Chapter 1الرحمٰن الرحیم

Page 37 of 44 84% Completed ~4 min read

دل میں محبت ہونی چاہیے ورنہ تحفے تو صحراؤں سے بھی آجاتے ہیں اور اگر نہ ہو توورڈ ٹور سے بھی نہیں آتے۔" زھرا اس کی بات کا بڑا مانتی گویا روٹھتی جواب دیتی بولی۔"ہاں بہت پڑھ لکھ لیا ہے تم نے یہ بھی پڑھ لو کہ کچھ دن بعد گھر آئے افراد کا حال بھی پوچھنا چاہیے "۔سارہ اب کی بار جواب میں اسے چوٹ کرنے لگی ۔"کیا حال پوچھتی میرے سامنے کھڑی ہو ٹھیک لگ رہی ہو اور کیا پوچھوں ؟" زھرا اپنے دفاع میں بولی تھی۔" ویسے تم صحیح کہہ رہی تھی محبت تو دل میں ہونی چاہیے ورنہ حال تو ویسے بھی پوچھا جا سکتا ہے بیڈ پر ہونالازمی تو نہیں ہوتا "۔ سارہ اب کی بار اس پر اسی کا وار واپس کرتے بولی ۔" بہت تیز ہو تم مجھے لگا کچھ بدل جاؤ گی۔۔۔۔" زھرا اب کی بار اس کی بات پر اس کے بازو پر ہاتھ کا مقہ مارتی بولی ۔"آہ ۔۔۔ہاں نہ درس لینے گئی تھی ناجو بدل جاتی"۔ سارہ بھی جواب دینے سے مڑی نہیں تھی ۔" اب بس کر دو تم دونوں ہر وقت لڑتی رہتی ہو اور تم ابھی تو وہ آئی ہے ۔۔۔آج تھوڑا پیار سے بات کرلو"۔ وہ جب ایک دوسرے کو جواب دینے سے نہ رکیں تو بنت بیگم دونوں کو مسلسل لڑتے دیکھ آخر بول ہی اٹھی ۔"ماما اپنی بیٹی کو سمجھائیں اس نے پہلے شروع کیا تھا " ۔ سارہ کہنے لگی ۔" میں نے ، تم تو ۔۔۔۔۔۔"" بس کرو ، تم دونوں میری شہزادیوں ، یہ لوچائے پیو"۔اب کی بار ملازمہ لاؤنچ کے درمیان رکھے ٹیبل پر ٹرے رکھنے لگی تو بنتِ بیگم انہیں بلاتی پیار سے کہنے لگیں ، جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چرانے لگیں ۔"ماما ، بابا کب آئیں گیں؟" اب کی بار سارہ کپ اٹھاتے چائے کا گھونٹ بھرتی بنتِ بیگم سے پوچھنے لگی ۔"ہاں ، میری آج ان سے بات ہوئی تھی ، تمہیں بتانا بھول گئی وہ کہہ رہے تھے ان کے پرانے دوست انہیں ملے ہیں ، اور ان کا کام ابھی پورا نہیں ہوا اس لیے ایک ہفتہ لگ جائے گا۔" بنتِ بیگم اس کے سوال کا جواب دیتی انہیں بتانے لگیں۔" کیا ؟" دونوں بہنوں نے مل کر حیرانی سے کہا۔"کیا مطلب آپ نے بھی کچھ نہیں کہا "۔ سارہ حیرانی سے بولی ۔" بابا ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہیں ، کہتے ایک دو دن کا ہیں اور آتے ہفتوں بعد ہیں۔" اب کی بار زھرا بھی منہ پھلائے گلہ کرتے بولی۔"میں جانتی ہوں مسئلہ کام کا نہیں ان کے دوست کا ہے ۔۔۔وہ اپنے دوست کے لیے ہی رکیں ہو گیں ۔۔۔۔مجھے کہتے ہیں میں جانتا ہوں میری شہزادیاں سمجھ جائیں گی ۔۔۔"بنتِ بیگم اپنی اور ان کی گفتگو بتانے لگیں۔"واہ ، یہ کیا ہوتا ہے ، پہلے تو غلطی اور پھر ایموشنل بلیک میل "۔ زھرا منہ بنائے کہنے لگی جب کہ بنتِ بیگم مسکرادیں۔ وہ تینوں ایسے ہی باتیں کرتی رہیں اور ایسے ہی ٹاپک بدلتی کچھ اور چیز پر بحث کرتی رائے دینے لگتی ۔۔۔ایسے ہی چلتا رہا اور عامر صاحب کے گھر میں کبھی گلے کرنے کی آوازیں آتی اور کبھی قہقوں کی آوازیں گونجتی ۔۔۔۔۔۔۔یہ اسلام آباد کی آسمان کو چھوتی عمارتوں میں سے ایک عمارت تھی جس کو دیکھنے کے لیے سر اٹھانا اٹھایا جائے تبھی دیکھ پاؤ گے ۔شیشے سے بنی شاندار بلڈنگ کے باہر ایک جانب کالم کی صورت میں بڑا سہ نام درج تھا لفظ بہ لفظ لکھا جانے والا نام دانیز گروپ ۔۔۔۔۔دور سے دیکھو تو بھی نظر آ جائے ۔۔عمارت میں داخل ہوں تو بیسمنٹ جو فلور کمپنی کا خاموش مگر سب سے قیمتی حصہ تھا ۔اوپر چلو تو دانیز گروپ کا گراؤنڈ فلور جہاں مرکزی ریسپشن ،کلائنٹس کے لیے انتظار گاہ ،درانیز گروپ کا تعارفی ڈسپلے ،سیکیورٹی ڈیسک موجود تھے یہاں باقی فلور کی نسبت رش زیادہ پایا جاتا ہے ۔دوسرے فلور پر آؤ تو ریسرچ ٹیم اور تجزیہ کاروں کو پاؤ گے۔یہاں فیصلوں کی بنیاد رکھی جاتی ہےاور اوپر بڑھو تو تیسرا فلور پورٹ فولیو مینیجرز کا تھا۔یہ فلور سرمایہ کو کنٹرول میں رکھنے میں کارآمد ہے ۔چھوتھا فلور لیگل اور کمپلائس کا تھا یہ فلور کمپنی کو قانونی تحفظ دیتا ہے۔پانچویں فلور پر انویسٹمنٹ کمیٹی موجود تھی جہاں بڑے فیصلے ہوتے تھے چھٹے فلور پر ایگیکیوٹ مینجمنٹ

Prev Next Page