Chapter 1الرحمٰن الرحیم
زھرا اس کو تجویز دیتی بولی ۔جس پر وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔"اووہوو۔۔۔ پاگل تو نہیں ہو ۔۔۔۔میں تو عام سی لڑکی ہوں ۔۔۔ہم جسیی عام لڑکیاں اتنی طاقتور نہیں ہوتی ہیں ۔۔۔میں تو اپنے بھائی کو نہیں مار پاتی اس کو کیا ماروں گی اور بتاؤ اگر اس نے واپس مجھ پر ہاتھ اٹھا دیا تو تو کیا کروں گی میں تو وہی پر ہار جاؤں گی گر جاؤں گی رونے لگ جاؤں گی ۔۔۔۔میری زندگی تم جیسی نہیں ہے نہ ہی میں کوئی شہزادی ہوں ۔۔۔۔نہ ہی تم جتنا جگرا ہے ۔۔۔میں اتنی مضبوط نہیں ہوں ۔۔۔۔" زینب اس کی بات پر آ کھیں پھاڑے اسے دیکھتی جواب دینے لگی ۔"تم جانتی ہو عورت مرد پر ہاتھ اٹھانے سے کیوں ڈرتی ہے ؟" زھرا اس کی باتوں کو غور سے سنتی پوچھنے لگی۔"کیوں ؟" زینب نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے پوچھا ۔"کیونکہ وہ اس بات سے نہیں ڈرتی کہ اگر مرد نے ہاتھ اٹھا دیا تو کیا ہو گا وہ اس بات سے ڈرتی ہے اگر اس نے ہاتھ اٹھا لیا تو کیا ہو گا ؟" زھرا بولی تو زینب اور فاطمہ جو اسے غور سے سن رہی تھی اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔"کیا!!!" زینب ماتھے پر شکن لائے آبرو ملاتے الجھے تاثرات دیتی بولی ۔"اس کا کیا مطلب ہوا ؟" فاطمہ بھی پوچھنے لگی۔"تم لوگ ایک دن خود ہی سمجھ جاؤ گی ۔۔۔۔" زھرا کہتی کھانے میں مصروف ہو گئی جبکہ فاطمہ اور زینب ایک دورسرے کو دیکھنے لگیں۔۔۔۔۔۔۔۔"برو تمہارا ارادہ کیا ہے آخر ؟ " جب عبدالرحمٰن انہیں دوسرے ٹیبل پر لے آیا تو زین اس سے پوچھنے لگا ۔"بتا نہ جو تو اتنا مہربان ہو رہا ہے آخر چاہتا کیا ہے ؟" ایک اور لڑکا اس کو چھیڑتا پوچھنے لگا ۔"کچھ نہیں ۔۔۔۔۔فلحال شہزادہ بننا ہے ۔۔۔۔" وہ کہتا دونوں ڈمپل نمایاں کر گیا ہیزل گرین آنکھوں کا رخ سیاہ آنکھوں کی جانب تھا ۔اور پورے ہال میں قہقہ گونج اٹھا سب انہیں ایک نظر دیکھ دوبارہ اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔اگلے ہی دن اتفاقاً تینوں کی پھر سے ملاقات ہوئی تھی اب کی بار وہ باہر موجود تھی ۔اسی بنچ پر جہاں پہلی بار تینوں اکھٹی ہوئی تھی ۔"تم دونوں گئی نہیں ابھی تک ؟" زھرا اسی بنچ پر آتے انہیں دیکھتی پوچھنے لگی۔"نہیں ۔۔۔۔انکل ابھی نہیں آئے ہیں ۔۔۔۔"زینب بولی ۔"میرے بھی ۔۔۔۔"ساتھ ہی فاطمہ بھی بولی ۔"میرے بھی… چلو پھر تینوں بیٹھ کر تھوڑی گپ شپ ہی مار لیتے ہیں ۔۔۔۔"زھرا ان کے پاس بیٹھتی بولی ۔"ہاں آج تھوڑا ایک دوسرے کو ہی جان لیتے ہیں۔۔۔بتاؤ کچھ اپنے بارے میں ۔۔۔۔" زینب اب کی بار اکسائیٹڈ ہوتی بولی۔"میں بتاتی ہوں سب سے پہلے ۔۔۔" زھرا بولی ۔"ہاں ٹھیک ہے ۔۔۔" دونوں لڑکیاں اسے سننے کے لیے تیار تھی ۔"میں زھرا نور ہوں اپنے بابا کی شہزادی ۔۔۔میری زندگی میں میرے کچھ اصول ہیں جن کو کوئی توڑے تو میں برداشت نہیں کر سکتی اور ان اصولوں کی پابندی مجھ پر فرض ہے ۔۔۔میں اپنے اصولوں پر چلنے کے لیے لڑ بھی سکتی ہوں اور جیت بھی سکتی ہوں ۔۔۔مجھے غصہ تھوڑی جلدی آ جاتا ہے اور میں دوسروں کی مدد کرنے میں پہل کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔۔میں جن سے تعلق بناؤں وفادار رہتی ہوں وہ چاہے نفرت کا ہو یا محبت کا ۔۔۔۔" زھرا انمی جانب رخ کیے بڑی بے نیازی سے ایک فخر سے بولتی گئی اور وہ سنتی رہیں۔۔۔۔"بہت اچھے ۔۔۔۔۔" آخر پر فاطمہ اور زینب اس کو داد دیتی بولی جس پر وہ مسکراتی کسی سلیبریٹی کی طرح انہیں بس کرنے کو بولا جیسے وہ اس کی تعریفیں کر کر مری جا رہی ہوں اور وہ انہیں روک رہی ہو ۔"اب تمہاری باری ۔۔۔۔" اب کی بار زھرا زینب کی طرف اشارہ کیے بولی۔"میں ۔۔۔۔" زینب نے گہرا سانس بھرا وہ بھی بولنے کے لیے تیار تھی ۔"میں زینب رضاق ہوں عام لڑکیوں سی ایک عام لڑکی ۔۔۔میری زندگی میں کوئی اصول نہیں ہیں ۔۔۔بس جیسی گزرتی ہے گزارتی جاتی ہوں ۔۔۔۔کوئی چیز پسند آجائے تو اسے اپنانے کی کوشش کرنے لگتی ہوں وہیں کوئی اس چیز کے بارے میں برا تبصرہ دے دے تو اسے وہیں چھوڑ دیتی ہوں ۔۔۔۔۔میرے لیے دوسروں کے الفاظ بہت معنی رکھتے ہیں بے شک میں انہیں جھٹکنے کی کتنی ہی کوشش کیوں نہ کروں مگر دوسروں کے میرے