سے مجھے بہت چڑھ ہے مگر میں ہر قسم کی کتابیں پڑھتی ہوں نالج کے لیے۔۔۔"زھرا اپنا بتانے لگی ۔"سچ بتاؤں تو میں کتابیں تو پڑھتی مگر میں ایک کتاب ایسی بھی پڑھتی ہوں جس سے ساری کتابوں کے مفہوم اخذ کیئے جاتے ہیں ، اتنی ساری کتابیں ہم صرف علم حاصل کرنے کے لیے پڑھتے ہیں تو میرے خیال سے ہم جتنی بھی کتابیں پڑھتے ہیں ۔۔۔ہوتی تو سبھی اچھی ہیں مگر کہیں نہ کہیں ان کے موضوع قرآن سے ہی آ ملتے ہیں جنہیں لمبی ڈیٹیل میں بتایا گیا ہوتا ہے ۔ " فاطمہ اب اپنی رائے دینے لگی ۔"میں تو رومانٹک ناولز پڑھتی ہوں۔۔۔دوسعی کتابوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں"۔ زینب اپنی سچائی بتاتی بولی ۔"ہاں وہ میں بھی پڑھتی ہوں مگر میں دوسری بھی کتابیں پڑھتی ہے قسم کی ۔۔۔۔" زھرا بھی اس کا ساتھ دیتی اپنے بارے میں بتاتی بولی ۔"یہی تو بات ہے کئی کتابیں قرآن مجید کی تفسیر بہت اچھی بیان کرتی ہیں ، جن سے ہم آسانی سے سیکھ سکتے ،جیسے ناولز کہانی کی کہانی اور علم کا علم۔یعنی مزہ بھی اور جزا بھی۔۔۔ اور سچ میں کتابیں نقصان نہیں پہنچاتی ، لیکن ہر کتاب کی بات نہیں کر رہی میں ،ہر کتاب ایک سی نہیں ہوتی اور یہی مزے کی بات ہے ہر کتاب تمہیں کچھ نہ کچھ علم ضرور فراہم کرتی ہے تو کتاب پڑھ کر اگر تمہیں لگ رہا ہے تمہارا وقت ضائع ہوا تو یہ صرف تمہارا گمان ہے ۔۔۔"۔ فاطمہ دونوں کو اپنی بات سمجھاتے ہوئے گویا ہوئی۔"لیکن میری ماما تو ہمیشہ کہتی ہیں کہ کتابوں سے زیادہ زندگی سیکھاتی ہے ، اس لیئے میں کتابوں سے نکل کر زندگی پر دھیان دوں "۔ زھرافاطمہ سے کہنے لگی ۔"وہ تمہاری ماماہیں ،اور ماؤں کا تجربہ ہوتا ہے وہ کبھی غلط نہیں ہوتی ایسے معاملوں تو کبھی نہیں مگر اپنی رائے دوں تو وہ شاید اس لیے کہتی ہیں کیونکہ کتا بیں ہر بار سیکھاتی ہیں ، اور زندگی صرف ایک بار سب کچھ ہی سیکھا دیتی ہے "۔فاطمہ زھرا کی طرف دیکھتی بولی ۔"مطلب اب میں کتابیں پڑھنا ہی چھوڑ دوں "۔ زھرا بڑا مناتے ہوئے پوچھنے لگی۔" نہیں ،میں نے ایسا تو نہیں کہا ، چلو ایک مثال دیتی ہوں تمہیں، دیکھو اگر تم سائنس کا ایک کنسیپٹ ٹیچر سے سمجھ رہی ہو تو جو ٹیچر بتا رہا وہ زیادہ سمجھ آئے گی یا پریکٹیکلی"۔ فاطمہ اسے بات سمجھاتی سوال پوچھنے لگی۔"افکورس پریکٹیکی ۔۔۔۔۔"اب کی بار زینب بولی ۔"ہمم ، اسی طرح اگر وہ پریکٹیکل تم نے خود کرنا ہو تو تم اچھا ہی تب کر پاؤ گی اگر تم پہلے سے ہی کنسیپٹ جانتی ہو گی جو ٹیچر (کتابوں) نے سمجھایا تھا ، کہ کون سی چیز کا استعمال کب کرنا ہے اور کس کا نہیں۔۔۔۔اسی طرح کتابیں تو ہمیں صرف سیکھاتی ہیں ان چیزوں کا جن کو ہم اپنی پریکٹیکل لائف میں کوئی پریکٹیکل امتحان آنے پر آسانی سے استعمال کر سکیں ، جیسے قرآن ہمیں سکھاتا ہے مشکلات میں صبر اور دعا کرنا اور اچھے حالات میں شکر کرنا"۔گریٹ ، مجھے سمجھ آگئی بہت اچھی "۔ زھرا مسکرا کر کہنے لگی ۔۔۔۔۔۔۔تینوں لڑکیاں اپنی گیم کی وجہ سے ایک دوسرے کو بہت اچھے سے جان چکی تھی۔۔۔۔ایک دوسرے کا پسندیدہ رنگ ،جوتا ،کپڑے اور سولر سسٹم میں موجود پلانٹس سے لے کر ایک دوسرے کا پسندیدہ بسکٹ وہ ہر چیز ڈائری پر لکھ چکی تھی ۔جہاں زھرا اور زینب کو فاطمہ کے ایک اور فیملی ممبر کا پتہ چلا تھا فاطمہ نے انہیں بتایا تھا ۔۔۔۔۔" میرے پاس فلوفی (fluffy) بھی ہے ، وہ میرے ساتھ بہت کھیلتا ہے ، اور مزے کی بات بتاؤں ایک دن فلونی میرے پاس اداس ہو کر آیا اور میں نے وجہ پوچھی تو وہ ایک بلی اور بلی کا بچہ لے آیا ، اس وقت میں بہت حیران تھی ، مگر اس کی حرکت پر مجھے بہت ہنسی آئی تھی ، جس کی وجہ سے وہ